ایم این اے کی درخواست پر ایف آئی اے کی جانب سے شہری کو ہراساں کرنے کا معاملہ 

ایم این اے کی درخواست پر ایف آئی اے کی جانب سے شہری کو ہراساں کرنے کا معاملہ 
ایم این اے کی درخواست پر ایف آئی اے کی جانب سے شہری کو ہراساں کرنے کا معاملہ 

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی کنول شوذب کی پڑوسی کیخلاف درخواست پر ایف آئی اے کی جانب سے شہری کو ہراساں کرنے کے معاملے پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایف آئی اے حکام سے جواب طلب کر لیا۔

نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے استفسار کیا تفتیشی افسر اور ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے بتائیں اختیارات کے غلط استعمال پر کیوں نا انہیں جرمانہ عائد کیا جائے ؟ایف آئی اے کے تفتیشی افسر اوروفاق کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے ،چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے نے اختیارات کا غلط استعمال کیا، ایک شریف بزرگ جوڑے کو ایف آئی نے ہراساں کیا،بتائیں کیا یہ کیس کسی بھی صورت پیکا کے تحت آتا تھا ؟آپ یہ ہی پوچھ لیتے کہ وہ کون سا موادہے جو سوشل میڈیا پر اپلوڈہوا،آپ نے انکوائری کر کے نوٹس جاری کر دیا ،آپ کو انکوائری کرنے کی ہدایات کس نے دی تھیں؟کیوں نہ تفتیشی افسراور انکوائری کا حکم دینے والے کو مثالی جرمانہ کیا جائے ؟

ایف آئی اے تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ ہم نے بھی اس واقعے سے سبق سیکھا ہے ، جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایف آئی اے یہ سبق آئندہ کبھی نہیں بھولے گا،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ فریقین کے مابین معاملہ حل ہو گیا ہے اس لیے معاملہ نمٹا دیا جائے ، عدالت نے مزید سماعت 28جون تک کیلئے ملتوی کر دی ۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -