زمان پارک میں کوئی بھی نہیں؟

 زمان پارک میں کوئی بھی نہیں؟
 زمان پارک میں کوئی بھی نہیں؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 یہ خبر دیکھ کر مجھے کرن ارجن فلم کا ٹھاکر دُرجن سنگھ یاد آ گیا،جو ایک دن پورے لاؤ لشکر کے ساتھ اپنے زیر تسلط ایک غریب گاؤں پر دھاوا بولتا ہے، لیکن و ہاں پہنچ کر اسے گاؤں کی گلیوں بازاروں میں کوئی شخص بھی نظر نہیں آتا، ٹھاکر پریشان ہو کر اپنے کارندوں کو پوچھتا ہے کہ ”کہاں مر گئے سب گاؤں والے“؟ جب ٹھاکر کے آدمی اس ”معمے“ کو حل کرنے کے لئے دروازے توڑ کر گھروں کے اندر داخل ہوتے ہیں تب بھی انہیں وہاں کوئی شخص نظر نہیں آتا، واپس گاؤں کے چبوترے پر پہنچ کر ٹھاکر درجن سنگھ کو اطلاع دی جاتی ہے کہ ٹھاکر صاحب، گاؤں میں کوئی بھی نہیں، پورا گاؤں خالی ہے۔ 


لاہور سے تازہ ترین اطلاعات کے مطابق زمان پارک میں ویرانی کے ڈیرے ہیں، کئی ماہ تک بریانی، پلاؤ اور قورمے کے ساتھ بڑے سائز کے نان،روٹیوں اور ان کے تووں کی آوازوں سے گونجنے والے زمان پارک میں پورا دن چولہا نہیں جلا، جبکہ رات دس بجے کے قریب دس بارہ افراد کے لئے پانچ اینٹوں کے کھلے چولہے پر ایک چھوٹی دیگچی میں سالن بنایا گیا اور روٹیاں بھی ”درآمد“ کی گئیں۔ اطلاعات کے مطابق خان کی حفاظت کے لئے گلگت بلتستان، دیر، مالا کنڈ اور وزیرستان سے آئے ہوئے ”دفاعی بستی“ کے چند اراکین کے لئے تمباکو نوشی تک کا بندوبست بھی نہیں جو سٹاک میں موجود ”نسوار“ پر گزارکر رہے ہیں۔


دوسری جانب 9 مئی کے واقعات کے بعد اب تک تحریک انصاف کی درجن بھر سے زائد وکٹیں گر چکی ہیں جن کے باضابطہ اعلانات ایک ایک کر کے سامنے آ رہے ہیں۔سب سے پہلے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عباد فاروق کا ویڈیو بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے پی پی 140 سے پی ٹی آئی کی ٹکٹ واپس کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اگر ٹکٹ گالی دے کر یا آگ لگا کر ملنی ہے تو مجھے یہ ٹکٹ نہیں چاہئے۔انہوں نے کہا جب عمران خان پکڑے گئے تو اس کے فوری بعد لیڈر شپ نے کال کی، ڈاکٹر یاسمین راشد اور میاں محمود الرشید نے ٹکٹ ہولڈرز کو لبرٹی چوک بلایااور ہمیں بتایا گیا کہ یہاں سے سب کے ساتھ مل کر کور کمانڈر ہاؤس جانا ہے اور وہاں پر آگ لگانی ہے، جو ہوا اچھا نہیں ہوا، کیونکہ ہمیں کسی بھی ادارے کے خلاف اس طرح کی مہم نہیں چلانی چاہئے۔ادھر پی ٹی آئی کے ایڈیشنل سیکرٹری اور سابق وفاقی وزیر صحت عامر کیانی نے بھی 9مئی کے واقعات کے بعد تحریک انصاف کو خیر باد کہہ دیا ہے۔ بدھ کے روز نیشنل پریس کلب میں اپنی پریس کانفرنس میں عمر کیانی نے پی ٹی آئی کی بنیادی رکنیت اور تحریک انصاف کے ایڈیشنل سیکرٹری کے عہدے سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ جی ایچ کیو اور کور کمانڈر ہاؤس کا واقعہ افسوس ناک ہے، 9 مئی کے واقعات نے مجھے ذاتی طور پر بہت تکلیف پہنچائی، کبھی افواج پاکستان کے خلاف کوئی بیان نہیں دیا کیونکہ ہماری بقاء اللہ کے بعد فوج کے ساتھ جڑی ہے۔

تحریک انصاف کے رہنماء اور بلین ٹرین سونامی کے بانی ملک امین اسلم نے بھی تحریک انصاف چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تمام شہروں اور فوجی تنصیبات پر پلاننگ کے تحت دھاوا بولا گیا جو کہ ایک منظم منصوبہ تھا اور یہ سب کچھ پلاننگ کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ یہ ایک ایسا ایجنڈا ہے جس نے پارٹی کو ہائی جیک کر لیا، اب تحریک انصاف کو  اس کے لئے جواب دہ ہونا پڑے گا۔ رہنماء تحریک انصاف ڈاکٹر محمد امجد نے بھی پارٹی کے تینوں عہدوں سے دستبردار ہونے کا اعلان کر دیا۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر امجد نے کہا کہ تحریک انصاف میں تین مختلف عہدوں پر فائز تھا، لیکن جس کام سے ملک اور قوم کا نقصان ہو وہ نہیں کرنا چاہئے۔ انصاف اور اصول پسندی خود تحریک انصاف میں نہیں ہے، چند افراد عمران خان کو گھیرے میں لئے ہوئے ہیں، ڈاکٹر امجد کا کہنا ہے کہ 9مئی کو ہنگامے اور دہشت گردی کے واقعات ہوئے، ہم نے شہداء کی تصاویر اور یادگاروں پر حملے کئے۔ نجی ٹی وی کے مطابق پارٹی کے اندر مزید درجنوں افراد کی کھیپ پی ٹی آئی چھوڑنے کے لئے تیار بیٹھی ہے جن میں سابق وفاقی و صوبائی وزراء، خسرو بختیار، ہاشم جواں بخت، سابق ایم پی اے ظہیر الدین خان، مظفر گڑھ سے عون ڈوگر، عبدالحئی دستی، نیاز گشکوری، علمدار قریشی،لیہ کے قیصر مگسی، ڈی جی خان سے سجاد چھینہ اور خانیوال سے ملک مجاہد شامل ہیں۔


موجودہ صورت حال میں پی ٹی آئی رہنماؤں کی ”جانیاں“ دیکھ کر مجھے 2018ء کے الیکشن سے پہلے کے زمانے میں ان کی ”آنیاں“ یاد آ گئیں جب فضاؤں میں اڑتے ہوئے کبوتروں کو دانہ دنکا ڈال کر پاکستان تحریک انصاف کی چھتری کے اوپر جمع کیا گیا، لیکن اب پی ٹی آئی میں حالت یہ ہے کہ مائیں بچے نہیں سنبھال رہیں۔خود چیئرمین پی ٹی آئی 9 مئی کے واقعات سے لا علمی کا اظہار کر رہے ہیں،حالانکہ گرفتاری سے چند گھنٹے قبل اپنے ویڈیو بیان میں انہوں نے کارکنوں کو تیار رہنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اگر قوم پھٹ گئی تو آپ لوگ چھپتے پھریں گے۔ 12مئی کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے موقع پر بھی عمران نے گرفتاری کے بعد ہنگاموں کو عوامی ردعمل کا نام دیا۔ تاہم جب پاک فوج کی جانب سے سخت رد عمل آیا تو انہوں نے حسب ِ روایت یو ٹرن لے لیا اورجیلوں میں قید تحریک انصاف کے کارکنوں کو اپنا ورکر تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے9مئی کے واقعات کو منظم سازش قرار دے دیا۔ 


بہرحال، پی ٹی آئی کی جانب سے پاک فوج کے خلاف مہم تو اس وقت سے جاری ہے جب سے عمران خان وزیراعظم ہاؤس سے نکلے ہیں، جبکہ فوج میں بھی عمران خان کے حامی موجود ہونے کی وجہ سے مبینہ طور پر اعلیٰ فوجی قیادت تقسیم تھی جس کے باعث پی ٹی آئی بچتی رہی، تاہم 9 مئی کو پاکستان تحریک انصاف نے ملک بھر میں فوج تنصیبات اور ریاستی املاک کو جس طرح نقصان پہنچایا اس سے لگتا ہے کہ فوج کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو چکا ہے، جس کی اعلیٰ قیادت نے متحد ہو کر اس دہشت گردتنظیم کاجڑ سے خاتمہ کرنے کا عزم کر لیا ہے، کیونکہ گندی سیاست اور غلاظت سے تو فوج بچنے کی کوشش کرتی رہی تاہم وطن ِ عزیز کی سلامتی پاک فوج کی ریڈ لائن ہے جسے تحریک انصاف نے 9 مئی کو پار کر لیا۔ 

مزید :

رائے -کالم -