علامہ اقبالؒ اور اکبر الٰہ آبادی ؒ (3)

علامہ اقبالؒ اور اکبر الٰہ آبادی ؒ (3)

 میں نے چونکہ خواجہ حافظ پر اعتراض کیا ہے، اس واسطے ان کا خیال ہے میں تحریک تصوف کو دنیا سے مٹانا چاہتا ہوں۔ سرّا سرار خودی کے عنوان سے انہوں نے ایک مضمون ”خطیب“میں لکھا ہے جو آپ کی نظر سے گزرا ہوگا۔جو پانچ وجوہ انہوں نے مثنوی سے اختلاف کرنے کے لکھے ہیں، انہیں ذرا غور سے ملاحظہ فرمائیے۔

اکبر اور اقبالؒ کی سوچ میں ایک بڑا فرق یہ ہے کہ اکبر تصوف کی مروجہ راہوں پر چلنے والے تھے جبکہ اقبالؒ تصوف کو اسلامی شریعت کی روشنی میں جانچتے اور پرکھتے تھے۔اس بارے میں اخبارات میں بحث چل نکلی تو اکبر الہ آبادی کے دو خطوط کے جواب میں 11جون1918ءکو علامہ اقبال انہیں لکھتے ہیں:میں نے خواجہ حافظؒ پر کہیں یہ الزام نہیں لگایا کہ ان کے دیوان سے مے کشی بڑھ گئی۔میرا اعتراض حافظ پر بالکل اور نوعیت کا ہے۔”اسرارِ خودی“ میں جو کچھ لکھا گیا،وہ ایک لٹریری نصب العین کی تنقید تھی جو مسلمانوں میں کئی صدیوں سے پاپولر ہے۔اپنے وقت میں اس نصب العین سے ضرور فائدہ ہوا۔اِس وقت یہ غیر مفید ہی نہیں بلکہ مضر ہے۔خواجہ حافظ کی ولایت سے اس تنقید میں کوئی سروکار نہ تھا، نہ ان کی شخصیت سے۔نہ ان اشعار میں ’مے‘ سے مراد وہ ’مے‘ ہے جو لوگ ہوٹلوں میں پیتے ہیں بلکہ اس سے وہ حالت سُکرمراد ہے جو حافظ کے کلام سے بحیثیتِ مجموعی پیدا ہوتی ہے۔

چونکہ حافظ ولی اور عارف تصور کیے گئے ہیں، اس واسطے ان کی شاعرانہ حیثیت عوام نے بالکل ہی نظر انداز کردی ہے اور میرے ریمارک تصوف اور ولایت پر حملہ کرنے کے مرادف سمجھے گئے ہیں۔

 پہلے عرض کرچکا ہوں کہ کون سا تصوف میرے نزدیک قابل اعتراض ہے۔ میں نے جو کچھ لکھا ہے، وہ کوئی نئی بات نہیں۔ حضرت علاو¿الدولہ سمنانی لکھ چکے ہیں، حضرت جنید بغدای لکھ چکے ہیں۔ میں نے تو محی الدین اور منصور حلاج کے متعلق وہ الفاظ نہیں لکھے جو حضرت سمنانی اورحضرت جنید نے ان دونوں بزرگوں کے متعلق ارشاد فرمائے ہیں ۔ہاں ان کے عقائد اور خیالات سے بیزاری ضرور ظاہر کی ہے ۔ اگر اسی کا نام مادیت ہے تو قسم بخدائے لایزال مجھ سے بڑھ کر مادہ پرست دنیا میں کوئی نہ ہوگا۔ معاف کیجئے گا مجھے آپ کے خطوط سے یہ معلوم ہوا ہے (ممکن ہے غلطی پر ہوں) کہ آپ نے مثنوی اسرار خودی کے صرف وہی اشعار دیکھے ہیں جو حافظ کے متعلق لکھے گئے تھے۔ باقی اشعار پر نظر شاید نہیں فرمائی۔ کاش آپ کو ان کے پڑھنے کی فرصت مل جاتی تاکہ آپ ایک مسلمان پر بدظنی کرنے سے محفوظ رہتے۔

عجمی تصوف سے لٹریچر میں دلفریبی اورحسن وچمک پیدا ہوتا ہے مگر ایسا کہ طبائع کو پست کرنے والا ہے۔ اس کے برعکس اسلامی تصوف دل میں قوت پیدا کرتا ہے اور اس قوت کا اثر لٹریچر پر ہوتا ہے۔

میرا تو یہی عقیدہ ہے کہ مسلمانوں کا لٹریچر تمام ممالک اسلامیہ میں قابل اصلاح ہے۔ (Pessimistilc Literature)کبھی زندہ نہیں رہ سکا۔ قوم کی زندگی کے لیے اس کا اور اس کے لٹریچر کا (Optimistic) ہونا ضروری ہے۔ اسرار خودی میں حافظ پر جو کچھ لکھا گیا ہے اس کو خارج کرکے اور اشعار لکھے ہیں جن کا عنوان یہ ہے:

”درحقیقت شعرو اصلاح ادبیات اسلامیہ“

ان اشعار کو پڑھ کر مجھے یقین ہے کہ بہت سی غلط فہمیاں دور ہوجائیں گی اور میرا اصل مطلب واضح ہوجائے گا۔

20جولائی 1918ءکواکبر الہ آبادی کے خط کے جواب میں بےخودی پر بات کرتے ہوئے علامہ اقبالؒ یہ بھی لکھتے ہیں:

 ایک اور بیخودی ہے جس کی دو قسمیں ہیں:

1۔ایک وہ جو Lyric poertyکے پڑھنے سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ اس قسم سے ہے جو افیون و شراب کا نتیجہ ہے۔

2۔دوسری وہ بیخودی ہے جو بعض اسلامیہ اور تمام ہندو جو گیوں کے نزدیک ذاتِ انسانی کو ذاتِ باری میںفنا کردینے سے پیدا ہوتی ہے۔ اور یہ فناذات باری میں ہے نہ احکام باری تعالیٰ میں۔

پہلی قسم کی بےخودی تو ایک حد تک مفید بھی ہوسکتی ہے مگر دوسری قسم تمام مذہب و اخلاق کے خلاف اور جڑ کاٹنے والی ہے۔ میں ان دوقسموں کی بے خودی پر معترض ہوں اور بس۔  حقیقی اسلامیبےخودی میرے نزدیک اپنے ذاتی اور شخصی میلانات، رجحانات وتخیلات کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے احکام کا پابند ہوجانا ہے، اس طرح پر کہ اس پابندی کے نتائج سے انسان بالکل لاپرواہ ہوجائے اور محض رضا و تسلیم کو اپنا شعار بنائے۔ یہی اسلامی تصوف کے نزدیک ’فنا‘ ہے۔ البتہ عجمی تصوف فنا کے کچھ اور معنی جانتا ہے جس کا ذکر اوپر کر چکاہوں۔ خواجہ حافظ پر جو اشعار میں نے لکھے تھے ان کے مقاصد کچھ اور تھے۔ آیات قرآنی جو آپ نے لکھی ہیں زیر نظر ہیں۔ میں ان کے وہی معانی سمجھتا ہوں جو آپ کے ذہن میں ہیں۔ حیات دنیا بے شک لہو و لعب ہے۔ میں نے بھی پہلے حصہ میں (اسرار خودی) یہی لکھا ہے:

درقبائے خسرویدرویش زی

دیدہ بیدار و خدا اندیش زی

(ترجمہ:بادشاہی کے لباس میں درویش بن کر جیو، آنکھیں بیدار ہوں اور اندیشہ میں خدا ہو)

پھر دوسرے حصے میںہے جس میں حضرت عمر کا ایک قول منظوم کیا ہے:

راہ دشوار است سامان کم بگیر

درجہان آزاد زی، آزاد میر

سبحہ اقلل من الدنیا شمار

از تعِش حُرّاً شوی سرمایہ دار

(ترجمہ:راہ دشوار ہے، کم سامان ساتھ لو۔دنیا میں آزاد جیو اور آزاد مرو۔ دنیا کم رکھو کی تسبیح پڑھو تو غنی رہوگے)

غرض یہ ہے کہ سلطنت ہو، امارت ہو، کچھ ہو ، بجائے خود کوئی مقصد نہیں ہے بلکہ یہ ذرائع ہیں ، اعلیٰ ترین مقاصد کے حصول کے جو شخص ان کو بجائے خود مقصود جانتا ہے وہ رَضُوابالحیٰوة الدُنیا (ترجمہ: وہ دنیا کی زندگی ہی میں مگن ہوگئے)میں داخل ہے۔ کوئی فعل مسلمان کا ایسا نہ ہونا چاہیے جس کا مقصد اعلائے کلمة اللہ کے سوا کچھ اور ہو۔

اسرارِ خودی کو ایک دفعہ پڑھ جائیے۔ جس طرح منصور کو شبلی کے پتھر سے زخم آیا اور اس کی تکلیف سے اُس نے آہ و فریاد کی، اسی طرح مجھ کو آپ کا اعتراض تکلیف دیتا ہے۔

اکبر الہ آبادی، اسرارِ خودی پڑھے بغیر، مختلف دوستوں کو خطوط لکھ کر اپنے نقطہ¿ نظرکا اظہار کرتے رہے۔حالانکہ صحیح طریقہ یہ تھا کہ کتاب پڑھنے کے بعد اقبال سے اس مسئلہ پر بحث کرتے۔ لیکن وہ ادھر ادھر ٹامک ٹوئیاں مارتے رہے۔صحیح راستے پر گامزن نہ ہوئے۔مثلاً

اکبر الہ آبادی11جون1918ءکوایک خط میں عبدالماجد دریابادی کو لکھتے ہیں:  ”اقبال نے جب سے حافظ شیراز کو علانیہ برا بھلاکہا ہے، میری نظر میں کھٹک رہے ہیں۔ ان کی مثنوی ”اسرارِ خودی“ آپ نے دیکھی ہوگی۔ اب مثنوی ”رموزِ بے خودی“ شائع ہوئی ہے۔ میں نے نہیں دیکھی۔دل نہیں چاہا۔خط و کتابت ہے لیکن میں ان کے انقلابِ طبیعت سے خوش نہیں ہوں۔ ہونا اچھا، بننا برا۔بہر کیف کوئی سیریس معاملہ نہیںہے۔ دنیا میں یہی ہوتا آیا ہے“۔ آپ نے نوٹ کیا کہ اکبر صاحب کو یہ پریشانی تو بہت ہے کہ حافظ کو علانیہ برابھلا کیوں کہاگیامگر اسلامی نقطہ¿ نظر کی بات ہی نہیں کرتے۔

رحیم بخش شاہین لکھتے ہیں:دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سے پیشتر وہ خود بھی حافظ شیرازی کے رنگ کی مذمت کرچکے تھے۔ علامہ اقبال نے اپنے ایک مضمون میں،”سرّ اسرار خودی“ میں خواجہ حسن نظامی کے اعتراضات کے جوابات دیتے ہوئے اکبر الہ آبادی کااس طرح ذکرکیا ہے:

مضمون کا خاتمہ آپ نے مولانا اکبر کے ایک مصرعہ پہ کیا ہے یعنی:

خودی خدا سے جھکے بس یہی تصوف ہے

یہ میرا عین مذہب ہے اور میرے نزدیک میری مثنوی اسی مصرع کی ایک تفسیر ہے۔مگر آپ کو معلوم ہے کہ یہ مولانا اکبر جن کا یہ مصرع ہے کون ہیں؟یہ وہی مولانا اکبر ہیں جن کا یہ شعر ہے:

ان میں باقی ہے کہاں خالدِجانباز کا رنگ

دل پہ غالب ہے فقط حافظِ شیراز کا رنگ

بہر صورت جب حافظِ شیراز اور تصوف کے موضوع پر بحث زیادہ تلخ ہوگئی تو اکبر الہ آبادی نے خواجہ صاحب کو یہ مشورہ دیا :

اے خواجہ حسن کرو نہ اقبال کو رد

قومی رکنوں کے ہیں نگہباں وہ بھی

تم محو ہو حسن کی تجلی میں اگر

ہیں دشمنِ فتنہ¿ رقیباں وہ بھی

پریوں کے لیے جنون ہے تم کو اگر

دیووں کے لیے بنے سلیماں وہ بھی

اقبال ، اکبر الہ آبادی کا جو عمر میں ان سے تقریباً بتیس سال بڑے تھے، بہت احترام کرتے تھے۔ وہ ان کی شاعری پسند کرتے تھے ۔مگر جب تصوف کی بحث چلی، تو باہمی احترام کے باوجود دونوں حضرات اپنی اپنی رائے پر قائم رہے۔علامہ اقبال نے ان کے لیے انتہائی ادب و احترام کے باوجوداس بات پر شدید بیزاری کا اظہار کیا کہ وہ ان کی مثنوی کو پڑھے بغیر، صرف حافظ شیرازی پر چند اشعار پڑھنے کے بعد، اس کے خلاف تبصرہ کیے جا رہے ہیں۔اکبر بھی اقبال کی شاعری کے مداح تھے ۔ مگرجب انہوں نے اسرارِ خودی لکھی اور حافظ سے ہوشیار رہنے کے لیے کہا تو وہ دوستوں کو اقبال کے خلاف خطوط لکھتے رہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے صلح صفائی کی بھی کوشش کی اور وہ اس میں کامیاب بھی رہے۔

اس بحث کو سمیٹتے ہوئے رحیم بخش شاہین لکھتے ہیں:اس سلسلے میں خواجہ صاحب اس لیے معذور تھے کہ اقبال کے نظریہ¿ تصو ف کو تسلیم کرنے سے ان کی گدی نشینی وغیرہ کا سلسلہ کیسے جاری رہ سکتا تھا اور اکبر مرحوم کی روش اس لیے قابلِ چشم پوشی تھی کہ وہ عادتاً یا سن رسیدہ ہونے کی وجہ سے معاملے کو سرسری طور پر دیکھتے تھے۔ ۔۔۔ آخرکار جب اقبال نے دیکھا کہ حافظ پر لکھے گئے اشعار اور تصوف پر لکھے گئے دیباچہ سے مقصد حاصل ہوچکا ہے اور اس بحث مباحثے سے مفید نتائج برآمد نہیں ہورہے،نیز ان کے والد کا بھی یہی مطالبہ ہے، تو انہوں نے ”اسرارِ خودی“ کے دوسرے ایڈیشن میں ”دیباچہ“ اور ”خواجہ حافظ شیرازی“ پر کہے گئے 35اشعار خارج کردیئے گئے۔

اسرار خودی میںاقبال نے حافظ شیرازی کے بارے میں جو کچھ کہا، اس میں سے چند اشعار درج ذیل ہیں:

ہوشیار از حافظ صہبا گسار

جامش از زہر اجل سرمایہ دار

نیست غیر از بادہ در بازار او

از دوجام آشفتہ شد دستار او

آں فقیہِ ملت مے خوارگاں

آں امامِ ملت بیچارگاں

بے نیاز از محفلِ حافظ گزر

الحذر از گوسفنداں الحذر

مولانااکبر الہ آبادی نے ایک مہینے کی شدید نقاہت اور ضعف کے بعد 9ستمبر 1921ءکو انتقال کیا۔علامہ اقبال نے ایک تار بھیج کر ان کے صاحبزادے سید عشرت حسین سے اظہارِ ہمدردی کیا اور پھر انہیں تعزیت کا خط لکھا جس میں یہ بھی تھا:

اسلامی ادیبوں میں تو شاید آج تک ایسی نکتہ رس ہستی پیدا نہیں ہوئی اور مجھے یقین ہے کہ تمام ایشیا میں کسی قوم کے ادبیات کو اکبر نصیب نہیں ہوا۔فطرت ایسی ہستیاں پیدا کرنے میں بڑی بخیل ہے۔زمانہ سینکڑوں سال گردش کھاتا رہتا ہے جب جاکے ایک اکبر اسے ہاتھ آتا ہے۔ کاش اس انسان کا معنوی فیض اس بدقسمت ملک اور اس کی بدقسمت قوم کے لیے کچھ عرصہ اور جاری رہتا۔

ان کی وفات پر افسوس کرتے ہوئے،16ستمبر 1921ءکو مولانا گرامی کے نام خط میں علامہ اقبال نے لکھا:اکبر مرحوم بے نظیر آدمی تھے۔وہ اپنے رنگ کے پہلے اور آخری شاعر تھے مگر شاعری کو چھوڑ کر ان کا پایہ روحانیات میں کم بلند نہ تھا۔یوںتو کئی سال سے ان کے وقت کا بیشتر حصہ قرآن پڑھنے میں گزرتا تھااور ان کی زندگی رفیقِ اعلیٰ سے ملنے کے لئے ایک تڑپ تھی مگر گذشتہ دو سال سے تو وہ موت کے بہت متمنی تھے کہ کوئی خط مشکل سے ہوگا جس میں انہوں نے اس خواہش کا اظہارنہ کیا ہو۔۔ ۔۔۔ مسلمانانِ ہند کو اپنے اس نقصان کا شاید پورا پورا احساس نہیں ہے۔  (ختم شد) ٭

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...