کروناوائرس سے ملتان اورکوٹ ادو میں ہلاکتیں، کڑے پہرے میں تدفین

  کروناوائرس سے ملتان اورکوٹ ادو میں ہلاکتیں، کڑے پہرے میں تدفین

  

ملتان، کوٹ ادو (نمائندہ خصوصی، تحصیل رپورٹر)نشتر ہسپتال میں زیر علاج کورونا میں مبتلا ایک اور مریض دم توڑ گیا،نشتر ہسپتال میں کورونا کے باعث ہونے والی اموات کی مجموعی تعداد 59 ہو گئی، آئی سو لیشن کے چھ وارڈز میں کورونا میں مبتلا زیر علاج مریضوں کی تعداد 40 ہو گئی تفصیل کے مطابق نشتر ہسپتال کے آئی سو لیشن وارڈ میں زیر علاج کورونا میں مبتلا (بقیہ نمبر15صفحہ6پر)

ملتان کے رہائشی 35 سالہ راشد نے منگل کی شام دم توڑ دیا یوں یکم اپریل سے 19مئی کے درمیان نشتر ہسپتال میں کورونا کے باعث ہونے والی اموات کی مجموعی تعداد 59ہو گئی ہے جبکہ نشتر ہسپتال کے چھ آئی سو لیشن وارڈز میں اس وقت کورونا میں مبتلا 40 مریض زیر علاج ہیں جبکہ 01 مریض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے،جبکہ کورونا کے شبہ میں 11 مریض زیر علاج ہیں,جن کی رپورٹس کا انتظار ہے،ادھر پتھالوجی لیبارٹری میں سٹاف کی شدید کمی کے باعث کورونا کے شبہ میں لائے گئے مریضوں کی سیمپلنگ میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ادھر نرسز کو مریضوں کی سیمپلنگ کا کہا جا رہا ہے جس پر ینگ نرسز کی جانب سے شدید مذمت کی گئی ہے۔علاوہ ازیں پاک اٹالین ماڈرن برن یونٹ کے انتظامی افسران کی نا اہلی کے باعث طبی عملے کو حفاظتی کٹس فراہم نہیں کی جا سکی جس کے باعث برن یوں ٹ کے 05ڈاکٹر،ڈاکٹر عامر،ڈاکٹر حمزہ،ڈاکٹر ماریہ، ڈاکٹر ارسلان اور ڈاکٹر شہر بانو اور 07سٹاف نرسوں سلمی،مسرت مریم حمیرا،سمیرہ،طاہرہ اور شہناز میں بھی کورونا کی تصدیق ہو گئی ہے،ینگ نرسز ایسوسی ایشن کی صائمہ یامین اور دیگر نے احتجاج کرتے ہوئے کہا نشتر انتظامیہ کروڑوں روپئے غیر معیاری حفاظتی سامان لے رہی ہے جس سے سٹاف کورونا میں مبتلا ہو رہا ہے،انکوائری کی جانی چاہیے،ادھر برن یونٹ کے آئی سی یو سٹاف کو کورونا کے شبہ میں آئی سو لیٹ کر کے ان کے نمونے لیبارٹری بھجوا دئیے گئے ہیں جن کی رپورٹس کا انتظار ہے،ادھر ینگ ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ برن یونٹ سربراہ خود کو کورونا سے بچانے کے لئے چھٹیاں لیکر گھر روانہ ہو گئے ہیں جبکہ دیگر طبی عملہ کورونا میں مبتلا ہو رہا ہے جبکہ بیشتر ڈاکٹر نرسز میں رپورٹ کے بعد چلا وہ کورونا میں مبتلا ہیں اس سے قبل کسی میں کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئی جو کہ زیر علاج مریضوں کے لئے نہایت خطرناک ہے جبکہکوٹ ادومیں کرونا پازیٹو کیس کا پہلا مریض انتقال کر گیا،حفاظتی اقدامات کے تحت جنازہ کے بعد تدفین کردی گئی، کورونا وائرس کے پھیلنے کے خدشہ کے پیش نظر کوٹ ادو میں حفاظتی اقدامات نہ ہونے پر کوٹ ادو میں بھی کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ شروع ہو گیا ہے،گزشتہ روز کوٹ ادو میں کرونا پازیٹو کیس کا پہلا مریض وارڈ نمبر12کے رہائشی 50 سالہ محمد طاہر ولد عبدالکریم جاں بحق ہو گیا،مرحوم کی سخت حفاظتی اقدام میں میونسپل اسٹیڈیم میں نماز جنازہ ادا کی گئی اور سخت حفاظتی اقدامات کے تحت اس کی تدفین کردی گئی،دوسری طرف فیصل کالونی کوٹ ادو میں بھی عارف نیازی نامی مریض سمیت3مزید مریضوں کے ٹیسٹ مثبت ہونے کی افواہ بھی جاری ہے،اس حوالے سے ٹائیگر فورس کے ممبر چوہدری محمد زاہد اجمل نے کہا کہ آہستہ آہستہ کوٹ ادو میں کرونا کے مریض بڑھ رہے ہیں اور کرونااپنے پنجے کوٹ ادو شہر میں گاڑ رہا ہے اوپر سے افسوس کی بات یہ ہے کہ بازاروں میں رش ہے کوئی ماسک استعمال نہیں کر رہے اور سب اس کو مذاق سمجھ رہے ہیں یہ خطرے کی گھنٹی ہے جیسے ہم نہیں سن رہے اور نہ ہی ہم اس کی طرف دھیان دے رہے،خدارا کچھ سوچیں اچھی اپنے لیے نہیں تو اپنے بچوں کے لئے سوچے اگر یہ بیماری کوٹ ادو شہر میں پھیل گئی تو ہمارے پاس یہاں کچھ بھی نہیں ہے کوئی انتظام نہیں ہے کوئی وینٹی لیٹر نہیں ہے اور ہم اس کو نہیں قابو کر سکیں گے صرف ایک طیب اردگان ہاسپیٹل ہے اور وہ بھی مریض لینے سے اب انکار کررہا ہے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -