موقع پرست لٹیا ڈبو دیں گے

موقع پرست لٹیا ڈبو دیں گے
موقع پرست لٹیا ڈبو دیں گے

  

نام لکھ دیاجائے، تو ان کے لئے مشکل ہو جائے گی پارٹی (تحریک انصاف) میں رہنا بھی ناممکن ہو جائے گا۔ تحریک انصاف کی یہی روایت چلی آ رہی ہے،جو کوئی پارٹی مؤقف سے ہٹ کر بات کرے شو کاز نوٹس، انکوائیری اور پھر برطرفی اس لئے بہتر ہے کہ اپنے دوست کو بچا لیا جائے، لیکن صحافی ہونے کے ناتے ان سے کی گئی گفتگو ہضم بھی نہیں ہورہی، قلم کاری کئے بغیر رہا بھی نہیں جائے گا سو نام لکھے بغیر ہی کام چلاتے ہیں۔ یہ وزیراعظم عمران خان کے حالیہ دورہ ملتان سے قبل کا ذکر ہے، سوشل میڈیا پر حکومت ہدف تنقید، تھی بلکہ رکیک جملے کسے جا رہے تھے،بنا لگی لپٹی، تبصرے، صبر کا پیمانہ لبریز کر دینے والی پوسٹوں کا سلسلہ شیطانی آنت کی طرح بڑھتا ہی چلا جارہا  تھا انہی جملہ بازیوں میں کراچی سے پی ٹی آئی کے ایک سینئر رہنما کی ریکارڈڈ گفتگو بھی زیر بحث ہے جو واٹس ایپس گروپس میں مقبولیت کے ریکارڈ توڑ رہی ہے، لیکن میرے نزدیک وہ کتنی ہی حقیقت پرمبنی کیوں نہ ہو، قابل ِ اشاعت، اور نہ ہی قا بل ِ سماعت ہے استعمال کی گئی زبان انتہائی عامیانہ۔

سو زیر بحث ہی نہیں لاتے۔ چلتے ہیں موضوع ہمنوا کی طرف، سوچ یہ تھی کہ حکومتی کارکردگی پر اتنی تنقید ہو رہی ہے تو کیوں ناحکومتی احباب سے بھی تبصرہ حاصل کیا جائے سو مدعو کر لیاانہوں نے بھی ہماری درخواست پر آمادگی ظاہر کی، ہم نے موقع ضائع نہ کیا اور اپنے ایک صحافی نما دوست کو بھی بلوا لیا کہ دونوں مل کر کچھ کریدنے کی کوشش کریں گے وقت مقررہ سے کچھ تاخیر سے وہ تشریف فرما ہوئے، پھر طویل نشست، حکومت،سیاست،بیورو کریسی، سیاسی سیٹ اپ اسٹبلشمنٹ زیر بحث آیا۔پہلے پندرہ منٹ فارمل گفتگو کے بعد موصوف اٹھے دروازے کے پاس جا کر سینڈل (جوتی)اتاری اور واپس آ کر صوفے پر التم پلتم،میں نے لقمہ دیا صاحب اب فارم میں آئے لگتے ہیں۔

واقعی وہ فارم میں آ گئے پہلے جو دبے لفظوں میں حکومتی امور کی کبھی تعریف کبھی تنقید کر رہے تھے ایک دم سے لب و لہجہ بدل گیا بے بسی کے انداز میں سر پکڑ بیٹھ کر بولے کیا کریں تبدیلی نے تباہ کردیاہے ایسی جہالت ایسی نااہلی کسی کو کچھ معلوم ہی نہیں ہو کیا رہا ہے کس نے کیا کرنا ہے کس کا کیا کام ہے کیسے ہونا ہے حکومتی امور کیسے انجام پانا ہیں سب ڈھکوسلا ہے میں اور میرا دوست صحافی ایک دوسرے کو کن اکھیوں سے دیکھتے اندازہ لگائے جارہے کہ جناب موصوف جو ہر وقت کسی نہ کسی چینل پر حکومتی مؤقف بیان کرتے ہلکا ن ہو رہے ہوتے ہیں کیسے جذباتی ہو رہے ہیں ویسے یہ چند لمحوں کی بے تکلفی تھی اور اگر دل ٹٹول کر دیکھا جائے تو جانے کیا کیا درد چھپے ہوں گے اسی دوران فرمانے لگے 6 ماہ کی مسلسل کاوشوں کے بعد جب جناب وزیراعظم عمران خان سے شرف ملاقات کی امید بر آئی تو ہمارے وزیراعظم صاحب ایک گھنٹے کی ملاقات میں 50منٹ تک تو ہمیں اپنے کرکٹ کے واقعات ہی سناتے رہے کہ مَیں نے اس موقع پر گواسگر کو فلاں بات کی اور فلاں وقت سر ویون رچرڈ کے ساتھ فلاں قصہ ہوا، دورہ انگلینڈ میں آئن بوتھم میرا ہدف تھا اور ورلڈ کپ 1992ء تو ضد تھی، اور انسان اس وقت تک نہیں ہارتا جب تک وہ خود ہار نہ مان لے،وغیرہ وغیرہ۔ کرکٹ کی گفتگو سے جو باقی کے چند منٹ ملے، ہم صرف اتنا ہی کہہ پائے کہ جناب ملتان میں سول سب سیکرٹریٹ دفاتر کا قیام اور دیگر منصوبوں کے افتتاح کے لئے تشریف لے آئیں اور وقت ختم ہوگیا وزیراعظم صاحب کی اور بھی مصروفیات تھیں۔

یہ نشست برخاست ہوئے ابھی زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ وزیراعظم عمران خان کا دورہ ملتان شیڈول ہو گیا 26 اپریل، بروز سوموار ملتان تشریف لائے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار ہمراہ تھے،جبکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر مملکت ملک عامر ڈوگر سمیت خطے سے حکومتی اراکین پارلیمنٹ نے انہیں ہوم ٹاؤن ملتان میں خوش آمدید کہا، جہاں جنوبی پنجاب سول سیکرٹریٹ کا سنگ بنیاد رکھا گیا متعدد ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا گیا کاشتکاروں میں کسان کارڈ تقسیم کئے اور ساتھ ہی اربوں روپے کے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیا وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار بھی پیچھے نہ رہے صرف ضلع ملتان کے لئے 34 ارب کے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیا اور یہ جا وہ جا۔ اب یہ ترقیاتی امور کب مکمل ہوں گے کب رقوم آ ئیں گی کسی کو کچھ معلوم نہیں ہے کیا معلوم اس پیکیج کا حشر بھی کراچی پیکیج جیسا ہو۔ خیر یہ سب تو چلتا رہتا ہے فکر یہ لاحق ہے کہ عمران خان حکومت بننے سے قبل جب جنوبی پنجاب آیا کرتے تھے تو ان کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر جہانگیر ترین ہوا کرتے تھے ماضی کا وہ وقت کتنا یاد آتا ہوگا یہ تو جہانگیر ترین ہی جانیں۔خیر سے اب تو شاہ محمود قریشی کا طوطی بول رہا ہے۔وزیراعظم عمران خان کے دورہ ملتان کے دوران ہی شاہ محمود قریشی نے جہانگیر ترین کو پیغام دیا کہ یا تو ادھر کے ہوجاؤ یا ادھر کے درمیان والے اچھے نہیں ہوتے۔

دوسری جانب جہانگیر ترین نے شاہ محمود قریشی کے اس طنز پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ قریشی صاحب کی چھوٹی بات ہے دونوں کے درمیان یہ سرد جنگ جاری ہے جہانگیر ترین کا گروپ اپنی جگہ موجود ہے ان کے ساتھ جتنے اراکین پارلیمنٹ تھے ان کے ساتھ کھڑے ہیں جہانگیر ترین گروپ کے ملتان سے ایک رکن قومی اسمبلی کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ جہانگیر ترین جب چاہیں مرکز اور پنجاب میں حکومت ختم کر سکتے ہیں عمران خان  کے ارد گرد جتنے بھی کھڑے ہیں سب بکاؤ مال ہے موقع پرست ہیں جب مشکل وقت پڑا ان میں سے ایک بھی خان صاحب کے ساتھ نظر نہیں آئے گا اگر عزت بچانا ہے تو پارٹی کے نظریاتی ساتھیوں کا آگے لانا ہو گا ورنہ یہ موقع پرست تو لٹیا ڈبو دیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -