بصارت سے عاری عوام اور سیاست دان

بصارت سے عاری عوام اور سیاست دان
 بصارت سے عاری عوام اور سیاست دان

  

 گزشتہ روز میں سوشل میڈیا پر ایک حکایت پڑھتے ہوئے چونک گیا۔یہ ہمارے حالات پر عین صادق آتی ہے۔آپ بھی اِس پر ایک نظر ڈال لیجیے:”ایک قافلہ صحرا سے گزر رہا تھا کہ رات پڑگئی تو قیام کے لئے مسافروں نے ایک سرائے تلاش کی ،جب اونٹوں کو باندھنے کا مرحلہ آیا تو پتہ چلا کہ ایک رسی کم ہے۔سرائے کے مالک نے کہا میں آپ کو ایک طریقہ بتاتا ہوں۔اُس نے اونٹ کے قریب زمین میں ایک فرضی کھونٹ دبایا اور ایک فرضی رسی کھونٹے سے لے کر اونٹ کی گردن کے گرد لپیٹ دی۔قافلے والے حیران تو ہوئے کہ ایک فرضی رسی کیونکر اونٹ کو روک سکتی ہے لیکن جاکر سوگئے۔سویرے اُٹھے تو اونٹ وہیں بیٹھا تھا جہاں رات اُسے چھوڑ اگیا تھا۔ قافلے والوں نے جب اُسے اُٹھانا چاہا تو اونٹ نے اُٹھنے سے انکار کردیا۔سرائے کے مالک نے کہا کہ اِس کی رسی کھولیے،جب یہ اُٹھے گا۔جب فرضی کھونٹا اُکھاڑا گیا اور فرضی رسی کھول دی گئی تو اونٹ اُٹھ کر چل دیا۔ قافلے والوں نے سرائے کے مالک سے پوچھا کہ جناب یہ ترکیب آپ نے کہاں سے سیکھی تو وہ بولا” انسانوں سے۔ ہم انسان ساری زندگی اِن رسم ورواج،ادب وآداب کے کھونٹوں سے بندھے رہتے ہیں اور وہ رسیاں اپنی گردن میں بندھی سمجھتے ہیں جن کا کوئی وجود ہی نہیں اور یوں ساری زندگی ایک ہی جگہ بیٹھے بیٹھے گزار دیتے ہیں“۔

 قائداعظم کا پاکستان ایسی جمہوریت کے لئے بنا تھا جس میں عوام کے لئے آسانیاں ہوں۔ پاکستان اسلامی اور فلاحی مملکت بن سکے۔ملک میں ایسا بہت کم ہوا، جہاں یہ طالع آزما مہم جوئی کرتے رہے وہیں عوم نے بھی اپنی بصارت کا مظاہرہ نہ کیا۔جمہوریت تھی یا آمریت اِس سے کوئی سروکار نہ رکھا۔اِس کے باوجود بھی ٹس سے مس نہ ہوئے کہ دونوں ادوار میں عموماً عوام کا عرصہ حیات تنگ ہی رہا۔ہمارے سیاست دانوں کے عمومی رویے سے کون واقف نہیں، اِس کے باوجود بھی عوام میں تبدیلی کی کبھی خواہش دیکھنے میں نہیں آئی۔آمریت کو اگرچہ ناپسند تو ضرور کیا گیا لیکن اِس سے جان چھڑانے کی عوامی سطح پر جس قسم کی جدوجہد کی ضرورت تھی،اُس کا ہمیشہ فقدان رہا۔مقتدر طبقوں نے جس فرضی رسی سے جس کھونٹے سے باندھا اُس سے بندھے رہے۔آپ آج کے مسائل دیکھیں اور اُن لوگوں کو دیکھیں جن کے ہاتھ میں آج زمام اقتدار ہے، اُن کو منتخب کرنا عوامی بصارت میں واضح فقدان کا غماز ہے۔

سیاست دانوں کی بصارت کی بات کریں ،عوام مسائل، قومی ملکی سلامتی کو لاحق خطرات کو دیکھتے ہوے اُن کو بھی بلاشبہ بصارت سے کوسوں دُور محسوس کیا جاتا ہے۔جہاں مجھے بصارت کے حوالے سے ایک اور تاریخی واقعہ یاد آرہا ہے:۔ ”امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ جامع مسجد بغداد میں موجود اپنے دوشاگردوں ربیع بن سلمان اور اسمعیل بن یحییٰ مزنی کے ساتھ علمی گفتگو میں مصروف تھے۔رواج کے مطابق کئی دوسرے مسافر، بے گھر اور نادار لوگ بھی اِدھر اُدھر سوئے پڑے تھے۔ اچانک امام نے دیکھا کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اور مشعل کی روشنی میں سوئے ہوئے لوگوں کو باری باری اِس طرح دیکھنے لگا جیسے کسی کو ڈھونڈرہا ہو۔فرزند امام شافعی کچھ دیر انتہائی انہماک سے دیکھتے رہے اور پھر اپنے مخصوص دھیمے،دھیرے او رنپے تلے لہجے میں ربیع بن سلمان سے کہا:”ربیع جاﺅ اور اِس آدمی سے پوچھو کہ تمہارا وہ حبشی غلام جس کی ایک آنکھ ناقص ہے کہیں غائب یا گم تو نہیں ہوگیا؟“استاد کے حکم کی تعمیل میں ربیع اِس اجنبی کے پاس گیا اور امام کا سوال دہرایا تو وہ شخص متعجب سا ہوکر ربیع کے ساتھ ہی امام کے حضور حاضر ہوگیا اور سلام کے بعد بولا:” آپ کے علم میں ہے تو بتائیے میرا غلام کہا ں ہے؟“.... ”وہ تو کسی قید خانہ میں بند پڑا ہوگا“۔امام نے کچھ ایسے یقین کے ساتھ کہا کہ وہ اجنبی اور خود اُن کے ہم نشین حیرت زدہ سا ہوکر امام کو دیکھنے لگے۔

وہ شخص اُسی وقت عجلت میں مسجد سے رخصت ہوگیا تو امام دوبارہ اپنے شاگردوں کے ساتھ مکالمہ میں مصروف ہوگئے کہ کچھ دیر بعد وہ شخص دوبارہ آیا اور عاجزی سے بولا:

” حضرات! آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے میرا گمشدہ غلام ڈھونڈنے میں میری مدد اور رہنمائی فرمائی“....امام کے شاگرد حیران وششدر یہ سوچ رہے تھے کہ کیا امام کو غیب سے خبریں ملنے لگی ہیں۔وہ شخص شکریہ کے بعد سلام کرکے رخصت ہوا تو اسمعیل مزنی سے رہا نہ گیا تو اُس نے بیتاب ہوکر پوچھا:” اے استاد محترم ومکرم!آپ کو اُس شخص کے غلام سے کیا لینا دینا،مکہ سے تشریف لائے ہیں،نہ جان نہ پہچان تو پھر یہ سب کیا ہے؟“امام شافعی رحمتہ اﷲ علیہ ہلکا سا مسکرائے اور فرمایا :”یہ شخص جب مسجد میں داخل ہوا تو اُس کی چال ڈھال اور تیور بتا رہے تھے کہ یہ کسی کی تلاش میں ہے“.... ”درست لیکن آپ نے یہ کیسے جان لیا کہ وہ کسی غلام کو ہی تلاش کررہا ہے اور وہ بھی ایک ایسے غلام کو جس کی ایک آنکھ میں نقص بھی ہو“۔اِ س بار ربیع نے سوال کیا تو امام شافعی رحمتہ اﷲ علیہ نے کہا:” وہ اِس طرح کہ سوئے ہوئے لوگوں میں یہ شخص اِدھر زیادہ متوجہ تھا جہاں سیاہ فام حبشی سوئے ہوئے تھے اور پھر میں نے محسوس کیا کہ یہ ہر خوابیدہ حبشی کی بائیں آنکھ پر زیادہ روشنی اور توجہ دے رہا ہے، اِس لئے میں نے اندازہ لگالیا کہ اُس کا کوئی ایسا غلام غائب ہے جس کی ایک آنکھ میں کجی ہے“۔

 پرجوش شاگردوں نے اگلا سوا ل پوچھا:”امام !آپ نے یہ کیسے جان لیا کہ اُس شخص کا گمشدہ غلام کسی قید خانے میں ہوگا“۔اما م نے پوری متانت سے کہا”میرا زندگی بھر کا تجربہ یہ ہے کہ غلام جب بھوکا ہوتا ہے تو چوری کرتا ہے اور اگر پیٹ بھرا ہوا ہو تو بدکاری کی طرف مائل ہوتا ہے۔سو میں نے اندازہ لگالیا کہ وہ اُن دونوں میں سے ایک حالت کا شکار ہوگا جس کا منطقی انجام قید خانہ ہی ہوسکتا ہے“۔

قائداعظم کے بعد اگر کسی سیاست دان میں بصیرت تھی تو وہ ذوالفقار علی بھٹو تھا۔ اُن کے وژن کا سب سے بڑا ثبوت پاکستان کا ایٹمی پروگرام ہے۔ایسا وژن کسی اور سیاست دان میں نظر نہیں آتا۔ہم کسی کو نام لے کر مطعون نہیں کرتے۔ بھٹو کے بعد سارے حکمرانوں کے کارنامے ہمارے سامنے ہیں۔ ہم کسی کی حب الوطنی پر بھی سوا ل نہیں اُٹھاتے۔ ملک وقوم سے محبت واہلیت وقابلیت الگ الگ اوصاف ہیں۔ وژن یا بصارت کا دونوں سے تعلق نہیں۔ وژن کا مطلب دُور اندیشی اور مستقبل میں ممکنہ مسائل سے نبٹنے کی حکمت عملی ہے۔ہماری قیادتوں میں وژن ہوتا تو آج قوم مسائل کی دلدل میں نہ پھنسی ہوتی۔آج بجلی دستیاب ہے نہ گیس،پاکستان میں تیل کے وسیع ذخائر ہیں۔اِس کے باوجود تیل تھوک کے حساب سے درآمد کرکے سونے کے بھاﺅ عوام کو فروخت کیا جارہا ہے۔اُدھر ہمارے ہاں سونے کی کانیں لبا لب بھری ہوئی ہیں۔ہم یہ سونا نکالنے سے ہی قاصر ہیں۔ کوئلہ ،کاپر، قیمتی پتھر،سونا اُگلتی زمینیں او ر بے بہا خزانوں کو سمیٹے ہوئے سمندر اور دریا۔ ایسے وسائل کے باوجود بھی ملک میں غربت رقص کرے تو اِ س کو حکمرانوں کی بے بصیرتی اور بے بصارتی قرار نہ دیا جائے تو کیا کہا جائے؟ الیکشن پھر قریب ہیں۔عوام کے لئے بہترین موقع ہے کہ وہ خود کو وژن فل ثابت کرتے ہوئے ایسے لوگوں کو منتخب کریں جن میں مستقبل بینی کی صلاحیت ور اہلیت ہو۔

علم الاعداد اور علم الاسماءکی روشنی میں ماہِ رواں کے آخری ہفتے اور ماہِ دسمبر کے پہلے ہفتے میں انتہائی ہم اداروں کے حالات دگرگوں ہوتے نظر آرہے ہیں۔ عدالت عظمی کو مزید احتیاط کرنے کی اشد ضرورت ہے۔واﷲ اعلم بالصواب۔ ٭

مزید :

کالم -