وزیراعظم کی مسکراہٹ

وزیراعظم کی مسکراہٹ
وزیراعظم کی مسکراہٹ

  

ٹماٹر200روپے کلو۔ یہ تھا وہ جواب جو بندہ گھر سے حضرت بیگم صاحبہ نے ٹماٹر لینے کے لئے بھیجا تھا اور اُسے شاید پورے پیسے نہیں دیئے تھے۔ ایک ایسے شخص کے لئے جس نے وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف کے لئے بطور میڈیا منیجر سرکاری طور پر15سال سے زیادہ اور بطور صحافی بھی15سال سے زیادہ کام کیا ہو، یہ خبر ایک صدمے سے کم نہیں تھی، اس وقت امریکہ ہمارے ملک میں جو سیاسی عدم استحکام چاہتا ہے اُس کا آغاز تو ہو چکا ہے۔ نواز شریف سے تو وہ ہر قیمت پر بدلہ لینے کی فکر میں ہے، کیونکہ اُن کی عدلیہ اور فاروق لغاری سے جو لڑائی1998ءمیں ہوئی تھی، اُس کے ذمہ دار بھی امریکی سفیر ہی تھے۔ مَیں نے ٹھیک اُنہی دنوں ”رائے عامہ“ میں لکھا تھا کہ پاکستان میں اب”کوک“ یعنی سافٹ ڈرنک بنانے والی کمپنی نے اپنی تمام ایسی اجازتیں کراچی، حیدر آباد، رحیم یار خان، بہاولپور، ملتان، ساہیوال، لاہور، سیالکوٹ، راولپنڈی اور کراچی سے واپس لے لی ہیں، جو انہوں نے پاکستانی صنعت کاروں کو دے رکھی ہیں۔ تقریباً ایک سو گنا زیادہ، یعنی ایک روپے کے بدلے سو روپے کے نرخ سے امریکیوں نے اُن دنوں یہاں کوک فیکٹریوں کے مالکان سے اُن کی فیکٹریاں خریدیں اور اُن کی چا ر دیواریاں چالیس پچاس فٹ اونچی کر کے انہیں”قلعے“ بنا دیا گیا تھا۔ یہ ایک ایسا وقت تھا جب آئی ایس آئی، یعنی پاکستان آرمی کو اس کا نوٹس لینا چاہئے تھا۔

ان قلعوں میں پھر سی آئی اے کیسے آئی اور کب آئی؟ اس کی پوری تفصیل آپ پرویز مشرف کی دوسری کتاب میں خود پڑھ سکیں گے، کیونکہ اب امریکہ نے انہیں ”ٹشو پیپر“ کی طرح استعمال کر لیا ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں نسبتاً سب سے زیادہ شائع ہونے والے اخبار میں ”کالم“ چھپنے کے بعد ان کا نوٹس نہیں لیا گیا اور پاکستانی عوام کی توجہ محض جوڈیشری کی لڑائی اور فاروق لغاری (صدر پاکستان) کی لڑائی تک ہی محدود رہی۔ سی آئی اے کے یہ ڈیرے آج قائم ہیں یا ختم ہو گئے ہیں، اس کی خبر تو اب15سال گزر جانے کے بعد ہماری سیکیورٹی ایجنسیوں کو ہی ہو گی، لیکن پرویز مشرف کے ساتھ امریکہ نے پاکستان آرمی کے متحد رہنے کی وجہ سے اتنا سلوک ضرور کیا کہ ڈالر 200روپے کا نہیں ہونے دیا۔ ڈالر وافر طور پر یہاں پاکستان کو ادا بھی کئے اور اس وقت تک ”چوں چراں“ نہیں کی، جب تک کہ2008ءمیں جرنیل کو الیکشن پر دوبارہ آمادہ کر کے ”ٹریپ“ نہیں کر لیا۔

