"ہماری حکومت میں کوئی محکمومیت محسوس نہیں کرے گا، مخالفین کیلئے عام معافی ہے" طالبان کے امیر نے عیدالفطر کیلئے خصوصی پیغام جاری کردیا

"ہماری حکومت میں کوئی محکمومیت محسوس نہیں کرے گا، مخالفین کیلئے عام معافی ہے" ...

  

کابل (ڈیلی پاکستان آن لائن) امارت اسلامی افغانستان (طالبان) کے امیر ملاہبتہ اللہ اخونزادہ نے  کہا ہے کہ عالمی اور علاقائی ممالک سے امارت اسلامیہ کے سیاسی تعلقات ماضی کی نسبت بہت وسیع ہوچکے ہیں۔ طالبان کی حکومت  میں  کوئی بھی محرومیت اور محکومیت  محسوس نہیں کرے گا،  امریکہ کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر امارت اسلامیہ پوری طرح پابند ہے۔  امریکی حکام کسی بھی طبقے کو معاہدے پر عمل درآمد  میں رکاوٹ بننے کی اجازت نہ دے ۔مخالف صف میں کھڑے افراد اگر مخالفت سے دستبردار ہوجائیں،ہماری طرف سے ان کے لیے عام معافی کا اعلان ہے۔

عید الفطر کی مناسبت سے اپنے تفصیلی پیغام میں امارت اسلامی افغانستان (طالبان) کے امیر ملا ہبتہ اللہ اخونزادہ نے کہا کہ ہمارا جہاد اللہ تعالی کی رضا، ملک کی مکمل خودمختاری اور یہاں حقیقی اسلامی نظام کے نفاذ کےاہداف لے کر یہاں تک پہنچا ہے ۔ اس جہاد میں عوام اور مجاہدین نے جو قربانیاں دیں اور جو تکالیف اور مصائب جھیلے  وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ۔  لہذا  مذکورہ اہداف کو حاصل  کرنے اور انہیں استقلال بخشنے کے لیے  اور  اس کی راہ میں حائل فتنوں اور خطروں  کی روک تھام کے لیے تمام ہموطنوں، خصوصا امارت اسلامیہ کے ذمہ داران   اور مجاہدین سے درخواست کرتاہوں کہ اپنے بنیادی مقاصد  اور اہداف پر سنجیدگی سے توجہ دیں۔ اپنی صف اور قوت کو مضبوط تر کریں۔   باہمی اتحاد اور اطاعت کو مزیدمستحکم رکھیں اور انتظامی ڈھانچے کو مزید منظم کریں۔

انہوں نے کہا  چونکہ امارت اسلامیہ تمام ہموطنوں کا مشترکہ گھر ہے  اور اس قوم کی  40 سالہ قربانیوں اور آرزوؤں کی تکمیل کی خاطر جدوجہد میں مصروف ہے،اس لیے ملک کے علماء کرام، روحانی مشائخ، قبائلی عمائدین، مصنفین، شعراء ، ادیب اور تمام بااثرشخصیات کو چاہیے کہ ملک میں حقیقی اسلامی نظام کے نفاذ،امن ، تعمیرنو، اتحاد اور خودمختار افغانستان کے لیے ہم سے مزید تعاون کریں۔ اپنی تمام قوت  بروئے کار لائیں۔ اپنے حلقے کے لوگوں، شاگردوں اور متعلقین کو حقائق سے آگاہ کریں۔  اپنی قابل فخر تاریخ سے انہیں باخبر کریں۔ دشمنی، تعصبات، اختلافات، اخلاقی بدعنوانی اورہر  اس برائی کا مقابلہ  کریں جو ہمارے مقدس دین، ملک کی سلامتی اور استقلال کو نقصان پہنچائے۔ یہ صاحب علم وفضل شخصیات افغانستان کی اسلامی شناخت، جہاد، حق کے لیے جدوجہد اور آئندہ نسل کی بیداری کے لیے مزید جدوجہد کریں،تاکہ ہمارےملک میں اسلامی اور ملی اقدار کے تحفظ کےلیے قربانی کا جذبہ مزید قوی اور مضبوط ہو سکے۔

طالبان کے امیر کا کہنا تھا کہ  عالمی اور علاقائی ممالک سے امارت اسلامیہ کے سیاسی تعلقات ماضی کی نسبت بہت وسیع ہوچکے ہیں۔  امارت اسلامیہ کی پالیسی اور مؤقف ان پر واضح ہوچکا ہے،جس کی بنیاد پر یقین اور اعتماد کی فضا قائم ہورہی ہے۔  ہم اپنی پالیسی کے مطابق   اسلامی ممالک سے اسلامی  بھائی چارے کا رشتہ،پڑوسی ممالک سے اچھے ہمسائے  اور خطے اور دنیا بھر کے تمام ممالک کیساتھ مفید تعلقات مزید مضبوط کرنا چاہتے ہیں ،تاکہ علاقائی اور عالمی معاشی خوشحالی، امن اور مشترکہ زندگی کے شعبوں میں لازمی  ذمہ داری ادا ہوتی رہے۔ دیگر ممالک سے بھی  یہی امید رکھتا ہوں کہ  اس سلسلے میں اسی نوع کے  اقدامات اٹھائیں گے ۔

