الصلوٰة خیر من النوم

الصلوٰة خیر من النوم
الصلوٰة خیر من النوم

  

مایوسی نہیں، امید کے چراغ ہی رات کے سناٹے کا وجود چیرتے ہوئے صبح صادق کا اعلان کرتے ہیں۔ جیسے اللہ کے گھر سے موذن ان الفاظ میں عارضی موت کے شکار لوگوں کو الصلوٰة خیرمن النوم کا نقارہ بجا کر جگا رہا ہوتا ہے کہ ”اے غافل لوگو! اللہ کے سامنے جھک جاﺅ“.... سیاسی جماعتوں کے قائد ایک حکیم اللہ کی ہلاکت سے کیا مایوسی و ناامیدی کی کیفیت سے نکل کر آگے بڑھیں گے یا فکری بانجھ پن کا شکار ہو کر قوم کو عجیب و غریب مباحثوں میں الجھا کر مزید افراتفری، مزید نفرت، مزید تفرقہ بازی اور مزید بدحالی پھیلا کر کنفیوژن کی شکار منتشر قوم کے جذبات سے کھیلیں گے، ہر کوئی مفتی بن گیا اور فتووں کا سیلاب امڈ آیا ہے، جن سیاسی جماعتوں نے قوم کو دہشت گردی و خوف سے نکال کر امن و ترقی کے سفر کا آغاز کرنا تھا وہ مباحثوں میں الجھ کر صورت حال مزید بگاڑ رہی ہیں۔ کنفیوژن ہی کنفیوژن:

اک مسلمانی عجیب اِسی شہر پر طاری ہے

سن کے گھبرا جاتا ہوں اب نعرہ¿ تکبیر میں

قوم مایوس، جبکہ رہنما ہیجان کا شکار، اس صورت حال میں ان کے پاس مایوسی و نامیدی کا ماتم کرنے کے سوا کچھ نہیں۔ چودھری نثار کہتے ہیں کہ ڈرون کے ہوتے ہوئے مذاکرات ممکن نہیں ہو سکتے۔ محمود اچکزئی کہتے ہیں کہ ڈرون نہیں روک سکتے، چودھری نثار ایک اور جگہ کہتے ہیں کہ ”امریکہ خدا تو نہیں“ ....کیا واقعی ہمارے سیاست دانوں کے لئے امریکہ خدا نہیں.... نکلئے اس کیفیت سے، اللہ کے گھر سے اُٹھنے والی اس صدا ” الصلوٰة خیر من النوم “ پر غور کیجئے۔ یہ الفاظ محض نیند سے اُٹھا کر مسجد جانے کے لئے نہیں، بلکہ مسلمانوں کے لئے زندگی کا پیغام بھی ہیں کہ اے مردہ دل اور خوفزدہ لوگو! اُٹھو اور اصل رب کے سامنے جھک جاﺅ۔

مایوسی نہیں امید.... حکمران آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، قوموں کی زندگی کا سفر، مگر جاری رہتا ہے۔ حکمران نہیں قومیں آگے بڑھتی ہیں اور ترقی کا سفر کرتی ہیں۔ حکمران اپنی باریاں لیتے رہیں گے اور تاریخ کی گرد میں دب جائیں گے۔ انسانی جبلت، مگر ہوس کا شکار ہونا ہے۔ اقتدار کی ہوس سب سے ہولناک ہے، اپنے پیش رو حکمرانوں کا بدترین انجام دیکھ کر بھی جو نہیں سمجھتے کہ یہ دُنیا عبرت کی جا ہے، تماشہ نہیں۔ مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر نے اس حقیقت کو پا لیا، مگر افسوس کہ بہت دیر ہو چکی تھی، جب وہ یہ کہتا رہا اور رو رو کر کہتا رہا ہو گا کہ اس کی شاعری کم اور ماتم زیادہ ہے:

یہ چمن یوں ہی رہے گا اور ہزاروں جانور

اپنی اپنی بولیاں سب بول کر اُڑ جائیں گے

یہ قوم اُٹھے گی اور ضرور اُٹھے گی۔ وقت آن پہنچا ہے۔ اس سے زیادہ پستی اور کیا ہو سکتی ہے۔ حد درجہ ذلت، بدنامی اور مایوسی، اس سے زیادہ حکمران طبقہ اس قوم کی اور کتنی تذلیل کرے گا اور کتنی؟ کب تک ذلتوں کا یہ نظام چلتا رہے گا؟ آخر کب تک ظلم کی سیاہ رات امن کی سحر کا راستہ روک سکے گی؟ محرومیوں و ناکامیوں کا اپاہج نظام اور کتنی دیر اپنا وجود قائم رکھ سکے گا؟ شاید شاہنواز کے اشعار یاد آ رہے ہیں:

کب تک نہ سحر اپنی بصارت کو چھوئے گی؟

کرتے رہیں گے رات بسر اور کتنی دیر؟

محرومی و ناکامی کا طوفان کہاں تک؟

انجان منزلوں کا سفر اور کتنی دیر؟

زرداری حکومت نے پانچ سال برباد کر دیئے کہ اس کی کوئی کل سیدھی نہ تھی۔ مسلم لیگ(ن) کی حکومت میں آئی ایم ایف کی شرائط پر چلنے کا عزم، مہنگائی، لاقانونیت اور دہشت گردی کا طوفان یقینا صورت حال مایوس کن ہے، مگر یہ بھی مت بھولئے کہ قومیں ہمیشہ ایسے ہی بدترین حالات میں اُبھر کر اوپر آتی رہی ہیں۔ المناک حالات کے نتائج ہمیشہ دو طرح سے ظاہر ہوتے ہیں یا تو معاشرے بالکل سرنڈر کر جاتے ہیں اور غلامی قبول کر لیتے ہیں یا پھر ایک نئے جذبے و ولولے سے اُٹھتے ہیں۔ خوف، وسوسوں اور اندیشوں کی پرواہ کئے بغیر، جیسے دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپانی قوم اُٹھی، جرمنی نے ترقی کے نئے سفر کا آغاز کیا تھا۔ چین کی انگڑائی اور یہودیوں کی جدوجہد، کتنی ہی قوموں کی ترقی کا سفر ہمارے سامنے ہے۔

پاکستانی ان قوموں سے کئی لحاظ سے بہت زیادہ مستحکم، توانا اور باصلاحیت ہیں۔ ہمارے ہاں فوج، عدلیہ اور پارلیمنٹ کے مضبوط ادارے موجود ہیں۔ آزاد میڈیا بھی اپنی ساکھ قائم کر رہا ہے، مائیکرو سافٹ میں دنیا کے کم عمر ترین انجینئر یہاں سے اُٹھ رہے ہیں۔ او لیول اور اے لیول میں ٹاپ کرنے والے ہونہار طلبہ اِسی خطے کو روشن کرنے کے لئے پُرعزم ہیں۔ خیرات دینے میںیہ قوم سب سے زیادہ نمایاں ہے۔ اخوت کے امجد ثاقب ایسا کارنامہ رقم کر چکے ہیں کہ دنیا کے بڑے بڑے ادارے بھی اس قدر شاندار کام نہیں کر سکے۔ کمی ہے تو صرف ایک لیڈر کی جو منتشر لوگوں کو ایک قوم کے روپ میں یکجا کر کے ترقی کے سفر کا آغاز کر سکے۔

لیڈر، اس قوم کو لیڈر تلاش کرنا ہو گا۔ یہ قوم اُٹھے گی اور ضرور اُٹھے گی۔ قوم جب تک لیڈر نہیں ڈھونڈے گی، اُس پر اس کے اندر سے ایسے لوگ مسلط ہوتے رہیں، جو فکری بانجھ پن کا شکار ہوں گے۔ فیصلہ سازی کی قوت سے محروم۔ ماتم گری اور گریہ زاری کرتے ناکام لوگ، کنفیوژن کا شکار، قوم کی بدحالی انہی لوگوں کی وجہ سے ہے، جنہیں قوم سے محبت ہے، نہ سرزمین سے، جن کا سرمایہ ملک سے باہر ہے، کاروبار اور جائیدادیں بیرون ملک۔ ان لوگوں کی اس ملک میں اگر جگہ ہے، تو صرف دو گز زمین کہ دفن ہونے کے لئے انہیں دُنیا کی کوئی سرزمین قبول نہیں کرتی۔ دبئی، برطانیہ، فرانس اور امریکہ کے مہنگے علاقوں میں ان کے محلات، مگر اُن کی پاکستان میں جائیداد ہے، تو صرف دو گز زمین۔ زرخیز ملک کو اُن کی ہوس نے کنگال کر دیا ہے۔ عوام کے مُنہ سے نوالہ چھین کر یہ بیرون ملک عیاشی کر رہے ہیں۔ سرمایہ دار گروہ نے مل کر اس ملک کا نظام جکڑ ر کھا ہے۔ ایک دانشور دوست سے پوچھا کہ زرعی ملک میں قحط کا منظر کیوں ہے، اس ملک کا محنت کش طبقہ غربت و افلاس کا شکار کیوں ہے؟ اُس نے جواب میں بڑی خوبصورت بات کی کہ طبیعت اداس ہو گئی ، کہنے لگا:

خدا کا رزق تو ہر گز زمیں پہ کم نہیں یارو

مگر یہ کاٹنے والے، مگر یہ بانٹنے والے

 صورت حال مایوس کن ضرور ہے۔ سامنے کا منظر یہ ہے کہ زرداری حکومت نے معیشت برباد کر دی، دہشت گردوں کو طاقتور ہونے دیا، کرپشن کو ایمان کا درجہ دے دیا، لاقانونیت کو مزید بڑھنے کا موقعہ دیا۔ غیر ملکی مداخلت پر خاموشی طاری کر لی، پانچ سال اس ملک پر عذاب کی صورت میں مسلط رہی اور گزر گئی، میاں نواز شریف کی حکومت سے اس قوم کو بڑی امیدیں وابستہ تھیں، مگر شاید یہ حکومت بھی زرداری حکومت کا ہی تسلسل ہے محض چہرے بدلنے کا کھیل، جسے عوام جمہوریت سمجھ کر دھوکہ کھاتے رہتے ہیں:

کبھی چڑیاں تو کبھی باز بدل جاتے ہیں

ظلم کرنے کے بس انداز بدل جاتے ہیں

یہ ہے میدان سیاست کا تماشہ کہ یہاں

گیت رہتے ہیں وہی، ساز بدل جاتے ہیں

ایک منظر، مگر دوسرا بھی ہے، جس میں پاک فوج کا مضبوط ادارہ، آزاد عدلیہ، آزاد میڈیا، ابھرتے ہوئے ذہین نوجوان،جذبہ ¿ خدمت خلق سے سرشار اخوت جیسے ادارے، دہشت گردی، کرپشن اور غیر ملکی مداخلت کے خلاف عوام میں بڑھتی ہوئی یکجہتی یقینا امید افزا ہے۔ مایوسی نہیں امید کہ امید کے چراغ روشن ہو کر ہی رات کے سناٹے کا وجود چیرتے ہوئے صبح صادق کا اعلان کرتے ہیں، جیسے اللہ کے گھر سے موذن ان الفاظ میں عارضی موت کا شکار لوگوں کو الصلوٰة خیر من النوم کا نقارہ بجا کر جگا رہا ہوتا ہے۔  ٭

مزید : کالم