روزوں کی قضا

روزوں کی قضا

  

مولانا محمد اکرم اعوان

قرآن مجید کی سورۃ بقرہ میں ارشاد ہوتا ہے”گنتی کے چند دن ہیں،پس تم میں سے جو کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہوتو گنتی پوری کرے بعد کے دنوں میں،اور ان پر ہے جو طاقت رکھتے ہیں ایک نادار کوکھانا کھلانے کی۔پس جو خوشی سے کوئی نیکی کرے وہ اس کے لیے بہتر ہے اور اگر تم روزہ رکھو تو تمھارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔“

ایاما معدودت گنتی کے دن ہیں۔اللہ کریم کا یہ بھی احسان ہے کہ اس نے معدود یعنی گنتی کے دن رکھے ہیں۔وہ چاہتا تو سارے سال کے روزے رکھ دیتا،ساری عمر کے رکھ دیتا لیکن اس نے ایک خاص مبارک مہینے کو چن لیا۔یہ ایسا مبارک مہینہ ہے جو سال کے سارے مہینوں کا سردار ہے۔ روزہ رکھنے کے لیے گنتی کے دن ہیں لیکن روزے کے جو فوائد اور اللہ کی رحمتیں ہیں اور بخششیں ہیں وہ بے حد و بے حساب ہیں۔ان کی کوئی انتہا نہیں ہے اور اللہ کریم ہی جانتا ہے کہ روزے کا اجر کیاہے نبی کریم ﷺ نے فرما یا کہ روزے کے اجر کا شمار انسانی بس سے باہرہے۔

گنتی کے دنوں میں یہ رعایت بھی بخشی۔ فمن کان منکم مریضا او علی سفر فعدۃ من ایام اخرط اگر رمضان شریف میں کسی کو سفر درپیش ہے یا ایسی بیماری ہے جس کے لیے دوا کھانا ضروری ہے یا روزہ رکھنے سے بیماری کے بڑھ جانے کا اندیشہ ہے یا کوئی ایسی بیماری ہے جس میں باربار غذا لینا پڑتی ہے یا ایسے انجکشن لگا نے پڑتے ہیں جن میں غذائیت ہوتی ہے، تو وہ قضا کرلے اور جب صحت ہو تو جتنے روزے رہ گئے ہیں ان کو قضا کرلے۔کوئی سفر میں ہے اور اثنائے سفر سحری کا بندوبست نہیں ہوسکتا یا سفر ایسا ہے کہ اس میں روزہ رکھنا مشکل ہے تو اس کے لیے رعایت ہے کہ وہ رمضان شریف کے بعد جب سفر ختم ہو، اس وقت قضا کر لے۔و علی الذین یطیقونہ فدیۃ طعام مسکین ط یہ آیہ کریمہ بھی ان آیات مبارکہ میں ہے جن کا حکم منسوخ ہوگیا اور آیت باقی ہے کہ اگر کسی میں طاقت ہو تو وہ ایک روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا دے دے۔ یہ حکم اس طرح سے منسوخ ہوا کہ جو آدمی سفر میں بھی نہیں،صحت مندہے بیمار بھی نہیں،اس کے لیے یہ گنجائش ختم کردی گئی ہے لیکن ایسے لوگ جو عمر کے اس حصے میں ہیں کہ واپس صحت مند ہونے کی امید نہیں ہے یا بیماری ایسی ہے جس سے واپس آنے کی امید نہیں رکھتا،کسی کو شوگر ہے،کسی کو کینسر ہو گیا ہے،دن بدن کمزور ہورہا ہے،وہ عمر کے اس حصے میں پہنچ گیا ہے جس میں اب اس کا واپس صحت مند ہونا آسان نظر نہیں آتا تو اس کے لیے یہ حکم آج بھی موجود ہے۔وہ ایک روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلادے۔یہ بھی اس کی کرم نوازی اور رعایت ہے کہ اسے بھی رمضان شریف کا اتنا ہی جر نصیب ہوگا، ویسی ہی کیفیات نصیب ہوں گی،وہ رحمتیں،وہی عنایات ہوں گی جیسا روزہ رکھنے والے کے لیے ہیں۔

مختلف لوگوں کے کھانے کا معیارمختلف ہوتا ہے، ایک آدمی عام روکھی سوکھی کھاتا ہے،دوسرا اس سے زیادہ اچھا کھاتا ہے، تیسرا امیر ہے وہ بہت اچھا کھاتا ہے، تو ہر آدمی کا کھانے کا اپنا معیار ہے۔مسکین کے کھانے میں بھی یہ رعایت موجود کہ جس طرح کا کھانا وہ خود کھاتا ہے،اس معیار کا کھانا کسی مسکین کو کھلا دے یا اس کھانے کی اندازاً قیمت ایک روزے کے بدلے کسی مسکین کو دے دے۔ فمن تطوع خیرا فھوا خیر لہ لیکن اگر کوئی اس سے زیادہ دینا چاہے، اللہ کی راہ میں اس سے زیادہ خرچ کرنا چاہے،روزے کا کفارہ تو یہ ہے کہ جس معیار کا کھانا وہ خود کھاتا ہے اسی معیار کا کھانا کسی مسکین کو کھلا دے یا اس کی قیمت ادا کردے لیکن اگر وہ اپنی طرف سے زیادہ دینا چاہتا ہے تو بھلائی میں جو زیادتی کرتا ہے،اسے زیادہ اجر ملتا ہے۔جوشخص خوشی سے زیادہ خیرات کرنا چاہے یا زیادہ دینا چاہے،تو وہ اس کے لیے بہت بہترہے،اسے اس کااجر ملے گا۔حق بات یہ ہے کہ جو کیفیات روزے سے پیدا ہوتی ہے اور حضور حق روزے سے نصیب ہوتا ہے وہ خصوصیت روزے کی ہے، اس لیے تم روزہ رکھ سکو تو یہ بہت بڑی بات ہے،تمھارے لیے بہت بہتر ہے۔اگر تم علم رکھتے ہو،اگر جانتے ہو، بات کو سمجھتے ہو تو روزہ رکھنا ہی بہتر ہے۔ ٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -