پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ

پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ
 پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ

  

 جنرل پرویز مشرف نے 14 سال قبل آئین پر شب خون مار کر منتخب وزیراعظم کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیلا ۔ اس کے بعد 12 اکتوبر 1999ءاور پھر 3نومبر 2007ءکو آزاد عدلیہ کے خلاف غیر آئینی اقدام کر کے ججوں کو گھر بھیجا۔ دو مرتبہ آئین توڑنے پر جنرل پرویز مشرف کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے تھی، لہٰذا سپریم کورٹ نے جنرل پرویز مشرف کے 3 نومبر 2007ءکے اقدامات کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات آئین سے غداری کے زمرے میں آتے ہیں۔ اسی سلسلے میں وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق 26 جون کو تشکیل کی گئی انکوائری کمیٹی نے16نومبر کو اپنی رپورٹ حکومت ِ پاکستان کو بھیجی، جس پر غور و فکر کرنے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ حکومت سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت غداری کا مقدمہ چلائے گی۔ وزارت قانون کے خط پر سپریم کورٹ نے پانچ ہائیکورٹوں کے چیف جسٹس صاحبان کو خصوصی عدالت کے لئے ججوں کی نامزدگی کے لئے کہا، تمام نام بھیج دیئے گئے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے بھی اس بات کا اعلان کرتے ہوئے کہا: ”مَیں نے آئین کے تحفظ کا حلف اٹھا رکھا ہے، جس کی رُو سے میری حکومت اس بات کی پابند ہے کہ آرٹیکل6 کی خلاف ورزی کے مرتکب افراد کو عدالت کے کٹہرے میں پیش کیا جائے“۔ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سمیت تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے حکومت کے فیصلے کی تائیدوحمایت کا یقین دلایا ۔

اس مقدمہ کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس کے ملزم جنرل (ر) پرویز مشرف اپنے دفاع میں جو سب سے بڑا حربہ استعمال کرنا چاہتے ہیں، وہ یہ ہے کہ وہ آئین کی بساط لپیٹنے اور منتخب آئینی حکومت کا تختہ الٹنے کے تنہا ذمہ دار نہیں، اس کارروائی میں ساری فوجی قیادت شامل تھی۔ سپریم کورٹ 31 جولائی 2009ءکے فیصلے میں واضح طور پر جنرل (ر) پرویز مشرف کے 3 نومبر 2007ءکی کارروائی کو خلافِ آئین کارروائی اور انہیں قصوروار قرار دے چکی ہے،جبکہ 18 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد ڈکٹیٹر اور ان کے مبینہ رفقا 3 جرنیلوں پر بھی 12 اکتوبر 1999ءکی فوجی کارروائی کی پاداش میں مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔ ا±ن کے علاوہ اس فیصلے کی رُو سے کوئی حاضر سروس جرنیل، جج، وزیراعظم، وزیر یا کوئی رکنِ پارلیمان ایسا نہیںجن پر آئین کی تنسیخ یا اسے معطل کرنے یااس سلسلے میں معاونت کا الزام عائد کیا جا سکے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے سپریم کورٹ میں دائر کردہ اپنی درخواست میں یہ الزام عائد کیا تھا کہ انہیں ایوان صدر کیمپ آفس راولپنڈی میں طلب کر کے زیر حراست رکھا گیا اور جب انہوں نے واپس سپریم کورٹ میں جانے کی کوشش کی تو ان کو زبردستی روکا گیا۔ پرویز مشرف نے قانون ہی نہیں، اخلاق کی بھی دھجیاں ا±ڑا دیں۔ انہوں نے ملک کی آئینی عدالت کو توڑ ڈالا، اعلیٰ عدلیہ کو اپنے فرائض کی انجام دہی سے زبردستی روکنے کے لئے فاضل ججوں کو ان کے اہل و عیال سمیت گھروں میں نظربند کر دیا۔ ان کے غیر قانونی راج کے خلاف جدوجہد میں صرف سیاسی جماعتیں ہی نہیں، عدلیہ، وکلائ، دانشور، اہل قلم، صحافی اور سول سوسائٹی سب شریک تھے۔

ہم فخر کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستانی قوم جمہوریت دوست، معتدل مزاج اور قانون پسند ہے۔ اس کی عظیم جدوجہد کے نتیجے میں وجود میں آنے والی عدلیہ قابل فخر ہے، سب کو اس پر اعتماد رکھنا چاہئے۔ ہمیں یقین ہے کہ پرویز مشرف کو اپنا مو¿قف بیان کرنے کا پورا موقع دیا جائے گا اور ان سے قطعاً بے انصافی روا نہیں رکھی جائے گی۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں۔ خوف اور مصلحتوں کے تحت شہریوں کے مابین امتیاز اس کی وحدت و سالمیت کی تباہی کے مترادف ہو گا۔ سماجی ، سیاسی ، مذہبی حلقوں کی طرف سے حکومت کے اس اقدام کی تحسین کی جا رہی ہے۔ قوم کی طویل اور پ±رامن جمہوری جدوجہد کے تناظر میں یہ ایک انقلابی اقدام ہے۔  ٭

مزید : کالم