یہ دیو سائی تھا، جِنوں کا گھر۔۔۔۔سیو شر جھیل کے نیلے پانی ابھی برف کی سفیدی اوڑھے سو رہے تھے

 یہ دیو سائی تھا، جِنوں کا گھر۔۔۔۔سیو شر جھیل کے نیلے پانی ابھی برف کی سفیدی ...
 یہ دیو سائی تھا، جِنوں کا گھر۔۔۔۔سیو شر جھیل کے نیلے پانی ابھی برف کی سفیدی اوڑھے سو رہے تھے

  

مصنف : عمران الحق چوہان 

قسط :80

علی آباد: 

جہاں سے ہم آئے تھے وہاں ہمارے ارد گرد چھے چھے سات سات فٹ موٹی برف کی تہیں تھیں اور تا حدِ نگاہ برف کا میدان تھا۔ یہ دیو سائی تھا، جِنوں کا گھر۔ جب برفیں نہیں ہوتیں تو دیو سائی سبزے کا سمندر ہو تا ہے لیکن اس وقت جون میں یہ برف کا صحرا تھا۔ سیو شر جھیل کے نیلے پانی ابھی برف کی سفیدی اوڑھے سو رہے تھے۔ جھیل کے پہلو سے ہوکر سکردو کی طرف جانے والا راستہ ابھی برف کی دبیز تہہ کے نیچے پو شیدہ تھا اور برف ہٹا نے والی پیلے رنگ کی بھاری مشین برفانی تو دوں کے بیچ جیسے آ دھے راستے میںہ ار مان کر کھڑی ہو گئی تھی۔ مقامی ڈرائی ور ہمیں صاف راستے سے ہٹ کر برف پر چلنے سے بار بار روکتا تھا، کہیں بھی کھوکھلی برف کے نیچے کو ئی کھائی،کو ئی خلاءہو سکتا تھا جو اپنے اوپر چلنے کی جسارت کرنے والے کو نگل سکتا تھا۔طاہر نے ایک جگہ راستے سے ہٹ کر قدم رکھا تو اس کا جسم کمر تک برف میں غائب ہو گیا۔ میں نے اور ڈرائی ور نے دوڑ کر اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے برفیلی دلدل سے نکالا تھا۔

لیکن دیو سائی سے دور علی آباد کا موسم گرم تھا۔ شہر کی حالت بدل چکی تھی۔ اب وہ نیا نیا اور صاف ستھرا دکھائی دیتا تھا۔ جگلوٹ کے آس پاس سے شروع ہونے والی نئی نکور سڑک علی آباد کے اندر سے گزرتی ہوئی خنجراب تک جاتی تھی لیکن بیچ میں عطا ءآ باد جھیل کا وقفہ پڑتا تھا۔ علی آباد مزاج کے اعتبار سے ایک کاروباری شہر ہے۔ با لخصوص ہو ٹل مالکان کر خت اور بے لحا ظ ہیں۔ مری کے ہوٹل مالکان کی طرح آپ کے کمرہ لے لینے کے بعد ان کا رویہ بھی نہایت غیرمہذب ہو جاتا ہے۔ دو تین ہوٹل گھوم کر ہم جس ہو ٹل کے کاؤنٹر پر کھڑے تھے اس کا ملازم ایک نوجوان لڑکا تھاجس نے مناسب کرائے پر ہمیں کمرے دےدیے۔ بجلی کے سوال پر اس نے کہا۔

”بجلی تو سر! ادھر سارا دن نہیں آتا۔“ 

”اور پانی؟“ میں نے پچھلی بار کے تجربے کے پیش ِ نظر پوچھا۔

”پانی تو کھلا ملے گا۔“

اور ہم نے کمرے لے لیے۔

علی آباد پر رونق تھا اور باہر شام کے ملگجے اجالے میں قمقمے جلنے لگے تھے۔ جو بلی ہو ٹل سے کھانا کھا کر ہم یوں ہی گھو منے لگے۔ سڑک پر چہل پہل تھی۔دکانیں کھلی اور خوب روشن تھیں اور ان میں ضرورت کا سامان بھرا تھا۔ طاہر کی گردن کا پٹھا شاید بے آرامی سے اکڑا ہوا تھا۔ میں اس کے ساتھ میڈیکل سٹور ڈھو نڈنے نکلا۔ انجیر بی بی گرلز ہو سٹل کے نزدیک ایک میڈیکل سٹور نظر آ یا جس کا مالک تا لا لگا کر کہیں جا رہاتھا۔ ہم دوڑ کر اس کے پاس پہنچے اور دوائی کی درخواست کی۔ اس نے بند تا لا کھولا اور دو تین گو لیاں دیں۔ 