انہوں نے کہا  وہ طبقات  یا شخصیات جو جارحیت کے خاتمہ کے بعدمستقبل کے نظام کے متعلق خدشات کا شکار  ہیں، امارت اسلامیہ ایک بار پھران  سب کو  یقین دلاتی ہےکہ امارت اسلامیہ کی  پالیسی انحصارطلب  نہیں ہے، ہر کسی کو مرد ہو یا عورت انہیں ان کے حقوق ملیں گے، اس نظام میں  کوئی بھی محرومیت اور محکومیت  محسوس نہیں کریگا اور ان تمام شعبوں تک رسائی حاصل کی جائے گی، جو معاشرے کی خوشحالی، استحکام اور ترقی کے لیے ضروری ہیں۔  سب کچھ مقدس شریعت کی روشنی میں آگے بڑھتا رہیگا۔ چند وہ عناصر جو بیرونی انٹیلی جنس حلقوں کی جانب سے دیےجانےوالے منصوبے کی مطابق  اپنے مذموم اہداف اور اقتدار تک پہنچنے کےلیے  ملک میں لسانی، قومی، مذہبی اور دیگر بنیادوں پر  تنازعات اور تعصبات کو بھڑکا نا چاہتے ہیں اور ملک کی سلامتی کو خطرے سے دوچار کرنا چاہتے ہیں، انہیں سمجھنا چاہیے کہ افغان ملت اور امارت اسلامیہ انہیں اس طرح  کےاعمال کی اجازت نہیں دے گی۔ جس طرح ماضی میں اس طرح کے خطرات میں ملک کا دفاع کیا تھا،اب بھی ہمارے پاس صلاحیت ہے کہ اس کی روک تھام کریں لہذا بہتر یہ ہوگا کہ ایسی حرکتوں کے مرتکب افراد اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکیں، مزید ناجائز اعمال و افکار سے اس ملت کو مسائل اور مشکلات سے دوچار نہ کریں۔

امریکہ کے ساتھ امن معاہدے کے حوالے سے امارت اسلامی کے امیر کا کہنا تھا کہ  ریاستہائے متحدہ امریکا کیساتھ تاریخی معاہدے پر دستخط اور اس کے نتیجے میں جارحیت کا خاتمہ امارت اسلامیہ اور تمام افغان ملت کے لیے ایک عظیم کامیابی سمجھی جاتی ہے اور اگر اس پر نیک نیتی سے عمل درآمد کیا جائے تویہ  تمام فریقوں کے مفاد میں ہے۔ امریکا کیساتھ جس معاہدے پر دستخط ہوچکے ہیں امارت اسلامیہ اس معاہدے کی پوری پاسداری کو لازمی سمجھتی ہے اور اس کی پوری طرح پابند ہے۔ مخالف فریق سے مطالبہ کرتی ہے کہ اپنے وعدوں پر مستحکم رہے اور اس عظیم تاریخی موقع کو ضائع ہونے سے بچا ئے۔  مذکورہ معاہدے پر عمل درآمد   ہمارے ملک اور امریکا کےلیے جنگ کے خاتمہ ،ملک میں میں داخلی امن  کے قیام اور اسلامی نظام کے نفاذ کا بہترین ذریعہ  بن سکتی ہے۔امریکی حکام سے کہنا چاہتا ہوں کہ انہیں کسی بھی طبقے کو اس بات کی  اجازت نہیں دینی چاہیے کہ ہمارے اور آپ کے درمیان جو معاہدہ ہوا ہے اور جسےعالمی سطح پر تسلیم کرلیا گیا ہے ،   اس معاہدے پر عمل درآمد  میں رکاوٹ بنیں ، اس میں تاخیری حربے  ڈالیں اور آخرکار اسے ناکامی سے دوچار کریں۔  اس معاہدے میں سب کچھ واضح طور پر لکھا چکاہے۔ یہ معاہدہ افغان اور امریکہ دونوں اقوام کے مفادات کے تحفظ  اور مسائل کے حل کے لیے ایک بہترین فریم ورک مہیا کرتا ہے،جس پر مکمل طور پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔  آئیے اس معاہدے کے نفاذ میں آگے بڑھیں ، تاکہ تمہاری افواج کے انخلا اور افغانستان و خطے میں امن اور استحکام کےلیے راہ ہموار ہوجائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ  کابل انتظامیہ کے جیلوں میں قیدی سخت حالات اور مشکلات میں زندگی بسر کررہے ہیں ، اس حوالے سے انسانی  تنظیموں،  فلاحی اداروں  اور شخصیات کو  اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے اور  جلد  از جلد  قیدیوں کی حفاظت اور رہائی کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے چاہییں ۔

انہوں نے ایک بار پھر مخالفین کیلئے عام  معافی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ  مخالف صف میں کھڑے افراد اگر مخالفت سے دستبردار ہوجائیں،ہماری طرف سے ان کے لیے عام معافی کا اعلان ہے۔  ہم سب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس عام معافی کے موقع  سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔  مخالفت سے دستبردار ہوجائیں اور ملک میں مکمل طورپر امن  کے قیام اور اسلامی نظام کے نفاذ  میں ،جو اس ملک کے لاکھوں شہداء، زخمیوں، معذوروں، یتیموں، بیواؤں اور مصیبت زدہ افغانوں کی آرزو ہے، اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی نہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ  امارت اسلامیہ  ملک بھر میں شہریوں کے تحفظ اور ان کےنقصانات کے حوالے سے شدید حساسیت  رکھتی ہے،اسی بناء  پر امارت اسلامیہ نے عام شہریوں کی زندگی کے تحفظ اور انہیں نقصان نہ پہنچانے کی غرض سے خصوصی کمیشن قائم کیاہے، تاکہ جنگوں میں مجاہدین کی جانب سے عام شہریوں کو نقصان نہ پہنچے،اگر خدانخواستہ کوئی ایسا حادثہ رونما ہوجاتا ہے، تو اس کے مقدمہ کو فوری طورپر لیا جاتا ہے اور قصور وار افراد کو سزا دی جاتی ہے۔مگر مخالف فریق کی جانب سے باربار عام شہریوں اور گھروں  کو فضائی بمباری، میزائل حملوں اور بھاری ہتھیاروں کا نشانہ بنایا  جاتاہے، جو  پریشان کن عمل ہے۔ اس حوالے سے انسانی شعبے میں کام کرنے والے  ملکی اور بیرونی تمام حلقوں سے مطالبہ ہے کہ سویلین ہلاکتوں کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔

کورونا وائرس کے حوالے سے اپنے پیغام میں ملا ہبۃ اللہ اخونزادہ کا کہنا تھا کہ  کرونا کی بیماری عالمی وبا ہے۔ اللہ تعالی کی جانب سے ایسی آزمائشیں انسانوں  پر اس وقت آتی ہیں جب اللہ تعالی کے دین، فطرت اور انسانی معیارات سے سرکشیاں اپنی آخری حد تک پہنچ جائیں۔  ہمیں اللہ تعالی سے مغفرت طلب کرنا چاہیے۔ اپنے اعمال کا ازسرنو جائزہ لیں، اللہ تعالی کے احکام کو ترک نہ کریں، اسلامی ہدایات کے مطابق اپنی زندگی کو سنوار دیں،تاکہ اس ہولناک عذاب اور  آزمائش سے نجات پاسکیں۔ مذکورہ بیماری کی روک تھام کے سلسلے میں امارت اسلامیہ  کے کمیشن برائے امور صحت کو ہدایات دے دی گئی ہیں کہ اپنی بساط میں جہاں تک ہوسکے اس  سلسلے میں جدوجہد کریں۔  عوام کو طبی سہولیات فراہم کریں او رجتنا ممکن ہوسکے ،اپنی طاقت بروئے کار لانے سے دریغ نہ کریں۔ عام ہموطنوں سے بھی ہماری گذارش ہے کہ اس بیماری سےبچاو کی خاطر شرعی اور طبی ہدایات کو مدنظر رکھیں،تاکہ خدانخواستہ متاثر نہ ہوجائیں، عالمی صحت کی تنظیموں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ ہمارے ہموطنوں کیساتھ اس بیماری کی روک تھام میں زیادہ تعاون کریں اور ضروری وسائل مہیا کریں۔ امارت اسلامیہ امدادی سامان  کی منتقلی  اور شفاف  طریقے سےمستحقین میں  ان کی تقسیم کے سلسلے میں فلاحی اداروں کیساتھ ہر قسم کا تعاون  کرنے کےلیے تیار ہے۔

انہوں نے طالبان جنگجوؤں کو ہدایت کرتے ہوئے کہا  کہ  امارت اسلامیہ  کے تمام مجاہدین کو  ہدایت دیتاہوں کہ اس نازک صورتحال میں عام لوگوں کیساتھ ہمدردی اور شفقت بھرا سلوک کریں۔ کسی کو نقصان اور اذیت پہنچانے کا سبب نہ بنیں۔ کسی سے تکبراور ظلم سے پیش نہ آئیں ۔ اقتدار اور وسائل کا عوام کی اذیت کے لیے استعمال نہ کریں۔ ہر قسم کے امتیازی حیثیت ،جاہ طلبی  اوربرتری کے حصول سے گریز کریں۔  ہر افغان کو اپنا بھائی سمجھ کر اس کی عزت کریں۔

مزید :

اہم خبریں -بین الاقوامی -