شیخ سر عبدالقادرؒ کی یاد میں

شیخ سر عبدالقادرؒ کی یاد میں

شیخ سرعبدالقادرؒ برصغیر پاک و ہند اور قیام پاکستان کے بعد پاکستان کے عظیم رہنماﺅں میں سے ایک تھے۔ وہ 1874ءمیں لدھیانہ (انڈیا) میں پیدا ہوئے اور 9فروری 1950ءکو رحلت پا گئے .... سرعبدالقادر کی وجہ شہرت ایڈیٹر رسالہ مخزن، ادیب، اردودان، مفکر، سیاست دان، وکیل، چیف جسٹس، وزیرتعلیم اور مسلمانوں کے عظےم قومی رہنما کی تھی۔آپ کا شمار مفکر پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال، مولانا شبلی نعمانی، حفیظ جالندھری، مولانا ظفر علی خان، بابائے اردو مولوی عبدالحق ،سردار عبدالرب نشتر، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا محمد علی جوہر، الطاف حسین حالی، داغ، اکبر الٰہ آبادی، عبدالمجید سالک، سجاد حیدر یلدرم، مولانا حسرت موہانی اور دیگر عظیم مسلمان رہنماﺅں کے انتہائی قریبی دوستوں میں ہوتا تھا۔ آپ ہی وہ واحد ہستی ہیں، جنہوں نے علامہ اقبالؒ کی شہرئہ آفاق کتاب ”بانگ درا“ اور خالقِ ترانہ پاکستان حفیظ جالندھری کے ”شاہنامہ اسلام“ کا دیباچہ لکھا....اردو زبان کے لئے آپ کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ اردو زبان کی ترویج و اشاعت اور آبیاری کے لئے آپ کے رسالہ مخزن کا ذکر کئے بغیر اردو کی تاریخ نامکمل ہے۔ آپ کے زیر سایہ بہت سے عظیم شاعر، ادیب، مصنف، نظم و نثر نگار اور اردو کے بڑے نام منظر عام پر آئے اور آپ نے سب کی سرپرستی فرمائی۔

قیام پاکستان اور تحریک پاکستان کے لئے آپ کی خدمات بھی ناقابل فراموش ہیں۔سرسید احمد خان کے مکتب فکر اور تحریک علی گڑھ کے نامور زعماءمیں آپ کا شمار ہوتا ہے۔ آپ مسلمانوں کو پھلتا پھولتا، تعلیم یافتہ، تہذیب یافتہ، آزاد اور ترقی کرتے ہوئے خوشحال دیکھنا چاہتے تھے۔ اس کے لئے انہوں نے اپنی زبان، کلام، تحریر و تقریر غرض دامے درمے، سخنے ہر لحاظ سے آپ نے کام کیا۔شیخ عبدالقادر ایک بلند پایہ ءادیب، انشاءپرداز اور اخبار نویس تھے، جن کا سب کچھ وطن اور ملت کے لئے وقف تھا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم قصور سے لی، پھر ایف سی کالج سے گریجوایشن کیا۔1906ءمیں انگلستان سے بارایٹ لاءکیا۔ لاہور میں پریکٹس شروع کی۔وہ لاہور ہائیکورٹ کے جج اور بہاولپور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بھی رہے۔ قیام پاکستان سے قبل پنجاب کے وزیر تعلیم بھی رہے۔ اس کے علاوہ بھی کئی اہم سرکاری عہدوں پر فائز رہے۔آپ کا شمار برصغیر کی عظیم ترین شخصیات میں ہوتا تھا۔علامہ اقبال آپ کے ذاتی دوست تھے۔

1901ءمیں آپ نے لاہور سے اردو ادبی رسالہ ”مخزن“ جاری کیا، جو ایک تاریخی حیثیت کا حامل ہے۔ 1927ءمیں اس وقت کی حکومت نے آپ کی خدمات کے اعتراف کے طور پر آپ کو ”سر“ کا خطاب دیا۔آپ نے بہت سارے مضامین کے علاوہ سفرنامہ یورپ اور ترکی کا سفرنامہ ”دربارِ خلافت“ کے نام سے لکھا۔آپ کو سیاحت کا بڑا شوق تھا۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے انگلستان، جرمنی، امریکہ، اٹلی، یورپ اور ترکی کے سفر کئے۔ آپ سیروسیاحت کی غرض سے ترکی بھی تشریف لے گئے۔ استنبول میں خلافت ِ عثمانیہ کے خلیفہ سلطان عبدالحمید ثانی سے بھی ملے۔ترکی کی عظیم ہستیوں کے علاوہ شیخ الاسلام بڑے بڑے پاشاﺅں اور رہنماﺅں سے ملاقاتیں کیں۔ سلطان خلیفہ الوقت شیخ سرعبدالقادر کی شخصیت ،علم دوستی اور قابلیت سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہیں تمغہ ءحمیدیہ بھی عطا فرمایا جو آپ کی خدمات کا ایک بڑا اعتراف بھی تھا۔

ساری زندگی آپ کی یہ خواہش رہی کہ مسلمانانِ برصغیر جاگ اٹھیں۔ان کی قسمت جاگے اور وہ بھی دنیا کی معزز اقوام میں برابر کی جگہ لیں۔ان کے دل میں ملک و قوم کی ترقی، خوشحالی اور فارغ البالی کے لئے بے انتہا تڑپ، امنگ اور جستجو تھی۔وہ ہر وقت یہی سوچتے رہتے تھے کہ کاش میری قوم بھی دنیا کی دیگر اقوام کے مقابلے میں ایک پُروقار اور باعزت قوم کی حیثیت سے کھڑی ہو سکے۔ ہماری تعلیمی ،صنعتی، تجارتی ،تہذیبی و تمدنی ترقی دنیا کی دیگر اقوام کے مقابلے میں ایک قدم آگے ہو۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ آج ہم بحیثیت قوم اپنی نوجوان نسل کو شیخ سر عبدالقادر جیسی عظیم شخصیت کے افکار و نظریات اور قومی خدمات سے روشناس کرانے اور آگاہ کرنے کے لئے اقدامات کریں، تاکہ ہماری نوجوان نسل میں اپنے اسلاف کے بارے میں آگاہی پیدا ہو اور وہ حب الوطنی اور قومی خدمت کے جذبہ سے سرشار ہو سکیں۔ اس سلسلے میں حکومت کو چاہیے کہ سرکاری سرپرستی میں ادارے قائم کرے۔شیخ سر عبدالقادر کے افکار و خیالات پر مبنی آپ کی تحریروں، تقاریر، مضامین سفرنامے اور دیگر نگارشات کو شائع کروائے۔درسی کتب میں آپ کے بارے میں مضامین شامل ہوں۔آپ کی یادداشتوں کے کاغذات سے کئی صندوق بھرے پڑے ہیں۔اس حوالے سے آپ کے خاندان سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔  ٭

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...