بنوں‘ غلام خان بارڈر تجارت کیلئے بند‘ سینکڑوں ٹرک پھنس گئے

بنوں‘ غلام خان بارڈر تجارت کیلئے بند‘ سینکڑوں ٹرک پھنس گئے

  

بنوں (تحصیل رپورٹر)غلام خان بارڈ تجارت کے لئے بند ہونے سے باڈر پر لاکھوں کی تعداد میں شہد کی مکھیوں، سبزیوں، فروٹ سے بھرے ٹرک پھنس گئے،اگر تین دن کے اندر غلام خان بارڈر کو تجارات کے لئے نہیں کھولا گیا تو لاکھوں شہد مکھیاں مر جائے گی۔ شہد سے منسلک کاروبار تباہ ہوجائے گا، وفاقی اور صوبائی حکومت اس کا فوری نوٹس لیں، شمالی وزیرستان کے تاجروں کا مطالبہ۔بنوں سبزی،فروٹ منڈی میں شمالی وزیرستان کے شہد مکھیوں،سبزیوں، فروٹ، میوہ جات،تاجروں نے غلام خان راستے کو تجارت کیلئے کھولنے کے حق میں احتجاجی مظاہر ہ کیا۔طورخم اور چمن راستے کی طرح غلام خان راستے کو بھی تجارات کے لئے کھولا جائے،غلام خان بارڈر تجارات کے لئے بند ہونے سے افغانستان اور پاکستان دونوں اطراف سے تجاراتی مال خراب ہو رہا ہے مہینوں سے دونوں اطراف سبزیوں،فروٹ، اور شہد کے مال بردار ٹرک پھنسے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے تاجروں کو کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے،شہد مکھیوں، سبزیوں اور فروٹ کا کاروبار تجارتی راستہ غلام خان بند ہونے سے ٹھپ ہوکر رہ گیا جبکہ درآمدات اور برآمدات کی ترسیل نہ ہونے سے فروٹ، سبزیوں اور شہد کے قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے جس سے نہ صرف تاجر طبقہ متاثر ہوا ہے بلکہ عوام کو بھی بری طرح متاثر کر دیا ہے۔تاجروں نے کروڑوں روپے کا مال لیا ہوا ہے جوکہ خراب ہو رہا ہے۔جبکہ شہد مکھیوں کو گرمی سے بچانے کے لئے 3ماہ کے لئے ان کو افغانستان لے جایا جاتا ہے۔تاکہ وہ گرمی سے محفوظ ہوسکے۔پاکستان میں سردیوں کا موسم انے پر دوبارہ شہد مکھیوں کا کاروبار کرنے والے ان مکھیوں کو دوبارہ پاکستان منتقل کرتے ہیں۔اگر ایک ہفتے کے اندر اندر غلام خان راستے کو تجارات کے لئے نہیں کھولا گیا تو لاکھوں کی تعداد میں شہد کی مکھی مر جائے گی۔جس سے شہد مکھیوں سے منسلک تاجروں کا بہت بڑا نقصان ہوگا۔لاکھوں مزدور شہد مکھیوں کے کاروبار سے وابستہ ہے ان خاندانوں کے چولہے ٹھنڈا ہو جائیں گے۔تجارات کے لئے سب سے نزدیک ترین راستہ غلام خان بارڈر ہے، افغانستان میں دو ماہ سے تاجروں کے سامان سے بھرے ٹرک پھنس گئے ہیں ان کو پاکستان آنے کی فوری ااجازات دی جائیں۔اگر حکومت نے ان کے مطالبات تسلیم نہیں کئے تو کرونا وائرس کے باوجود شمالی وزیرستان کے ہزاروں تاجر احتجاج کے لئے سڑکوں پر نکلے گے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -