پرتشّدد راستہ ....تباہی کا راستہ

پرتشّدد راستہ ....تباہی کا راستہ

صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر کوہاٹ میں سانحہ راولپنڈی کے خلاف احتجاجی جلوس پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے پیر کے روز دوپولیس اہلکاروں سمیت3افراد جاں بحق اور تین زخمی ہو گئے، جس کے بعد شہر میں ہنگامے شروع ہو گئے اور مشتعل افراد نے کئی دکانوں کو آگ لگا دی،شہر میں کرفیو لگا دیا گیا ہے، کوہاٹ میں کشیدگی کے بعد ہنگو کے حالات کشیدہ ہو گئے، یہاں بھی کرفیو لگانا پڑا تاہم دو گھنٹے بعد حالات قابو میں آتے ہی کرفیو اٹھا لیا گیا، راولپنڈی میں بھی صورت حال بدستور کشیدہ ہے، تاجروں نے احتجاج کیا اس دوران مشتعل افراد نے دکانوں پر پتھراﺅ شروع کردیا جس پر بازار بند ہوگئے اور تاجر دکانیں بند کرکے باہر بیٹھ گئے۔سانحہ راولپنڈی کے خلاف ملک بھر میں احتجاج جاری ہے۔ملتان میں ڈسٹرکٹ بار کے وکلاءنے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا۔بہاول پور میں طلباءنے احتجاجی ریلی نکالی۔چنیوٹ میں وکلاءنے ہڑتال کررکھی ہے۔مظفر گڑھ میں ڈسٹرکٹ بار سمیت وکلاءکوٹ ادو، جتوئی اور علی پور میں ہڑتال کررہے ہیں، بٹگرام میں طلباءنے احتجاجی مارچ کیا، اس طرح کے مظاہرے اور ہڑتالیں بہت سے دوسرے شہروں میں بھی ہوئے۔

راولپنڈی میں جو واقعہ ہوا ،وہ انتہائی افسوسناک ہے، اس کے ذمہ دار کون تھے؟پولیس اور انتظامیہ کس حد تک قصور وار تھی، بعض پولیس افسر اچانک پُراسرار طور پر غائب ہو گئے، جو پولیس موقع پر موجود تھی اس نے شرپسندوں کے خلاف کارروائی کیوں نہ کی اور مجرمانہ حد تک تساہل کیوں روا رکھا اور تاخیر کی وجہ سے راجہ بازار کی دکانیںجل گئیں، اربوں کا نقصان ہوگیا، لوگ عمر بھر کی جمع پونجی اور کاروباروں سے محروم ہوگئے، ان لوگوں کو اپنے پاﺅں پر دوبارہ کھڑے ہونے کے لئے کتنا عرصہ لگے گا۔یہ اور اس طرح کے سینکڑوں سوالات ہیں جو حکومت، معاشرے، سول سوسائٹی اور دانشوروں کے سامنے منہ کھولے کھڑے ہیں۔وہ کون لوگ تھے جنہوں نے پورے ملک کی پرامن فضا میں آگ لگا دی اور اب کشیدگی کا دائرہ پھیلتا جا رہا ہے، ان سوالات کا جواب ملے گا تو صورت حال کو سمجھنے میں مدد ملے گی، لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ پہلے ہونے والے سانحات کی طرح یہ سانحہ بھی وقت کی گرد میں دب جائے اور بہت سے سوالوں کے جواب ہی نہ مل پائیں، اتنا تو بہرحال طے ہے کہ یہ سب کچھ کسی گہری سازش کے بغیر نہیں ہو سکتا، سازشیوں کا تعلق کہاں کہاں تک پھیلا ہوا ہے اور انہیں کہاں کہاں سے امداد ملتی ہے یہ سب کچھ طشت ازبام ہونا چاہیے۔پنجاب کا عدالتی کمیشن اور فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کام کررہے ہیں اس کے نتیجے کا انتظار بھی ہے۔

یہ سارا کچھ اپنی جگہ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم آناً فاناً بطور مجموعی گھر پھونک کر تماشا دیکھنے کا رویہ کیوں اختیار کرلیتے ہیں، تحمل، رواداری، برداشت اور صبر کو اچانک گلدستہ طاقِ نسیاں کیوں بنا لیتے ہیں؟راولپنڈی میں جو کچھ بھی ہوا اور وہ جن لوگوں نے بھی کیا وہ ان اعلیٰ انسانی اقدار سے عاری معلوم ہوتے ہیں، جن لوگوں کی دکانیں جلا کر راکھ کر دی گئیں اور جن کی عمر بھر کی کمائی کو شعلوں کی نذر کردیا گیا ان کا قصور کیا تھا؟ جن لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ان کا گناہ کیا تھا اور کیا وہ قیامت کے دن قاتلوں کے گریبانوں پر ہاتھ ڈال کر یہ نہیں پوچھیں گے، انہیں کس گناہ کی بنیاد پر قتل کر دیا گیا؟ اگریہ سب کچھ کسی وقت اشتعال کا نتیجہ تھا تو سوال یہ ہے کہ ہم اتنی جلد مشتعل کیوں ہو جاتے ہیں، راولپنڈی میں اربوں روپے کا جو نقصان ہو چکا وہ چند لوگوں کا نقصان نہیں، بطور مجموعی پاکستانی قوم کا ہی نقصان ہے، اگر انتظامیہ اور پولیس قصور وار بھی ہے۔بعض افسروں نے کوتاہی برتی ہے اور وہ تساہل کے مرتکب ہوئے ہیں تو سوال یہ ہے کہ ہم ردعمل کے طور پر دوسرے شہروں میں املاک کو کیوں شعلوں کے سپردکررہے ہیں۔دوسرے شہروں میں جن لوگوں کو قتل کیا جا رہا ہے ان کا قصور کیا ہے؟ایسے لگتا ہے بطور قوم ہماری مجموعی نفسیات یہ بن گئی ہے کہ ہم فکر و تدبر سے خالی اور تہی دامن ہو گئے ہیں اور چند لمحوں میں برسوں اور عشروں کی کمائی کو جلا کر خاکستر کرنے میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے۔راولپنڈی میں جو کچھ ہوا وہ نہ ہوتا تو بہتر تھا لیکن جو کچھ اب مختلف شہروں میں ہو رہا ہے۔وہ کیا ہے اور ہمیں کن لوگوںکی صف میں کھڑا کرتا ہے اس کا جواب ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانک کر تلاش کرنا چاہیے اور اپنے ضمیر سے پوچھنا چاہیے کہ ہم ایسا رویہ کیوں اختیار کرلیتے ہیں، اس میں شک نہیں کہ محرم الحرام کے پہلے عشرے میں ملک بھر میں امن و امان قائم تھا، امن و امان قائم رکھنے کے ذمہ دار اداروں کے ارکان چوبیس چوبیس گھنٹے ہائی الرٹ رہے، انہوں نے محدود وسائل میں بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔وہ ہر وقت چوکس نظر آئے سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کئے گئے جس کی وجہ سے کسی بھی جگہ کوئی ناخوشگوار واقعہ نہیں ہوا، راولپنڈی میں بھی حالات جمعتہ المبارک کی صبح تک معمول کے مطابق تھے لیکن سازشیوں نے اس علاقے کو ٹارگٹ کرلیا اور وہ شہر کے علاقے راجہ بازار کو شعلوں کے سپرد کرنے میں کامیاب ہو گئے، اب کچھ لوگ حکومت کو مطعون کررہے ہیں، کچھ انتظامیہ کو رگید رہے ہیں، بعض کی توپوں کا رخ پولیس افسروں کی جانب ہے، کئی دوسرے مختلف جوانب کی طرف انگلیاں اٹھا رہے ہیں، غرض جتنے منہ اتنی باتوں کا معاملہ ہے لیکن یہ کوئی نہیں سوچ رہا کہ ہم اپنی ہی املاک کو جو سرکاری ہوں یا نجی، جلانے پر ہر وقت کیوں تیار رہتے ہیں، مختلف شہروں میں احتجاج کے نام جو کچھ ہو رہا ہے وہ پُرامن ہوتا تو بہتر تھا،پرامن احتجاج کا راستہ چھوڑ کر ہم تشدد کے راستے پر کیوں گامزن ہو گئے ہیں اور ہر وقت اس کے لئے تیار کیوں نظر آتے ہیں، جو زندہ انسان موت کے منہ میں چلے گئے، وہ واپس نہیں آ سکتے، پرتشدد احتجاجوں میں جو مزید زندگیاں ضائع ہو سکتی ہیں ان سے بچنا ہی دانش و حکمت کا تقاضا ہے۔احتجاج کا بہترین راستہ امن کا راستہ ہے اور اگر کسی کو شرپسندوں کے متعلق معلومات ہیں تو وہ حکام تک پہنچانا ان کی ذمے داری ہے، جن لوگوں نے خر من امن کو آگ دکھائی ان تک پہنچنا اور انہیں کیفر کردار تک پہنچانا ہماری ترجیح ہونی چاہیے۔احتجاج اگر پرتشدد ہوجاتا ہے تو اس سے جانی و مالی نقصان کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا اس لئے اس طریقے کو فوری طور پر ترک کردینا ہی دانشمندی ہے جو لوگ ٹاک شوز میں بقراطیاں جھاڑ رہے ہیں ان سے پوچھا جا سکتا ہے کہ کیا ہم اپنا نام ان اقوام میں لکھانا چاہتے ہیں جو اپنے نقصان اور نفع کا ادراک نہیں رکھتیں اور جذبات کی رو میں بہہ کر اپنا ہی گھر جلانے کےلئے ہر وقت تیار رہتی ہیں؟

سوشل میڈیا.... کچھ علاج اس کا بھی

حکومت نے سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد اور افواہ سازی پر مشتمل مواد کے خلاف کارروائی کا حکم دیا۔پی ٹی اے کو ہدایت کی گئی ہے کہ نہ صرف ایسے مواد کو روکا جائے بلکہ جو ملوث ہیں ان کو تلاش کرکے ان کے خلاف فوجداری کارروائی کے لئے قانونی عمل شروع کیا جائے۔پی ٹی اے کو یہ ہدایت تو موصول ہوگئی لیکن اس کی راہ میں جو مشکلات حائل ہیں ان کو پیش نظر نہیں رکھا گیا۔پاکستان میں ابھی تک سائبر کرائمز کے حوالے سے قانون سازی نہیں ہوئی۔ یہاں صرف پیمرا کا ضابطہ اخلاق اور قواعد ہیں ان کی خلاف ورزی پر بھی الیکٹرانک میڈیا کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے جبکہ سوشل میڈیا کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ انٹرنیٹ اور ایس ایم ایس کے ذریعے پھیل چکا اور انہی ذرائع سے یہ نفرت انگیز مواد لوگوں تک پہنچ رہا ہے اور افواہیں پھیل رہی ہیں، ان کے خلاف کارروائی بہرحال پی ٹی اے کو کرنا ہے جو قانون اور قواعد کی تلاش میں ہے۔

سوشل میڈیا پر فرقہ واریت کا زہر بہت خطرناک کھیل ہے، اسے فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔اور اگر اب تک کوئی واضح قانون موجود نہیں تو فوری طور پر تیار کرکے آرڈیننس کے ذریعے نافذ کیا جانا چاہیے اس کے تحت پی ٹی اے کو اختیار ہوکہ وہ ایسا مواد بلاک کر سکے۔اس سلسلے میں ویب والے میڈیا کو تو آسانی سے بلاک کیا جا سکتا ہے اور ایس ایم ایس کے ذریعے جو لوگ ایسی قبیح حرکات کررہے ہیں ان کو موبائل فون نمبروں سے تلاش کیا جا سکتا ہے اس میں تاخیر مزید خرابی کا باعث ہوگی۔

یہ مسئلہ اپنی جگہ لیکن اس سے بھی بڑا ایک سوال یہ ہے کہ پاکستان میں خرابی پیدا ہونے اور اس کے خطرناک ہونے ہی کا انتظار کیوں کیا جاتا ہے۔کسی بھی کام کی اجازت دینے سے پہلے ایسے تمام پہلوﺅں پر کیوں غور نہیں کر لیا جاتا جو بعد میں خرابی کا باعث ہوں، الیکٹرانک میڈیا کے لائسنس جاری کرنے سے قبل متعلقہ حلقوں کی مشاورت سے ضابطہ اخلاق پہلے تیار ہو جانا چاہیے تھا، ابتداءمیں یہ کوئی مشکل کام نہیں تھا جو اب مشکل ترین ہوگیا کہ ضابطہ اخلاق پر اتفاق رائے ممکن نہیں ہو پا رہا اس سلسلے میں بھی حکومت اور الیکٹرونک میڈیا کی نمائندہ تنظیم کے علاوہ اے پی این ایس، سی پی این ای اور پی ایف یو جے کو اب بھی اتفاق رائے کے لئے جلدی کرنا چاہیے۔مقام شکر ہے کہ تنقید کا سامنا کرنے والے الیکٹرانک میڈیا نے اس مرتبہ سانحہ راولپنڈی اور اس کے بعد واقعات کے حوالے سے زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے۔

ایسا ہی موبائل سروس کے لئے بھی ہونا چاہیے تھا، اگر اب تک نہیں ہوا تو اب کرلیا جائے اور ضابطہ اخلاق کے علاوہ سائبر کرائمز کے حوالے سے قانون سازی کرلینا چاہیے۔  ٭

مزید : اداریہ