صبر اور شکر کرنے والوں کیلئے خوشخبری...!

صبر اور شکر کرنے والوں کیلئے خوشخبری...!
صبر اور شکر کرنے والوں کیلئے خوشخبری...!

  

ہر انسان کو اپنی زندگی میں مصائب و مشکلات کا سامنا ضرور کرنا پڑتا ہے چاہے وہ غریب ہو یا امیر، بوڑھا ہو یا جوان، نیک ہو یا بد، مرد ہو یا عورت، سب کو کبھی نہ کبھی مصائب و مشکلات وغیرہ سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔ 

سب سے زیادہ مصائب وشدائد انبیآءکرام علیھم السلام پر وارد ہوتے ہیں پھر جو شخص جس حد تک اُن مقدس ہستیوں انبیآء کرام ( علیھم السلام )کی رفاقت و محبت کا دم بھرتا ہے،اسی نسبت سے اسے بھی ان مصائب وشدائد کا حصہ دار بننا پڑتا ہے چنانچہ حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگا میں آپ سے محبت کرتا ہوں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا "ذرا سوچ  لو جو کہہ رہے ہو" اس کے بعد اس آدمی نے تین بار یہی بات دہرائی کہ "میں آپ سے محبت کرتا ہوں " آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر تم اپنے اس محبت کے دعوے میں سچے ہو تو پھر فقر اور اس کے ساتھ آنے والی مصیبتوں کیلئے ایک لوہے کا جھول تیار کر لو۔کیونکہ مجھ سے محبت کرنے والے کی طرف فقر اس سے بھی زیادہ تیزی سے آتا ہے جیسے رُکا ہوا پانی نشیب کی طرف جاتا ہے "ایک اور روایت میں ہے کہ" تم میں سے جو مجھ سے محبت کرتا ہے اس کی طرف فقر اس سے بھی زیادہ تیزی سے آتا ہے جیسے وادی کی بلندی سے پانی نشیب کی طرف آتا ہے ۔۔۔

بعض لوگ دنیا میں حد سے زیادہ دکھ ، تکلیف اور بیماری کا شکار بنتے ہیں۔ ان لوگوں کو اجر وثواب اسی مقدار میں ملے گا جس مقدار میں انہوں نے مصیبت اٹھائی ۔ سب سے زیادہ تکالیف اللہ کے پیغمبروں(علیھم السلام) اور برگزیدہ ہستیوں نے برداشت کیں اور ان پر شکر اورصبرکیا۔۔۔جس طرح حضرت یعقوب علیہ السلام کو ان کے بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام کی اندوہناک خبرسنائی گئی توانہوں نے صبرکیا۔۔۔ امُ المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ کوایک سازش کے تحت بدنام کرنے کی کوشش کی گئی توآپؓ نے صبر کیا جس کو صبرجمیل کہا جاتاہے۔۔۔ اسی طرح حضرت حارثؓ کو تپتے انگاروں پرلٹایا گیا ،حضرت بلال حبشی ؓ کے گلے میں رسی ڈال کرگھسیٹاگیا۔۔۔حضرت صہیب رومیؓ کو ہجرت کے موقع پرمال ودولت سے ہاتھ دھونا پڑا، حضرت ابو سلمہ ؓ سے ان کے بیوی بچے چھین لیے گئے ،سیدہ ام سلمہؓ سے بچے اور شوہرچھین لیاگیا ۔حضرت خبیب ؓ کوایمان لانے کی وجہ سے سولی پرلٹکا دیاگیا۔

گویا حق وباطل کے معرکہ میں سب سے زیادہ صبر وثبات سینہ سِپر ہونے والی جماعت حضرات انبیآء کرام علیھم السلام کی جماعت ہوتی ہے ان کے بعد اس مقدس جماعت کو مصائب وآلام کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو انبیآءکرام کا ساتھ دیتی ہے۔

بدر واحد، ہجرت حبشہ و ہجرت مدینہ میں جانثارانِ مصطفے ﷺ کی ایمانی حمیت وغیرت،جرات و شجاعت، صبر واستقلال اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ نصرت خداوندی کا وعدہ ہر اس جماعت کیساتھ ہے جو اپنی ایمانی حمیت وغیرت کیساتھ استقامت واستقلال میں لغزش نہ آنے دے۔۔۔

سورت بقرہ میں ارشاد خداوندی ہے کہ کیا تم خیال کرتے ہو کہ جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ تمہیں وہ (حالات) پیش نہیں آئے جو ان لوگوں کو پیش آئے جو تم سے پہلے ہو گزرے ہیں، انہیں سختی اور تکلیف پہنچی اور ہلا دیے گئے یہاں تک کہ رسول (علیہ السلام )اور جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے بول اٹھے کہ اللہ کی مدد کب ہوگی! سنو بے شک اللہ کی مدد قریب ہے۔(سورت بقرہ آیت 214)

مصائب وشدائد کو برداشت کرنے کا نام صبر ہے۔۔۔ ایک عورت اپنی قریبی رشتہ دار کی قبر پر بیٹھی جزع فزع کر رہی تھی آپ ﷺ اس کے پاس سے گزرے اور فرمایا" اگر صبر کرو تو تمہارے لئے جنت کا وعدہ ہے " وہ کہنے لگی،، اگر آپ ﷺ کو ایسا صدمہ پہنچے تو معلوم ہو کہ کیسے صبر ہو سکتا ہے؟ خیر آپ ﷺ وہاں سے تشریف لے گئے بعد میں کسی نے اس عورت کو بتلایا کہ یہ تو اللہ کے رسول ﷺ تھے تم نے اُنہیں ایسا جواب کیوں دیا ہے ؟؟ وہ عورت آپ ﷺ کے پاس آئی اور عرض کرنے لگی اے اللہ ! میں صبر کرتی ہوں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا صبر تو اس برداشت کا نام ہے جو تکلیف پہنچنے پر فورا کی جاتی ہے، رونے دھونے اور جزع فزع کے بعد تو ہر آخر ہر ایک نے خاموش ہونا ہی ہوتا ہے اور وہ کر بھی کیا سکتا ہے؟ اور ثبات یہ ہے کہ ان مصائب اور نامساعد حالات کی موجودگی میں بھی اپنے مشن کو جاری رکھنے میں کبھی لغزش نہ آئے۔۔۔۔

رسالہ قشیریہ میں امام قشیری رحمہ اللہ علیہ نے سیدنا علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الْکریم کا قول نقل کیا ہے کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے ارشاد فرمایا ایمان میں صبر کا وہی مقام ہے جو بدن میں سر کا ہوتا ہے ،بغیر سر کے جسم ہلاک ہو جاتا ہے ، پھر سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الْکریم نے بآوازِ بلند ارشاد فرمایا کہ جس کا صبر نہیں اُس کا ایمان نہیں، صبر ایسی سواری ہے جو بھٹکتی نہیں ۔

اگر قرآن و حدیث کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ مصائب اور مشکلات آنے کی دو وجوہات ہیں۔

1۔ بعض دفعہ اللہ رب العزت بندوں کو بطور امتحان مصائب و مشکلات میں مبتلا کر دیتے ہیں۔

2۔ بعض دفعہ اللہ رب العزت بندوں کے گناہوں کی وجہ سے انہیں مصائب سے دو چار کر دیتے ہیں۔

1-" بطورِ امتحان مصائب و مشکلات "

اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں کہ اور ہم ضرور تمہیں خوف اور فاقہ میں مبتلا کر کے، نیز جان ومال اور پھلوں کے خسارہ میں مبتلا کر کے تمہاری آزمائش کریں گے اور (اے نبی ﷺ !) ایسے صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے کہ جب انہیں کوئی مصیبت آئے تو فوراً کہہ اٹھتے ہیں کہ : ہم (خود بھی) اللہ ہی کی مِلک ہیں اور اسی کی طرف ہمیں لوٹ کر جانا ہے۔(سورت بقرہ آیت 155,156)

جو آدمی مصائب میں (انا للہ وانا الیہ راجعون) پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر تعمیر کردا دیتے ہیں۔

سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:جب کسی آدمی کا بیٹا فوت ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے پوچھتے ہیں تم نے میرے بندے کے بیٹے کو قبض کر لیا؟ وہ کہتے ہیں جی ہاں! پھر اللہ تعالیٰ پوچھتے ہیں تب میرے بندے نے کیا کہا تھا؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ اس نے تیرا شکر ادا کیا اور (انا للہ وانا الیہ راجعون) پڑھا تھا تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: تم میرے بندے کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دو اور اس کا نام ’’بیت الحمد‘‘ یعنی شکرانے کا گھر رکھ دو۔(ترمذی شریف)

پہلی امتوں کو بھی بطور آزمائش مصائب و مشکلات میں ڈالا گیا۔ اللہ رب العزت نے پہلی امتوں کو بھی آزمانے کے لیے ان کو مصائب، مشکلات، پریشانیوں وغیرہ میں مبتلا کیا۔سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا! آزمائش مومن مرد اور مومن عورت کا پیچھا نہیں چھوڑتیں کبھی خود اس پر مصیبت آ جاتی ہے کبھی اس کی اولاد پر اور کبھی اس کے مال پر یہاں تک کہ جب وہ اللہ تعالیٰ سے ملتا ہے تو اس کے نامہ اعمال میں کوئی گناہ نہیں ہوتا۔( ترمذی شریف )

2-"مصائب و مشکلات انسان کے بُرے اعمال کا نتیجہ"

مصائب و مشکلات وغیرہ نازل ہونے کا دوسرا بڑا سبب خود انسان کے بُرے اعمال ہیں۔بُرے اعمال کی اصلی سزا تو مرنے کے بعد ملے گی مگر اللہ رب العزت دنیا میں بھی گناہوں کی وجہ سے بندوں کو مصائب و مشکلات میں مبتلا کرتے رہتے ہیں۔

جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوتوں کا بدلہ ہے اور اللہ تعالیٰ تو بہت سی باتوں سے درگزر فرما لیتےہیں۔ ( سورت شورٰی آیت 30 )

یعنی کچھ برائیاں اور گناہ ایسے ہیں جن کی معمولی سزا دنیا میں ہی دے دی جاتی ہے اور اکثر گناہوں سے تو اللہ تعالیٰ درگزر فرما لیتے ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کے تمام گناہوں پر دنیا میں ہی پکڑ فرمانا شروع کر دیں تو دنیا میں انسان و جنات تو کیا چرند و پرند اور دیگر مخلوقات کا بھی نام و نشان مٹ جائے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے! اور اگر اللہ رب العزت انسانوں کے اعمال (گناہوں، کرتوتوں وغیرہ) پرفورا مؤاخذہ شروع دیں تو زمین پر کوئی بھی چلنے والا باقی نہ رہے۔(سورت فاطر آیت 45)

"مصائب کی وجہ سے گناہ معاف"

مومن بندوں کو اگر کوئی مصیبت، پریشانی، تکلیف، غم، دکھ پہنچتا ہے تو ان مصائب کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مومن بندوں کے گناہ معاف کر دیتے ہیں۔ جیسا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: مومن بندے کے جسم میں جو تکلیف پہنچتی ہے تو اس تکلیف کی وجہ سے اللہ رب العزت اس کے گناہوں کو معاف فرما دیتے ہیں۔(مسند احمد بن حنبل )

اللہ تعالیٰ مومن بندوں کے ساتھ بہت زیادہ محبت کرتے ہیں جب اللہ تعالیٰ مومن بندوں کے گناہوں کو مٹانا چاہتے ہیں تو ان کو مصائب و مشکلات میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ مسند احمد میں روایت ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: جب مومن کے گناہ بڑھ جاتے ہیں اور ان گناہوں کے کفارے کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی تو اللہ تعالیٰ اس بندے کو رنج و غم میں مبتلا کر دیتے ہیں اور وہ غم و مصائب اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں۔ بلکہ کسی مومن بندے کو اگر ایک کانٹا بھی چبھ جاتا ہے تو وہ بھی گناہوں کو مٹانے کا سبب بن جاتا ہے۔ بخاری شریف میں ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مسلمان کو جو بھی پریشانی، غم، رنج، تکلیف اور دکھ پہنچتا ہے حتی کہ اگر اس کو کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کانٹے کے چبھنے کی تکلیف کو اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتے ہیں۔

حضرت ابو علی الدقاق رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا صابرین دونوں جہانوں میں عزت کیساتھ کامیاب ہوئے،کیونکہ انہوں نے اللہ تعالی کی معّیت حاصل کر لی،بیشک اللہ تعالی صبر کرنے والوں کیساتھ ہے۔

قارئین کرام!معلوم ہوا کہ مصائب وشدائد انسان کے لیے باعث رحمت ہیں بطور آزمائش ہوں یا بطور سزا، بطور آزمائش ہوں تو یہ محبت الہی کی دلیل ہیں بطور سزا ہوں تو گناہوں کا کفارہ ہیں اس لیے ہم کو مصائب وشدائد سے گبھرانا نہیں چاہیے بلکہ آنے والے مصائب وشدائد پر صبر وتحمل و برداشت کرتے ہوئے توبہ نصوح،رجوع الی اللہ اور خدمتِ انسانیت کیلئے مصروف عمل رہنا چاہیئے ۔

شیخ الاسلام علامہ ابن قیم رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

اگر اللہ تعالیٰ بندوں کو دنیاوی مصائب و آلام سے دوچار نہ کرتے تو وہ سر کش ہو جاتے، تکبر، خود پسندی، سنگدلی میں مبتلا ہو جاتے یہ رحمت الٰہی ہی ہے اس نے مصائب کی مختلف دواؤں سے بندوں میں موجود ردی اور فاسد مادوں کا استفراغ کیا۔

(علامہ محمد اُسیدالرحمن سعید شہر لاہور کے معروف نوجوان عالم دین ہیں ، صاحب علم و فن ،صحافت و خطابت میں بے مثال دسترس ،عقل ودا نا ئی ،عزمِ محکم اور پختگی کی روشن مثال ہیں،فقہی اور فروعی مسائل میں الجھنے کی بجائے قرآن و سنت سے معاملات سلجھانے پر یقین رکھتے ہیں ۔کئی قومی اخبارات کے جمعہ ایڈیشن میں دینی معاملات پر اپنے علم روشنی کی روشنیاں بکھیرتے ہیں جن سے ہزاروں افراد استفادہ کرتے ہیں ، اب وہ ’ڈیلی پاکستان ‘ کے قارئین کی بھی  دینی معاملات پر راہنمائی کیا کریں گے ) 

مزید :

بلاگ -روشن کرنیں -