جنرل پرویز مشرف2008ءکے الیکشن پر راضی نہیں تھے، بلکہ اسمبلی کے ذریعے الیکشنوں کی میعاد 10سال کرنے کی کوششوں میں تھے، لیکن چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی برطرفی اور وکلاءکی بھرپور تحریک نے اس تمام کام پر پانی پھیر دیا۔ اُنہیں خبر ہے کہ امریکہ میں ہی تعینات رہنے والے کچھ سابقہ فوجی افسروں نے اُن کے خلاف کام کیا۔ ظاہر ہے کہ منظر عام پر آنے و ا لی دوسری کتاب میں بھی پڑھیں گے، کیونکہ بقول جنرل پرویز مشرف انہیں امریکہ نے اب کوڑے دان میں پھینک دیا ہے، پرویز مشرف کے ساتھ پاکستان آرمی کے ہر سطح پر اتحاد نے امریکہ کو یہ مہلت اُن کے زمانے میں تو نہ دی کہ وہ یہاں اقتصادی بحران لا سکے یا ڈالر مہنگا کر سکے، لیکن جونہی جرنیل رخصت ہوا، اُس نے اپنے آہنی پنجے گاڑھ دیئے۔

کیا کبھی آپ سوچ سکتے تھے کہ جس افغانستان کو روس سے بچانے کے لئے ہم نے اپنی فوج بھیجی، دینی جماعتوں نے مجاہدین کے لشکر بھیجے، پاکستانی عوام نے مہنگائی برداشت کرتے ہوئے اپنے بھائیوں کے لئے آٹا، گندم، دالیں، چاول، چینی، گھی اور ادویات کے سینکڑوں ٹرک روزانہ پاکستان سے طور خم اور چمن بارڈر کے ذریعے افغانستان بھیجے، آج وہ پاکستان کے دشمن ہیں۔ کبھی ہماری حکومت کے ساتھ امن کے لئے بات چیت کے لئے تیارنہیں۔ ایسا صرف اس امریکی پالیسی کا حصہ ہے، جو میاں نواز شریف کے1999ئ،1997ءوالے دور میں امریکیوں نے تیار کی تھی اور اس کا ایک باب بھارت سے دوستی بڑھانا، وہاں کے وزیراعظم کو دوستی بس میں لاہور لانا اور اُس کا استقبال کرانا بھی ہے، تاکہ ہم اس کام میں لگے رہیں اور وہ یہاں قلعے کے قلعے بناتا رہے، جاسوسی کا نیٹ ورک مکمل کر لے۔ آرمی اداروں نے اس سلسلے میں جب میاں نواز شریف کو آگاہ کیا، تو اس وقت کافی دیر ہو چکی تھی، لیکن پھر بھی میاں نواز شریف نے اپنی سخت ناراضگی کا اظہار کیا اور وارننگ بھی دی۔

اس کا نتیجہ دوسرے باب میں برآمد ہوا کہ امریکہ بہادر کے اس پلان کے عین مطابق ہی یہاں پرویز مشرف کے خلاف نواز شریف کے کان بھرے اور اُدھر فوج کے خاص جرنیلوں کو میاں نواز شریف کے خلاف اُن کا تختہ الٹنے کے لئے تیاری کا عمل شروع کر دیا گیا۔ اگر سری لنکا سے واپسی پر طیارے کا ڈرامے نہ بھی رچایا جاتا تو تب بھی اکتوبر1999ءکا مہینہ مشکل سے ہی گزرنا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ اُس زمانے میں نئے جرنیل ضیاءالدین بٹ کے چارج لینے سے امریکہ کی یہ سازش بعض حامی جرنیلوں کی ریٹائرمنٹ کی بدولت کچھ اور وقت لیتی اور ممکن ہے کہ نواز شریف اپنی ٹرم بھی پوری کر لیتے، لیکن پھر بھی امریکی سازش منسوخ نہیں کی جانی تھی۔ البتہ اسے کچھ دیر کے لئے معطل رکھا جاتا۔

