جنسی جرائم کی ممکنہ وجوہات

جنسی جرائم کی ممکنہ وجوہات
جنسی جرائم کی ممکنہ وجوہات

  

آج کل زنا عام؛ زنا باالجبر, بچوں سے بدفعلی جیسے واقعات عام ہوتے جا رہے ہیں اور ان تمام واقعات کو جان کر سوائے اظہار افسوس اور ایسے واقعات میں ملوث افراد کو سخت ترین سزا کا مؤجب ٹھہرانے کی باتوں کے سوا کے کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ پھر ہر گزرتے دن کیساتھ نت نئے انہوں  نے واقعات کو سن اور دیکھ کر پرانے واقعات کا بھلا دیا جاتا ہے ۔

پاکستان کے سیاست دان ہوں یا کہ اسٹیبلشمنٹ کے کردار ، سب کے سب ملک میں بسنے والے افراد کی سب سے بڑی کمزوری جو کہ ہر گزرے دن کیساتھ پرانے واقعات کو بھلا دینے کی خامی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مخصوص تعداد میں مشتمل گروپس صرف اور صرف اپنے فوائد اور نفع کے لئے عوام کو مصنوعی ربوٹ کی طرع استعمال کر رہے ہیں۔

جیساکہ کچھ ماہ پہلے لاھور میں پولیس نے ایک گھر چھاپہ مار کر ایک باقائدہ ویڈیو رکارڈنگ کی شوٹنگ چلا کر زنا خانہ کے باہر کھڑی گاڑیوں کے افراد کو گرفتار کر کے پھر گھر میں گھس کر مختلف کمروں میں فحاشی کی سرگرمیوں میں مصروف افراد کو کیمرہ میں محفوظ کرتے ہوئے گرفتاریاں کیں اور پھر اس ویڈیو کو سوشل میڈیا پر وائرل کر دیا ۔ جبکہ عدالت عملی جرم کی سزا دیتی ہی نہ کہ جرم خانہ کے باہر کھڑے ہونے کی مگر ایک دوسرے کو بدنام کرنے کا جنون قانون کو بھی نیا روپ دے رہا ہے ۔اسی طرع کچھ ہفتے پہلے موٹر وے پر ایک جوڑا پکڑ کر پولیس کی وردی پہن کر جعلی پولیس والا بننے کی پاداش میں شخص کو گرفتار کیا اورشخص کے ساتھ ساتھ لڑکی سے پوچھے گئے سوالات والی ویڈیو بھی سوشل میڈیا کی زینت بنا دی گئی ۔ اسی طرع کے نت نئے واقعات روزانہ اخبارات میں پڑھنے ؛ سوشل میڈیا پر دیکھنے کو مل رہے ہیں ۔ اور آہستہ آہستہ اس طرع کے جرائم کی ویڈیو ریکارڈنگ اور اخبارات میں سب سے واضع سرخیاں دیکھ دیکھ کر نئے فیشن کو پروان چڑھایا جا رہا ہے۔

کسی نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ ویڈیو وائرل ہونے سے پھر اخبارات یا سوشل میڈیا کے ذریعے ان واقعات سے جڑے افراد کی جلد ضمانتیں اور بری اور رہائیاں ہونا ، پاکستان میں بسنے والے افراد کا شعبہ پورن میں حوصلے بلند کر رہی ہیں اور اس کیساتھ ساتھ ویڈیو کے نشر ہونے کے بعد اس جرم میں ملوٽ افراد کے علاوہ اس کے اہل خانہ عزیز و اقارب جرم کئے بغیر ہی معاشرے کے طعنہ و تکرار ؛ نئی اور پرانی رشتہ داریوں میں دشواری جیسی خطرناک اور تکلیف دہ صورتحال سے دوچار ہو جاتے ہیں۔ عوام تو بس تماشا دیکھ اور شیاطین اپنے سے جڑے تماشے کا انتظار کر جیسے قول و فعل میں مبتلا ہیں ۔

پاکستان کو چلانے والی انتظامیہ سیاست دان این جی اوز نے بھی صرف اظہار افسوس ہی کیا ہے مگر ابھی تک اس ہر کوئی واضع حکمت عملی مرتب نہیں کی۔ کسی نے کبھی یہ جاننے کی بھی کوشش نہیں کی کہ ایسا آخر کیوں ہو رہا ہے ۔ اور جو جانتے ہیں وہ خاموشی کو اپنا کر اپنی انرجی ضائع کرنے کی بجائے محفوظ رکھنے کو ترجیع دے رہے ہیں۔

سب سے پہلے نوجوان مرد اور عورتیں ایسی محرکات میں کیوں مبتلا ہوتے ہیں اس کی بڑی وجوہات غربت ، شادی میں دیری ‘ مہنگی رسمیں ، پورن ویب سائیٹ کا بے دریغ استعمال اور ہر نئے دور کیساتھ جدید ٹیکنالوجی کی موجودگی میں نت نئی ویڈیو اور اخبارات میں شہ سرخیاں دیکھ اور پڑھ کر حقوق فیشن کا بول بالا عام ہے۔

حکومت پاکستان کو چاہئے کہ اس طرع کے واقعات کو میڈیا اور سوشل میڈیا کی زینت بنانے سے روکا جائے یا ایک جزوی خبر کے طور پر پیش کیا جائے اور زنا اور بد فعلی جیسے واقعات کے لئے ہر ضلع میں ایک علیحدہ سے تفتیشی اور متحرک ٹیم جو کہ گزشتہ سال سے عمل میں آ چکی بھی ہیں کو ہدایات جاری کی جائیں کہ خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد جلد سے جلد مکمل تحقیقات کر کے عدالتِ عالیہ کے تعاون سے اس سے منسلک افراد کے عزائم کی پاداش میں قرار واقعی سزا کا انتحاب کر کے عوام میں فیشن کی بجائے جرم کا خوف ڈالا جائے اور واقعات سے جڑے افراد کی سائیکالوجی جان کر معلوم ہونے والی وجوہات کے خاتمہ کے لئے ملکی سطع پر نئی پالیسیاں مرتب کی جائیں۔ جیسا کہ غربت، فضول ، رسموں کا خاتمہ اور محصوص عمر کے بعد بہترین پالیسیوں کو بروئے کار لاتے ہوئے عوام کو بہترین سہولیات میسر کر کے شادی میں جلدی جیسی حکمت عملی مرتب کرنا ہو گی۔ اور اسی پالیسیاں بروئے کار لائی جائیں کہ لوگ حکومتی پالیسیوں کی لالچ میں شادی جیسے فرائض کو جلد نبھا سکیں اور شادی میں تواضع کے لئے بے تحاشا کھانےاور لڑکیوں کو دئیے جانے والے جہیز پر پابندی کی بجائے بلکہ جہیز مہیا اور وصول کرنے والے دونوں خاندانوں پر بے تحاشا ٹیکس مرتب کیے جائیں اور ٹیکس وصولی کی سخت نگرانی کی جائے تاکہ اگر کوئی اپنی اولاد بے تحاشا جہیز دینے کا اور کوئی وصول کرنے کا خواہش مند ہو تو ٹیکس ادا کرنے کے ڈر سے کم سامان مہیا کرے اور اگر کوئی ٹیکس ادائیگی کے ڈر سے خفیہ طریقہ استعمال کرتا ہے تو ٹیکس وصول کم سہی مگر شو بازی کم ہوگی اور غریب کے مسائل کم ہوں گے۔ خواہ یہی ٹیکس بعد میں غریب افراد کی شادیوں کے لئے ہی محتص کر دیا جائے ۔

اور اگر ایسا ممکن نہیں ہو سکتا تو یورپی ممالک کی طرع مکمل آزادی میسر کی جائے اور تمام سہولیات میسر کر دی جائیں جیسا کہ ہر ضلع کے محصوص علاقہ میں ریڈ زون کا قیام عمل میں لایا جائے اور بے حیائی کے حقوق اور پردہ پوشی کے لئے قوانین وضع کئے جائیں تا کہ کوئی ویڈیو بنا کر فقط دو فرد کی وجہ سے پورے خاندان کی تکلیف کا باعٽ نہ بن سکے ۔

پاکستان میں اسلامی معاشرتی نظام تو بہرحال رائج نہیں مگر اسلام کے نام پر قائم ملک میں سخت پابندیوں کیوجہ سے زنا باالجبر ؛ حوس کے مارے افراد کا بچیوں کیساتھ زیادتی اور پھر حوس پوری کرنے کے بعد گناؤنے فعل کر چھپانے کے لئے زیادتی کے بعد قتل اور غیر فطری فعل جسے واقعات سے بچا جا سکتا ہے ۔ یہ حوس کا ہی نتیجہ ہے کہ قبر میں دفن مردہ ہو ، مسجد ہو یا کہ درس گاہ ، شادی سے پہلے اس حوس جیسی بیماری میں مبتلا افراد شادی کے بعد بھی اپنی اوائل عمری میں شروع کی گئی ممنوعہ حرکات کو زندگی کا حصہ بنا لیتے ہیں ۔

حکومت وقت کو ان تمام حقائق کی روشنی میں کسی ایک بات پر عمل کرنا ہی ہو گا خواہ اسلامی نقطہ نظر کے طور بہترین قانون سازی کیساتھ ساتھ بہترین حکمت عملی مرتب کرنا ہو گی یا کہ خود کو بے بس جان کر یورپی ممالک سے ملا جلا ماحول مہیا کر کے عوام کے لئے سیکس سے متعلقہ ضروریات میں دشواری ختم کر کے فری ریڈ زون جگہیں عرف عام میں چکلہ خانہ مہیا کرنا ہوں گے جہاں افراد اپنی جنسی ضروریات پوری کر سکیں۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -