کلکتہ کی بلیک ہول کال کوٹھڑی جہاں موت کے سوا کچھ نہ تھا ۔۔۔۔ (1756)

 کلکتہ کی بلیک ہول کال کوٹھڑی جہاں موت کے سوا کچھ نہ تھا ۔۔۔۔ (1756)
 کلکتہ کی بلیک ہول کال کوٹھڑی جہاں موت کے سوا کچھ نہ تھا ۔۔۔۔ (1756)

  

مصنف : ای مارسڈن 

1756ءمیں علی وردی خاں نواب بنگال فوت ہوا اور اس کا پوتا سراج الدولہ اس کا جانشین بنا۔ یہ شخص کوئی 25 برس کا نوجوان تھا۔ شاہی ناز و نعم میں پلا تھا۔ ایام طفلی میں محلوں کے اندر جو کچھ مانگتا تھا۔ اسی وقت مہیا کیا جاتا تھا۔ یہ جانتا ہی نہ تھا کہ باہر کیا ہو رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ عقل کا خام، بیوقوف، بے رحم اور ضدی ہو گیا۔ یہ انگریزوں سے نفرت کرتا تھا۔ اس نے سنا تھا کہ کلکتہ بڑا مالدار شہر ہے اور اس کی بڑی آرزو یہ تھی کہ کلکتہ جاﺅں اور وہاں کی دولت لوٹ کر اپنے خزانہ پر کروں۔ 

 گدی پر بیٹھتے ہی اس نے انگریزوں سے چھیڑ چھاڑ شروع کر دی۔ اسکی کیفیت یہ ہے کہ فورٹ ولیم کے گورنر نے سنا تھا کہ فرانسیسیوں کے ساتھ پھر لڑائی ہونیوالی ہے۔ وہ ڈرتا تھا کہ شاید چندرنگر کے فرانسیسی کلکتہ پر حملہ کریں۔ اس خوف سے اس نے فورٹ ولیم کی فصیل مرمت کرائی تھی۔ سراج الدولہ نے لکھا کہ تم فصیل کو گرا دو۔ گورنر نے جواب دیا کہ یہ نہیں ہو سکتا، کیونکہ فصیل کے گرا دینے سے کلکتہ فرانسیسیوں کے سامنے غیر محفوظ حالت میں پڑا رہ جائے گا۔

 اس جواب کو پڑھ کر نواب کو غصہ آیا اور 50 ہزار کی فوج لے کر کلکتہ پر حملہ آور ہوا۔ فورٹ ولیم میں اس وقت کل 170 فرنگی تھے اور وہ بھی ایسے کہ جن میں سے شاید کسی نے لڑائی کا میدان دیکھا ہو۔ ان سے کام لینے والا کلائیو جیسا کوئی بہادر اور من چلا افسر بھی نہ تھا جس طرح ہو سکا 4 دن تک انہوں نے اپنی جانیں بچائیں۔ اس کے بعد محکمہ سول (ملکی) کے اکثر مرد و عورتیں اور بچے جہاز میں بیٹھ کر دریا کے راستے نکل گئے جو باقی تھے انہوں نے اس شرط پر قلعہ دشمن کے حوالے کیا کہ ان کی جانیں بخش دی جائیں۔

 اس وقت نواب تو سو رہا تھا اور پہرہ داروں نے 146 قیدیوں کو ایک ایسی تنگ و تاریک کوٹھڑی میں بند کر دیا جس میں پہلے ایک اکیلا قیدی رکھا جاتا تھا۔ یہ ایسی گرم اور تاریک تھی کہ بلیک ہول (کال کوٹھڑی) کے نام سے مشہور ہے۔ اتنے انسانوں کا اس تنگ کوٹھڑی میں بند کرنا ان کے لیے یقینی موت تھی۔ جب ان میںقیدیوں کا سانس رک رک کر دم نکلتا تھا تو پہرہ دار ظالم ان کو دیکھ دیکھ کر ہنستے تھے۔(جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -