گندم کی کاشت بذریعہ ڈرل

گندم کی کاشت بذریعہ ڈرل

پاکستان بنیادی طورپر ایک زرعی ملک ہے اور گندم اس ملک کی اہم غذائی فصل ہے۔ مسلسل بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات کےلئے اس کی پیداوار میں اضافہ ضروری ہے۔ گندم کی پیداوار کےلئے فی ایکڑ پودوں کی تعداد آٹھ لاکھ ہونا ضروری ہے جس کا انحصار دیگر عوامل کے علاوہ شرح بیج، مناسب گہرائی و قطاروں کے درمیانی فاصلہ پر ہے۔ کپاس اور دوسری فصلوں کی برداشت کے بعد روائتی طریقہ کار سے گندم کی بوائی میں تاخیر ہو جاتی ہے جو پیداوار میں کمی کا باعث بنتی ہے۔ اس وقت ہر علاقہ کی مناسبت سے جدید ڈرل مشینوں سے گندم کی بروقت کاشت کا عمل مکمل کیا جاسکتا ہے۔ پچھلے چند سالوں کے تجربات سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ ڈرل مشین سے کاشت کی صورت میں پیداوار کم از کم 15 فیصد زائد ہوتی ہے۔

رنر ٹائپ سیڈ ڈرل خشک تیارکردہ زمین میں گندم کی بوائی کرتی ہے اس مشین کی مدد سے ایک انچ گہرائی تک بیج ڈال کر بعد میں آبپاشی کر دی جاتی ہے۔ڈرل میں لگے ہوئے سہاگہ کی مدد سے بیج کی گہرائی کو مطلوبہ سطح پر رکھا جاسکتا ہے۔ قطاروں کا باہمی فاصلہ کم ہونے کی وجہ سے جڑی بوٹیاں زیادہ نہیں بڑھ پاتیں اور راﺅنی کا کم از کم ایک پانی بھی بچ جاتا ہے۔ کولٹر ٹائپ سیڈ ڈرل سے کپاس، مکئی یا کماد کی برداشت کے بعد اگر ان فصلات کی باقیات کو کھیت میں ملا دیا جائے تو نہ صرف زمین میں نامیاتی مادہ کا اضافہ ہوگا بلکہ کیڑوں کا قلع قمع ہوجاتا ہے۔ زمین میں فصل کی باقیات اور مڈھوں کی موجودگی جیسے مسائل کے حل کےلئے محکمہ زراعت نے ایک مخصوص ”کولٹر ٹائپ سٹبل ڈرل“ تیار کی ہے جو تیار شدہ کھیت میں مڈھوں کی موجودگی میں انتہائی کامیابی سے گندم کی بوائی کرتی ہے۔ بیج کو مناسب گہرائی میں گرانے کےلئے اعلیٰ درجے کے فولاد سے تیار کردہ توے استعمال کےے گئے ہیں جو مڈھوں کو کاٹ کر، دبا کر یا اوپر سے گزر کر بوائی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رکھتے ہیں۔ مشین میں لگے سہاگے کی مدد سے بیج کی گہرائی کو مطلوبہ سطح پر رکھا جاسکتا ہے اور ٹریکٹر ٹائر کی وجہ سے دھنسی ہوئی جگہ پر مزید مٹی ڈال کر کھیت کو ہموار کر دیتا ہے۔ قطاروں کا باہمی فاصلہ کم ہونے کی وجہ سے جڑی بوٹیاں زیادہ بڑھنے نہیں پاتیں۔

زیروٹیلج ڈرل سے ایسے علاقے جہاں پر چاول کی کاشت ہوتی ہے وہاں پر جلد گندم کی کاشت کےلئے زیروٹیلج ڈرل کا استعمال انتہائی ضروری ہے کیونکہ چاول کی برداشت کے بعد اگر زمین کی تیاری کےلئے کھیت کو پانی لگا دیا جائے تو زمین جلد وتر میں نہیں آتی جس سے گندم کی بوائی بہت لیٹ ہوجاتی ہے۔ گندم کی بروقت بوائی کےلئے زیروٹیلج ڈرل استعمال میں لائی جائے تواس سے نہ صرف تیاری کا خرچ کم ہوجاتا ہے بلکہ وقت کی بھی بچت ہوتی ہے کیونکہ پانی لگا کر وتر کرنے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی کھیت میں ہل چلانے کی ضرورت ہے کیونکہ کھیت کو تیار کےے بغیر زیروٹیلج ڈرل کی مدد سے براہ راست کاشت کی جاسکتی ہے جس سے نہ صرف ڈیزل اور پانی کی بچت ہوتی ہے بلکہ وقت اور سرمائے کی بچت بھی ہوتی ہے۔

سیڈ کم فرٹیلائزر بینڈ پلیسمنٹ ڈرل کے استعمال سے موجودہ شفاف کردہ مقدار سے نصف کھاد استعمال کر کے گندم کی پیداوار میں تقریباً 9 فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے اس طرح اس مشین سے گندم کی بوائی کرنے پر کاشتکار وں کو گندم کی اضافی پیداوار کے علاوہ 50 فیصد کھاد کی بھی بچت ہوتی ہے کیونکہ یہ ڈرل کھاد سے بیج دو انچ (5سم)نیچے اور دو انچ (5سم) پہلو میں گراتی ہے اور پودا کھاد کو بہتر طور پر استعمال کرسکتا ہے۔ یہ ڈرل 45 ہارس پاور (33کلوواٹ) ٹریکٹر سے چلائی جاسکتی ہے۔

ڈرل کو ہموار جگہ پر کھڑا کرکے بیج بکس کا 1/4 حصہ بیج سے بھر لیں اور بیج کی اوپر والی سطح برابر کردیں۔ ہر سیڈ ٹیوب کے آگے پلاسٹک کا لفافہ چڑھائیں۔ ڈرل کے پہےے کا محیط معلوم کریں۔ فرض کریں کہ محیط 9.43 فٹ ہے یہ وہ فاصلہ ہے جو ڈرل کا پہیہ ایک چکر میں طے کرے گا۔ ایک ایکڑ میں کل 43560 مربع فٹ ہوتے ہیں۔ فرض کریں ڈرل کی کارآمد چوڑائی (قطاروں کا درمیانی فاصلہ x قطاروں کی تعداد) 10 فٹ ہے تو 43560 کو 10 پر تقسیم کرنے سے وہ فاصلہ آجائے گا جو ڈرل کو ایک ایکڑ کاشت کرنے کےلئے طے کرتا ہے یعنی 4356=10/43560 فٹ۔پہےے کے 462 چکروں یا ایک ایکڑ کاشت کےلئے اگر مطلوبہ شرح بیج 50 کلو گرام ہے تو پہےے کے 20 چکروں کےلئے مطلوبہ مقدار بیج 2.16=20x50/462 کلو گرام ہوگی۔ ڈرل کے پہےے کو اٹھا کر 20چکر دیں۔ تمام لفافوں میں اٹھا کر 20 چکر دیں تمام میں اکٹھا ہونے والے بیج کا وزن کریں۔ اگر یہ وزن 2.16 کلو گرام سے کم یا زیادہ ہو تو ایڈجسٹمنٹ لیور سے بیج کی مقدار کو کم و بیش کریں۔ مندرجہ بالا طریقہ کو دہراتے ہوئے ڈرل کو دوبارہ چیک کریں اور یہ عمل اس وقت تک جاری رکھیں جب تک ڈرل کی ایک ایکڑ میں پہےے کے 20 چکروں سے 2.16 کلو گرام یعنی 50 کلو گرام بیج فی ایکڑ کی مطلوبہ شرح بیج حاصل نہ ہوجائے۔ سیڈ ڈرل کو استعمال سے پہلے تمام گریس نپل کو گریس اور گراری کو تیل دے کر تمام گھومنے والے حصوں کو رواں کریں۔ بیج بکس میں بیج کے مطابق اوپر دئےے گئے طریقہ کار سے کیلی بریشن کریں۔ ڈرل مشین کو ٹریکٹر کے ساتھ جوڑنے کے بعد ٹائپ لنک، سائیڈ لنک اور ہائیڈرالک سسٹم کی مدد سے ڈرل کے فریم کو ہر طرف سے ہموار کریں۔ بوائی سے پہلے بیج کی مطلوبہ گہرائی حاصل کرنے کےلئے مشین میں لگے سہاگہ پلیٹ، پھالہ اور کولٹر/ رنر کو مناسب سطح پر رکھیں۔ بوائی شروع کرتے ہوئے اس بات کی احتیاط کریں کہ پہلے ٹریکٹر چلائیں اور بعد میں ڈرل کو کھیت میں اتار یں تاکہ مٹی کولٹر/ رنر بند نہ کرنے پائے۔ دوران کاشت وقتاً فوقتاً ڈرل روک کر اس بات کا اطمینان کرلیں کہ بیج تمام پور سے صحیح گر رہا ہے اور اس کی گہرائی مناسب ہے۔ (زرعی فیچرسروس، نظامت زرعی اطلاعات پنجاب)  ٭

مزید : اداریہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...