”کتنے پیسے سر؟“ طاہر نے پو چھا۔

”بس آپ گو لی کھائیں، کو ئی پیسا نہیں۔ آپ اِدر مہمان ہیں۔“ دکان دار نے اتنی نرمی سے کہا کہ ہمیں اصرار کی ہمت بھی نہیں ہو ئی۔ اس نے پھر دکان بند کی اور چلا گیا۔ 

آسمان پر بادل تھے جس کی وجہ سے راکا پو شی نظر سے اوجھل تھی۔ طاہر نے ایک مارکیٹ دریافت کی جہاں سب دکان دار خواتین تھیں۔ ترشنگ سے علی آباد تک کے مسلسل سفر نے سب کو تھکا دیا تھا اس لیے ہم جلدی سو گئے۔

عطا ءآ باد جھیل کی طرف:

اگر خوش آمدید ہمیں نہ ملتا تو علی آباد کی اس صبح، جب ہم عطا ءآباد جھیل کے پار اتر کر پسو تک جانا چاہتے تھے، ہم بہت دیر تک سڑک کنارے گاڑی کا انتظار ہی کر تے رہتے۔ خوش آمدید ،ہنزہ کے زیادہ لو گوں کی طرح نرم خو اور دھیمے مزاج کابیس پچیس سالہ نوجوان تھا ۔ اس نے مناسب کرائے پر ہمیں عطا ءآباد تک پہنچانے کی پیش کش کی تو ہم اس کی ویگن میں سوار ہوگئے۔ لیکن ایک سوال مجھے تنگ کر رہا تھا۔ میں جو اتنے برسوں سے ہنزہ کی خاک چھان رہا ہوں، میں نے عطا ءآباد کا نام کیوں نہیں سنا تھا؟ میرے لیے یہ نام اجنبی اور نامانوس کیوں تھا؟ یہاں آئین آباد، ششکٹ، بوریت، غارئیٹ، غاؤش بین تھے۔ عطا ءآباد کہاں تھا؟

 ویگن کے اندر ندیم کی فلیش ڈرائیو پر لتا کی کومل آواز گونج رہی تھی اور گاڑی جیسے پانی پر بہتی چلی جاتی تھی۔ شاہراہ ِ ریشم کو یہ نام اس لیے دیا گیا تھا کہ ما ضی میں تا جر اس راستے سے چین سے ریشم ہندوستان لایا کر تے تھے۔لیکن اگر ریشم آتا تھا تو بھارت سے گرم مسالے اور بہت سی دوسری چیزیں جاتی بھی تو تھیں۔ اس اعتبار سے اس کا نام شاہراہِ دارچینی یا گرم مسالا روڈ بھی ہو سکتا تھا لیکن چوں کہ ہندوستانی مزاجا ً مفتوح قوم ہیںاس لیے یہ راستہ چینی حوالے سے پہچانا گیا۔ تب اس سڑک کی حالت ویسی ہی ہوتی ہوگی جیسی عام پہا ڑی راستوں کی ہوتی ہے لیکن جب ہم خوش آمدید کی ویگن میں اس پر سفر کرتے تھے تو لگتا تھا کہ گاڑی ریشم کی ایک طویل پٹی پر پھسلتی جاتی ہے، بغیر جھٹکا کھائے یا تھر تھرائے۔ گنیش سے باہر زرد پہاڑوں کے بیچ سیاہ ہموار سڑک کسی ماہ وَش کی ریشمی زلفوں کی طرح ملائم اور گھنگرالی تھی۔(جاری ہے )

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )۔

مزید :

کتابیں -ہنزہ کے رات دن -ادب وثقافت -