پرویز مشرف آئے اور امریکی پلان کامیاب ہوا، تو پھر نائن الیون کے بعد دوستی مزید گاڑھی ہو گئی، بلکہ بہت سے معاہدات پر دستخط کرا لئے گئے۔ 2008ءکے انتخابات جنرل پرویز مشرف کسی صورت میں بھی کرانے پر آمادہ نہیں تھے، کیونکہ انہیں اپنی وردی اتارنے کے فیصلے کا بہت پہلے علم تھا، چنانچہ افتخار محمد چودھری کے معاملے اور وکلاءکی تحریک نے پرویز مشرف کے ہوش اُڑا دیئے،پھر وہ مسلسل دباﺅ کی کیفیت میں رہا ا ور ایسی کیفیت میں ہی چلا گیا، ورنہ پرویز مشرف تو اسمبلی میں یہ بل لانے کے لئے مسلم لیگ(ق) سے کہہ چکا تھا کہ آئین میں اسمبلی کی میعاد پانچ سال سے10سال کر دی جائے اور وہ ایسا کرنے بھی جا رہے تھے۔ وکلاءکی بھرپور تحریک نے اُن کی اس خواہش کو بھی مٹی میں ملا دیا۔

بلدیاتی انتخابات نہ کروانے کی غلطی تو بھٹو سمیت تقریباً تمام منتخب حکومتوں نے کی، لیکن آرمی کے زمانے میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔ جنرل ضیاءالحق نے بھی بلدیاتی انتخابات کرائے اور جنرل پرویز مشرف نے بھی 2001 اور 2005ءمیں یہ انتخاباب کرائے۔ جس کام کو ہماری تمام سیاسی جماعتوں کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنانا چاہئے تھا، وہ بلدیاتی الیکشن میں ایسا نہیں کر سکیں۔ یہاں تمام سیاسی جماعتیں اس پاکستانی قوم کی مجرم ہیں کہ انہوں نے اس پر توجہ ہی نہیں دی اور آج مجھے اپنے قلم سے یہ لکھنے پر کوئی افسوس نہیں ہو رہا کہ محض بلدیاتی الیکشنوں پر توجہ نہ دینے کی وجہ سے ہی جہاں پی پی پی عوام، یعنی ووٹروں کی نظر سے گر چکی ہے، وہاں مجھے خدشہ ہے کہ ایک اور اہم سیاسی پارٹی بھی ”شکار“ کے اس سیزن میں ”شکار“ ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ آگے اللہ جانتا ہے۔

جب ڈبل قیمت کے ٹماٹر ہوں، پیاز سفارش سے ملیں۔ اچھی سے اچھی بس سروس میں کھڑے ہونے کے لئے بھی جگہ نہ ہو، نہ آپ کی تنخواہیں اور پنشن اس حساب سے بڑھائی جائیں، جن سے دو سو فیصد بڑھائے گئے، نرخوں پر آپ آٹا، چینی، دال، گھی اور چاول خریدتے ہیں، تو اس ملک کا وزیراعظم آخر ”مسکراہٹ“ کہاں سے لا سکتا ہے۔ مَیں میاں نواز شریف کو سلام پیش کرتا ہوں کہ وہ کم از کم اپنے تاجر طبقے کے ساتھ آج نہیں ہیں اور نہ ہی انہوں نے اپنے بیٹے حسین کو یہاں پراپرٹی کنگ بننے کی اجازت دی ہے، جس کسی نے اپنے بیٹوں کو حکومتی حلقوں میں یہ اجازتیں دے رکھی ہیں، انشا اللہ انہیں آگے چل کر سُبکی اٹھانا پڑے گی اور یہ محض بچوں کی وجہ سے ہو گا، جو لوگ آج بلدیاتی الیکشن محض سپریم کورٹ کے کہنے پر کرا رہے ہیں، آخرکس مُنہ سے جمہوریت کے حامی کہلانے کے حق دار ہیں اور پھر کون انہیں کسی بھی آنے والے عام الیکشنوں میں ووٹ دے گا۔ یہ وہ سوال ہے، جسے سوچ کر شاید آج پارلیمنٹ اور سینیٹ کے ارکان کی دلچسپی باہر کے ممالک میں ہے، اپنے اجلاسوں میں تو وہ گھنٹیاں (کورم کے لئے) سننے کے لئے بھی نہیں آتے۔  ٭

مزید : کالم