چین اور بھارت سرحد پر فوج میں اضافہ کیوں کر رہے ہیں؟

چین اور بھارت سرحد پر فوج میں اضافہ کیوں کر رہے ہیں؟
چین اور بھارت سرحد پر فوج میں اضافہ کیوں کر رہے ہیں؟

  

بیجنگ/نئی دلی(ڈیلی پاکستان آن لائن)چین اور بھارت کی سرحد پر کشیدگی میں اضافہ ہورہاہے جس کی وجہ سے دونوں ممالک  لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر اپنی اپنی اپنی فوج کی موجودگی میں اضافہ کر رہے ہیں۔

بی بی سی کے مطابق اکسائی چن میں موجود وادی گالوان کے سبب دونوں ممالک کے مابین تناؤ کی ابتدا ہوئی تھی۔

انڈیا کا کہنا ہے کہ وادی گالوان کے اطراف میں چینی فوج کے کچھ خیمے دیکھے گئے ہیں۔ اس کے بعد انڈیا نے بھی وہاں فوج کی تعداد میں اضافہ کیا ہے۔ اسی کے ساتھ ہی چین کا الزام ہے کہ انڈیا وادی گالوان کے قریب دفاع سے متعلق غیر قانونی تعمیرات کر رہا ہے۔

مئی میں دونوں ممالک کے مابین سرحد پر مختلف مقامات پر تصادم ہوا ہے۔

چین نے انڈیا کو اس تناؤ کی وجہ قرار دیا ہے۔ چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز میں پیر کو شائع ہونے والے ایک مضمون میں انڈیا کو دریائے گالوان (وادی) کے خطے میں کشیدگی کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔اخبار نے چینی فوج کے حوالے سے کہا ہے کہ ’انڈیا نے اس علاقے میں دفاع سے متعلق غیر قانونی تعمیرات کی ہیں۔ اس کی وجہ سے چین کو وہاں فوجی تعیناتی میں اضافہ کرنا پڑا ہے۔‘

’انڈیا نے اس کشیدگی کی ابتدا کی ہے۔ لیکن ہمیں یقین ہے کہ یہان ڈوکلام جیسی صورتحال پیدا نہیں ہوگی جیسا کہ سنہ 2017 میں ڈوکلام میں ہوا تھا۔ انڈیا کووڈ 19 کی وجہ سے پیدا ہونے والی معاشی پریشانیوں سے دوچار ہے اور اس نے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے گالوان میں تناؤ پیدا کیا۔‘

گلوبل ٹائمز نے یہ بھی لکھا ہے کہ وادی گالوان ایک چینی علاقہ ہے۔ انڈیا کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات سے انڈیا اور چین کے مابین سرحدی امور سے متعلق معاہدے کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ انڈیا مئی کے آغاز سے ہی وادی گالوان میں سرحد عبور کرکے چینی سرزمین میں داخل ہورہا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -