انصاف غریب کی دہلیز پر!

انصاف غریب کی دہلیز پر!
انصاف غریب کی دہلیز پر!

  

جناب من!اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے، اس لئے اس کی تعلیمات زمان و مکان کی حدود و قیود سے بالا تر اور آفاقی نوعیت کی حامل ہیں اور اس شریعت بیضا میں قیامت تک کے ہر انسان کی فطرت اور ضرورت کے موافق اکمل اور اتم تعلیم موجود ہے اور یہ حقیقت ہے کہ انسان ایک سماجی حیوان ہے اور اکیلا رہنا اس کے لئے دشوار اور ناممکن ہے۔ جب انسان ایک جماعت کی صورت میں زندگی بسر کرتا ہے تو پھر جس چیزکی اسے سب سے زیادہ ضرورت پڑتی ہے، وہ ہے عدل اور انصاف.... اسلامی تعلیم تو واضح طور پر موجود ہے کہ خواہ تمہاری کسی قوم سے دشمنی ہی کیوں نہ ہو، تم نے ہر حال میں عدل سے کام لینا ہے۔ اس عدل کا عملی مظاہرہ خلفائے راشدین کے دور میں دیکھنے میں آیا ۔افلاطون نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف The Republic میں ایک مثالی ریاست کا تصور پیش کیا اور اس کے آغاز ہی میں وہ عدل کے بارے میں بحث کرتا ہے اور بڑے ہی دلچسپ انداز اور مکالماتی پیرایہ اظہار میں عدل کی تعریف (Definition) بیان کرتا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ ایک مثالی ریاست میں عدل ایک بنیادی پتھر کی حیثیت رکھتا ہے۔ آج اس وقت ملک خداداد پاکستان میں افراتفری اور انارکی (Anarchy)کی کیفیت پائی جاتی ہے، اس طرح کی بدامنی اور خلفشار کا خاتمہ صرف عدل کے قیام سے ہی ممکن ہے اور اس طرح کا انصاف کہ صاحب پی لے تو فیشن بن جائے اور جمن پی لے تو نشہ کہلائے۔ کسی بھی معاشرہ اور سوسائٹی کے لئے زہر ہلاہل کی حیثیت رکھتا ہے۔

اس وقت عدالت عالیہ کے سر خیل جناب افتخار چودھری (چیف جسٹس آف پاکستان) جن کی عمر 64سال ہے وہ 11دسمبر2013ءکو ریٹائر ہو رہے ہیں، جن کا عرصہ ملازمت ان کی پرویز مشرف کے ہاتھوں معزولی کا عرصہ نکال کر پونے سات سال بنتا ہے اور یہ وہ شخصیت ہیں کہ جو ملکی تاریخ کے سب سے طاقتور چیف جسٹس کے طور پر سامنے آئے ہیں کہ جس پر عدالت عظمیٰ بجا طورپر ناز کر سکتی ہے۔ یہ بات بالکل درست اور مبنی بر حقائق ہے کہ بہت ساری تنقید کے باوجود ان کے بہت سے فیصلے ایسے ہیں، جو تعریف کے قابل ہیں اور یہ کہنے میں کوئی امر مانع نہیں کہ ان کے دور میں عدالت عظمیٰ کے وقار اور قدرومنزلت میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ ہمیشہ اصولی موقف پر ڈٹ جانے کی جو خصوصیت جناب افتخار چودھری میں نظر آئی، وہ ان کے متقدمین میں کم کم نظر آتی ہے، جبکہ متاخرین کے لئے راستوں کا تعین اب سہل اور آسان امر ہو گا۔ ان کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے دور میں پیپلزپارٹی کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے جرم میں وزارت عظمٰی سے ہاتھ دھونا پڑے تھے۔

ایک وقت چیف جسٹس پر ایسا بھی آیا جب ان کو متنازعہ بنانے کی پوری کوشش کی گئی، مگراب اس معاملے میں خاموشی نظر آتی ہے۔ چیف جسٹس نے اپنے دور میںبہت سے از خود نوٹس لئے مثلاًحج سکینڈل کے سلسلے میں ازخود نوٹس لیا، عدنان خواجہ کی جی ڈی سی ایل کے سربراہ کے طور پر ازخود نوٹس لیا، جس پر و نااہل ثابت ہوگئے۔ رینٹل پاور کیس میں ازخودنوٹس، توقیر صادق کرپشن شکینڈل ، ایفیڈرین کیس، سٹیل مل کرپشن کیس، ایل جی سکینڈل وغیرہ ایسے معاملات ہیں، جن میں اربوں روپے کی ہیرا پھیری ثابت ہوئی اور کئی لوگوں کی بدعنوانی طثت ازبام ہوئی اور کئی بڑے چہرے بے نقاب ہوئے۔

 افتخار چودھری پر کئی معاملات میں تنقید کی جا رہی ہے اور جوں جوں ان کی ریٹائرمنٹ کی مدت قریب آرہی ہے، ان پر کی جانے والی تنقید میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک اعتراض جو ان پر کیا جاتا ہے، وہ یہ بھی ہے کہ ماتحت عدالتوں کے نظام میں درستی کے تقاضوں سے وہ عہدہ برآ نہیں ہو سکے۔یہ اعتراض اعتزاز احسن بڑے زور و شور سے کرتے نظر آتے ہیں۔یہ بات بہت ہی اہم ہے اور یہ اچانک ہونے والا عمل نہیں، بلکہ ارتقائی عمل ہے اور جب تک ماتحت عدالتوں کا قبلہ درست نہ کیا گیا انصاف غریب عوام کی دہلیز تک نہیں پہنچ سکتا اور امید ہے آنے والا چیف جسٹس اس معاملے کی طرف خاص توجہ دے گا، اس سلسلے میں ایک اہم امر کی طرف بھی غور کرنا ہو گا کہ اگر ماتحت عدالتوں میں مطلوبہ انصاف کی جلد فراہمی نہیں پائی جاتی تو اس کی ایک وجہ سماج کے اخلاقی رویے کی بھی ہے، جس میں جھوٹ رچ بس گیا ہے۔ اس اخلاقی رویے میں قابل ذکر تبدیلی کے بغیر انصاف کا مطلوبہ ہدف کیسے حاصل ہو سکتا ہے۔ اس میں گواہوں کا جھوٹ بولنا اور ایک خاص قسم کے تھانہ کلچر کا وجود بھی اپنی تمام کمزوریوں کے ساتھ موجود ہے کہ جہاں تفتیش کے دوران انصاف کے پہلوﺅں کو سونے،چاندی کی جھنکار اور نوٹوں کی آواز کے آگے نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ عدالت کا کام تو فیصلہ کرنا ہوتا ہے، مگر اس کی تنفیذکا کام تو انتظامیہ کی ذمہ داری ہوتی ہے، مگر اس میں تغافل شعاری یا تجاہل عارفانہ کو اپنایا جاتا ہے یا پھر ڈھٹائی سے کام لیا جاتا ہے، مثلاً، موجودہ دور حکومت میں سپریم کورٹ نے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ پر سوموٹو (Suomotu) ایکشن لیا، جس پر حکومت نے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ تو واپس لے لیا، مگر سیلز ٹیکس کی مد میں دو فیصد اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گویا طاقت کے نشے میں چور دوسرے انداز سے عدالت کے فیصلے کو ہوا میں اڑا دیا۔ بہرحال حقیقی عدل اور انصاف تو یہ ہے کہ جو خود چل کر غریب اور مظلوم کی دہلیز تک جائے۔ اس ضمن میں لاپتا افراد کے سلسلے میںلئے گئے ایکشن کو عوام میں تحسین کی نظر سے دیکھا گیا ، غریب اور بے بس عوام کے اند ر کچھ اعتماد بھی پیدا ہوا۔ بہرحال حقیقی عدل اور انصاف وہی ہوتا ہے جو مظلوم کے پاس خود چل کر جائے، نہ یہ کہ وہ دھکے کھاتا پھرے اور انصاف اس سے کوسوں دور ہو۔ ہم امید کرتے ہیں کہ آنے والا چیف جسٹس ماتحت عدالتوں کے نظام کو بہتر بنائے گا اور ایسا کر دے گا کہ ان عدالتوں کا ہر جج یا منصف غریب اور مظلوم کی آواز بن جائے گا بقول شاعر:

رہنے دو قصر عدل کی زنجیر بےکسو

کافی ہے ارتعاش جو ارض و سماءمیں ہے!

بہرحال یہ اِسی صورت ممکن ہو سکتا ہے،جب عدالتیں ہر قسم کے بیرونی دباﺅ سے مکمل طور پر آزاد ہوں اور ہمارا تھانہ کلچر بھی مکمل طور پرتبدیل ہو جائے۔   ٭

مزید : کالم