سلامتی کونسل مفلوج ہو چکی ،مقبوضہ کشمیر میں غیر قانونی کارروائی اقوام متحدہ کی قراردادوں پر بھی حملہ ہے، بلاول

سلامتی کونسل مفلوج ہو چکی ،مقبوضہ کشمیر میں غیر قانونی کارروائی اقوام ...
 سلامتی کونسل مفلوج ہو چکی ،مقبوضہ کشمیر میں غیر قانونی کارروائی اقوام متحدہ کی قراردادوں پر بھی حملہ ہے، بلاول

  

اقوام متحدہ (طاہر محمود چوہدری سے) پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات اور خوراک کی حفاظت پر کھلی بحث کے دوران اپنے بیان میں کہا ہے کہ "پاکستان عالمی غذائی عدم تحفظ پر اس بروقت بحث کا خیرمقدم کرتا ہے. انسانی تاریخ میں ہمیشہ جنگ نے غربت پیدا کی ہے. اگرچہ دنیا نے خوشحالی کو فروغ دینے میں ترقی کی ہےلیکن تنازعات اور غربت کی وجوہات پر توجہ دینا باقی ہے. کووڈ-19 وبائی بیماری، معاشی سست روی، بڑھتی ہوئی قیمتیں اور موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے اثرات  نے عالمی ترقی کو الٹا دیا ہے، اور 30 ​​برسوں میں پہلی بار غربت اور بھوک میں اضافہ ہوا ہے. بڑی طاقتوں کی اپنے حریفوں کے ساتھ سیاسی بات چیت اکثر تعطل کا شکار رہی ہے. سلامتی کونسل مفلوج ہو چکی ہے.  پرانے تنازعات پھر سے نمو پا چکے ہیں جبکہ نئے تنازعات پیدا ہو رہے ہیں. یہ دراصل اقوام متحدہ  ہی ہے جو تمام معاملات کے  حل کیلیے قائم کی گئی ہے.  ہم خوراک کے عدم تحفظ اور تنازعات کی بنیادی وجوہات کو حل کرنے کے لیے قیادت فراہم کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی طرف بھی دیکھتے ہیں. یوکرین کے لوگ جاری تنازعہ کی وجہ سے بھوکے سو جاتے ہیں. افغانستان کے 95 فیصد لوگ تنازعات کے براہ راست نتیجے کے طور پر غربت کے خطرے سے دوچار ہیں.  فلسطین اور آزاد و جموں کشمیر کے مقبوضہ علاقوں کے لوگ مسلسل تنازعات کی وجہ سے قید کی زندگی گزار رہے ہیں.  بھارت کی طرف سے 5 اگست 2019ء اور 5 مئی 2022ء کو غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں کشمیر میں کی گئی کارروائی نہ صرف کشمیری عوام پر حملہ ہے بلکہ یہ اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور اس کی قراردادوں  پر بھی حملہ ہے. مسئلہ کشمیر حل کریں. جنوبی ایشیا میں امن کے دروازے کھولیں اور دیکھیں کہ پاکستان اور بھارت کے کسان دنیا کو کیسے پال سکتے ہیں."

پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ " جو لوگ براہ راست تنازعہ میں شامل نہیں ہیں، انہیں بھی جنگ کی قیمت چکانی پڑ رہی ہے. یوکرین میں تنازعہ کا مطلب یہ ہے کہ دنیا بھر میں بہت سے لوگ خوراک کے عدم تحفظ کا شکار ہو جائیں گے، اور ان کے بھوکے رہنے کا خطرہ ہے. پاکستان گندم پر بہت زیادہ انحصار کرتا تھا اور اسی علاقے سے کھاد لے کر ڈالتا تھا. ہمارے کسان بھی مصیبت میں ہیں اور ہمارے لوگ بھی."

امریکی ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کی ذیلی کمیٹی برائے ایشیا و بحرالکاہل کے چیئرمین و کیلیفورنیا سے ممبر کانگریس امی بیرا سے گفتگو میں وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ  دونوں ممالک کے ارکان پارلیمنٹ کی باہمی خواہش ہے کہ وہ اپنی شراکت داری کو مزید مضبوط کریں اور آپس مسلسل تبادلوں کو فروغ دیں.  

  رکن کانگریس امی بیرا نے پاکستان یو ایس تعلقات  کو بڑھانے کے لیے وزیر خارجہ کی فعال رسائی کو سراہا.  تعلقات اور افغانستان سے انخلاء میں سہولت فراہم کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا.

مزید :

بین الاقوامی -