نازی جرمنی میں موت سے بچ نکلنے والا شخص تمام عمر اپنے باپ سے متعلق خوف میں مبتلا رہا، لیکن اب 79 برس کی عمر میں ایسا انکشاف کہ سارا خوف ختم ہوگیا

نازی جرمنی میں موت سے بچ نکلنے والا شخص تمام عمر اپنے باپ سے متعلق خوف میں ...
نازی جرمنی میں موت سے بچ نکلنے والا شخص تمام عمر اپنے باپ سے متعلق خوف میں مبتلا رہا، لیکن اب 79 برس کی عمر میں ایسا انکشاف کہ سارا خوف ختم ہوگیا

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) نازی جرمنی میں موت کے منہ سے بچ نکلنے والا شخص تمام عمر اس خوف میں مبتلا رہا کہ اس کا باپ نازی تھا جس کی وجہ سے وہ کیمپ میں قید رہنے کے باوجود زندہ بچ نکلا، تاہم گزشتہ روز اپنی فیملی کے بارے میں معلومات ملنے پر اس کا یہ خوف ختم ہو گیا اور اسے علم ہو گیا کہ اس کا باپ نازی نہیں بلکہ یہودی ہی تھا۔ میل آن لائن کے مطابق جیکی نامی اس شخص کی عمر اب 79سال ہے۔ اسے نازی جرمنی میں قید کرکے یہودیوں کے لیے بنائے گئے عقوبت خانے میں بھیجا گیا اور اس وقت اس کی عمر محض 9ماہ تھی۔ 

جیکی دو سال آٹھ ماہ تک اس قید خانے میں رہا، اس وقت تک رہا جب جرمنی پر اتحادی افواج کا غلبہ ہوا اور اس قید خانے پر قبضہ کرکے تمام قیدیوں کو رہا کروا لیا گیا۔ قید خانے سے رہائی کے بعد جیکی کو برطانیہ منتقل کر دیا گیا جہاں ساڑھے 3سال کی عمر میں اسے ایک میاں بیوی نے گود لے لیا اوراس کی پرورش کی۔

جیکی کو اپنی قید کے دنوں کے متعلق تو کچھ یاد نہیں رہا تاہم وہ عمر بھر اس خوف میں مبتلا رہا کہ اس کا باپ یقینا کوئی نازی ہو گا۔ اس کا خیال تھا کہ اگر اس کا باپ نازی نہ ہوتا تو وہ اس قید خانے سے زندہ کیسے بچ نکلتا۔ گزشتہ دنوں جیکی ٹی وی سیریز’ڈی این اے فیملی سیکرٹس‘ (DNA Family Secrets)میں شریک ہوا جہاں اس کا ڈی این اے ٹیسٹ کرکے اس کی فیملی کی تلاش کی گئی اور خوش قسمتی سے اس کی فیملی کا سراغ مل گیا۔ 

اس ٹیسٹ میں نہ صرف یہ تصدیق ہو گئی کہ جیکی کا باپ کوئی نازی نہیں بلکہ یہودی تھا بلکہ یہ علم بھی انکشاف بھی ہوا کہ لندن میں ہی اس کے دو رشتہ دار رہائش پذیر تھے۔ اس مرد اور عورت کے نام ٹونی اور الیکس تھے جو رشتے میں جیکی کے کزن تھے۔ اس ٹی وی سیریز کے ذریعے جیکی زندگی میں پہلی بار اپنے کسی خونی رشتے دار سے ملا۔ اس موقع پر ایسے جذباتی مناظر دیکھے گئے کہ ناظرین کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔

مزید :

برطانیہ -