سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس، منہاج القرآ ن کے 13کارکنوں کی سزائیں معطل

  سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس، منہاج القرآ ن کے 13کارکنوں کی سزائیں معطل

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی) لاہور ہائی کورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس میں ملوث ادارہ منہاج کے 13 کارکنوں کی سزائیں معطل کرتے ہوئے انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے،عدالت عالیہ نے جن کارکنوں کی ضمانت پر رہائی کا حکم دیاہے ان میں عالم شیر،اعجاز حسین،تنویر،جمعہ خان،عباس علی،محمد بلال،عبد الصمد،محمد رمضان،محمد بشیر،ملازم حسین،محمد غازی،نعیم اللہ اور محمد نواز شامل ہیں، درخواست گزاروں کے وکلاء نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ درخواست گزاروں کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کروائے گئے وہ 2014ء سے قید میں ہیں،ٹرائل کورٹ سے ملنے والی سزاؤں کے خلاف ان کی اپیلیں زیرالتوا ء ہیں،اپیلوں کے حتمی فیصلے تک انہیں ضمانت پر رہاکیا جائے،درخواست گزاروں کی طرف سے مزید موقف اختیار کیا گیا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ادارہ منہاج القرآن کے کارکن جاں بحق ہوئے تھے،اس بابت ادارہ منہاج القرآن کاپولیس اور دیگر متعلقہ حکام کے خلاف استغاثہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں زیرسماعت ہے،پولیس حکام نے درخواست گزاروں کے خلاف جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات درج کروائے،جن میں انہیں مختلف قسم کی سزائیں سنائی گئیں،ٹرائل کورٹ نے اس بابت حقائق کو پیش نظر نہیں رکھا۔عدالت نے اپنے عبوری حکم کے ذریعے درخواست گزاروں کوضمانت پر رہاکرنے کاحکم دے دیا،اس عدالتی حکم کے حوالے سے صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل ڈاکٹر حسین محی الدین قادری،پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور اور جواد حامد نے عدالتی حکم پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کہ انشا اللہ بے گناہوں کو مکمل انصاف بھی ملے گا اور ظلم کرنیوالے مزید نشانہ عبرت بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے قتل عام کے خلاف احتجاج کرنے پر دہشتگردی کی دفعات کے تحت کارکنوں پرجھوٹے مقدمات درج کئے گئے تھے جن میں سے 107 کو سزائیں سنائی گئیں۔ ایک کارکن دوران اسیری خالق حقیقی سے جا ملا،بقیہ اسیران کو بھی جلد ضمانت ملے گی چونکہ انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا۔ امید ہے جیل حکام لاہور ہائیکورٹ کے آرڈر پر بلا تاخیر عملدرآمد کرتے ہوئے عید سے قبل رہائی کو یقینی بنائیں گے۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن

مزید :

صفحہ آخر -