قرآن کی فکر کو علامہ اقبال نے قوم میں منتقل کیا: طاہر حمید تنولی کا بزمِ ریاض سے خطاب

قرآن کی فکر کو علامہ اقبال نے قوم میں منتقل کیا: طاہر حمید تنولی کا بزمِ ریاض ...
قرآن کی فکر کو علامہ اقبال نے قوم میں منتقل کیا: طاہر حمید تنولی کا بزمِ ریاض سے خطاب

  

ریاض (وقار نسیم وامق) سعودی عرب کی معروف سماجی، ادبی و ثقافتی تنظیم بزمِ ریاض کے زیرِاہتمام فکرِ اقبال کی روشنی تعلق بالقرآن کے عنوان سے ہفتہ وار بزم کیفے آن لائن سیشن منعقد ہوا، جس کے مقررِ خاص اور مہمانِ خصوصی معروف سکالر اور ماہرِ اقبالیات طاہر حمید تنولی تھے.

سعودی دارالحکومت ریاض میں منعقد ہونے والے ورچوئل سیشن میں بزم ریاض کے ارکان کے علاوہ کمیونٹی کی دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں، تقریب کی نظامت کے فرائض بانی بزمِ ریاض اور سیکرٹری جنرل وقار نسیم وامق نے بخوبی سرانجام دئیے اور تلاوتِ قرآن کریم اور نعتیہ اشعار سے سیشن کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے، مہمانِ خصوصی جناب طاہر حمید تنولی کا تعارف پیش کیا.

بزم کے صدر تصدیق گیلانی نے افتتاحی کلمات میں مہمانوں کا خیر مقدم کیا اور بزمِ ریاض کے تعارف کے ساتھ تقریب کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے کہا کہ بزم کیفے کے سیشن میں ہماری کوشش ہوتی ہے کہ جو لوگ اپنے شعبہ جات میں کمال مہارت رکھتے ہیں ہم انہیں مدعو کریں اور ان سے سیکھ سکیں اور اپنی معلومات میں اضافہ کرسکیں، ہم معاشرے میں مثبت تبدیلی کے خواہاں ہیں اور چاہتے ہیں کہ اپنے قول و فعل سے معاشرے کے باکردار افراد بن کر اس کی تعمیر و ترقی میں احسن کردار ادا کرسکیں.

اس موقع پر طاہر حمید تنولی نے کلیدی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کی فکر کو علامہ اقبال نے قوم میں منتقل کیا، اقبال کے اشعار قرآنی تعلیمات سے بھرے پڑے ہیں جو کہ حیات افروز ہیں، علامہ اقبال نے قرآن کو اپنی ذات کا حصہ بنایا اور پھر ان کے شعر و نثر میں اسکا بھرپور اظہار ہوا، اقبال کے اشعار میں ہمیں یہ پیغام ملتا ہے کہ قرآنی تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر ہماری فکری صلاحیت بہتر ہوتی ہے اور ہم حقائق سے آشنا ہو کر اپنی دنیا کی معراج کا سفر کرسکتے ہیں.

طاہر حمید تنولی کا کہنا تھا کہ اقبال کا قرآن سے تعلق ایقان پر مبنی ہے، ہمیں چاہیے کہ ہم انفرادی سطح پر اقبال کے افکار کو لے کر چلیں اور منزل کو پا لینے کے یقین کے ساتھ آگے بڑھتے چلے جائیں، ان کا مزید کہنا تھا کہ اقبال نوجوانوں کو سراپا عمل اور مصروفِ جدوجہد دیکھنا چاہتے تھے اور نوجوانوں کے لئے اقبال کے شاہین کا استعارہ مردِ مومن کے اوصاف سے ملتا ہے جو نوجوانوں کو حوصلہ اور آفاقی منزل تک پہنچاتا ہے.

سوال و جواب کے سیشن میں ڈاکٹر طارق عزیز، کامران اصغر، ڈاکٹر ریاض چوہدری، آر جے فواد اور دیگر نے حصہ لیا جبکہ طاہر تنولی نے سوالات کے مفصل جوابات دیئے.

بزم کے چیئرمین ریاض راٹھور نے اظہارِ تشکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ طاہر حمید تنولی ملک و ملت کا عظیم سرمایہ ہیں اور اقبالیات جیسے اہم موضوع پر انہیں کمال دسترس حاصل ہے، آج کے معلوماتی سیشن نے ہمیں فکرِ اقبال کی روشنی میں قرآن سے تعلق جوڑنے کے نئے زاویے مہیا کئے ہیں جس کے لئے وہ مہمانِ خصوصی جناب طاہر حمید تنولی کے انتہائی شکر گزار ہیں اور تمام شرکاء کے بھی ممنون ہیں.

سیشن کے آخر میں فیصل علوی نے دعائے خیر کرواتے ہوئے، پاکستان، سعودی عرب اور امتِ مسلمہ اور عالمِ انسانیت کی بھلائی اور کورونا وائرس سے چھٹکارے کے لئے خصوصی دعاء کروائی.

مزید :

عرب دنیا -تارکین پاکستان -