سی این جی ایسوسی اایشن کا مطالبات تسلیم نہ کرنے کی صورت میں عدلت سے رجوع کا فیصلہ

سی این جی ایسوسی اایشن کا مطالبات تسلیم نہ کرنے کی صورت میں عدلت سے رجوع کا ...

  

پشاور (سٹی رپورٹر)سی این جی ایسوسی ایشنز نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت کورونا لاک ڈاؤن سے متاثرہ سی این جی سیکٹر کو ریلیف نہ دیا اور جائز مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو عید کے بعد عدالت سے رجوع کریں گے۔ گذشتہ روز سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر انجینئر مقصود انور پرویز کے ہمراہ آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کے صوبائی چیئرمین فضل مقیم خان‘ رئیل سی این جی اونرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عماد خان اور دیگر نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو رونا لاک ڈاؤن سے متاثرہ سی این جی سیکٹر کو ریلیف دینے میں تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے جو کہ سراسر زیادتی اور ناانصافی ہے اور کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی این جی واحد سیکٹر ہے جوکہ ماحول دوست اور ماحولیاتی آلودگی کے خاتمہ میں ممدو معاون ہونے کے ساتھ 5 لاکھ ملازمین اور ان سے جڑے خاندانوں کے روزگار کا ذریعہ بھی ہے تاہم یہ اہم سیکٹر حکومتی عدم توجہی کا شکار ہے جس کی وجہ سے سی این جی سیکٹر سے وابستہ افراد کو شدید مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو روزگار کی فراہمی کے باوجود حکومت کی جانب سے سیکٹر پر توجہ نہ دینا ایک بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے اور اربوں روپے کی سرمایہ کاری بھی ڈوبنے سے ملکی معیشت کو نقصان ہونے کا اندیشہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ کورونا لاک ڈاؤن کے باعث کاروبار و صنعتی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں وہاں پر سی این جی سیکٹر کو بھی کافی نقصان ہو رہا ہے بالخصوص لاک ڈاؤن کے علاوہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بتدریج کمی کے باعث سی این جی اور پٹرول کے ریٹ میں واضح کمی آئی ہے جس کے باعث سی این جی سیکٹر کی بقاء کامسئلہ پیدا ہوچکا ہے کیونکہ سی این جی گیس مہنگی اور پٹرول سستا ہوگیا ہے مذکورہ ریٹ میں گیس فروخت کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوگیا ہے۔ سرحد چیمبر کے صدر انجینئر مقصو د انور پرویزنے کہا کہ حکومت موجودہ صورتحال کے تناظر میں کورونا لاک ڈاؤن سے متاثرہ سی این جی سیکٹر کے لئے خصوصی گیس ٹیرف ریلیف پیکیج کا فوری اعلان کریں۔ انہوں نے بتایاکہ قدرتی گیس کا ٹیرف 1283 روپے فی ایم ایم بی ٹی یوچارج کیا جا رہا ہے جس میں 700 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو تک کمی لانے کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ موجودہ قدرتی گیس کا ریٹ دیگر صنعتوں کے مقابلہ میں کافی زیادہ ہے بالخصوص پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں عالمی سطح پر بتدریج کمی آرہی ہے اور آئندہ مہینے پاکستان میں بھی مزید کمی کی نوید ہے جس کی وجہ سے پٹرول اور سی این جی کے ریٹ میں فرق کو برقرار رکھنے کی اشد ضرورت ہے اس ضمن میں سی این جی کے لئے قدرتی گیس کے ٹیرف میں کمی لائی جائے۔ سرحد چیمبر کے صدر انجینئر مقصود انور پرویز نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ 17 فیصد سیلز ٹیکس کو 5فیصد تک لایا جائے اور سی این جی سیکٹر کو 4فیصد انکم ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سی این جی کے لئے بجلی ٹیرف کو بھی جنرل انڈسٹریز کے ریٹ کے تحت چارج کیا جائے اور مئی‘ جون‘ جولائی گیس کے بلوں کو آئندہ 12 مہینے میں اقساط میں بغیر کسی سر چارج کی ادائیگی کی اجازت دی جائے تاکہ ملک بھر بالخصوص خیبر پختونخوا کی سی این جی انڈسٹری کو بند ہونے سے بچایا جاسکے اور پٹرولیم مصنوعات اور سی این جی کے ریٹ میں فرق کو بھی برقرار رکھا جائے۔ آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کے صوبائی چیئرمین فضل مقیم خان نے کہا کہ سپیشل ٹیرف ریلیف پیکیج موجودہ صورتحال میں سی این جی سیکٹر کی بقاء کے لئے بہت ضروری ہے بصورت دیگر اربوں روپے کی سرمایہ کاری ڈوبنے کا خطرہ ہے اور 5لاکھ لوگ جوکہ اس اہم سیکٹر سے وابستہ ہیں بھی بے روزگار ہوجائیں گے اور احتجاج پر مجبور ہوں گے جس کی وجہ سے حکومت کیلئے امن و امان کے مسائل پیدا ہوں گے۔ سرحد چیمبر کے صدر انجینئر مقصود انور پرویز نے کہا کہ سی این جی پر چلنے والی گاڑیوں نے کرایے میں کمی والے حکومتی آرڈر کو ماننے سے انکار کردیا ہے کیونکہ سی این جی کے ریٹ میں کمی نہیں ہوئی اور وہ کرایہ نہیں کم کرسکتے۔انہوں نے کہا کہ سی این جی سیل بڑھنے سے زیادہ ریونیو ٹیکس کی مد میں اکٹھا کیاجاسکتا ہے اور ایک ماحول دوست اور ماحولیاتی آلودگی کے خاتمہ میں مددگار سیکٹر پر حکومت خصوصی توجہ دے اور پاکستان کے فارن ایکس چینج میں بھی بچت کی جاسکتی ہے۔ سی این جی ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سی این جی سیکٹر کے تمام جائز مطالبات کو فوری تسلیم کریں بصورت دیگر عید کے بعد سیکٹر کو ریلیف دلوانے کے لئے عدالت سے رجوع کریں گے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -