سعودی فنڈ گولن گول ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کیلئے مزید ستاون ملین ڈالر فراہم کریگا

سعودی فنڈ گولن گول ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کیلئے مزید ستاون ملین ڈالر فراہم ...

                                                                                                                                                                            لاہور(کامرس رپورٹر) سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ کے ایک تین رکنی وفد نے چترال کے قریب زیر تعمیر 106میگاواٹ پیداواری صلاحیت کے گولن گول ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کا دورہ کیا۔وفد کی قیادت چیف انجینئر عبداللہ الشعیبی کررہے تھے۔ چیئرمین واپڈا سید راغب عباس شاہ بھی اس موقع پر وفد کے ہمراہ تھے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ گولن گول ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے سول ورکس کے لئے 40ملین ڈالر مہیاکررہا ہے ۔ مذکورہ تناظر میں سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ کا وفد ان دنوں پاکستان کے دورے پر ہے تاکہ گولن گول ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر تعمیراتی کام کا مشاہدہ کیا جائے ۔ سعود ی فنڈنے گولن گول پراجیکٹ کی تکمیل کے لئے 57ملین ڈالراضافی رقم فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے ۔اس حوالے سے مزید بات چیت اگلے ماہ سعود ی دارالحکومت ریاض میں ہوگی جس کے بعد اضافی فنڈز کی فراہمی کے لئے باقاعدہ معاہدے پر دستخط کئے جائیں گے۔وفد نے چیئرمین واپڈا کے ہمراہ ویئر (ڈیم) ، ہیڈ ریس چینل ، سینڈ ٹریپ ، ہیڈ ریس ٹنل ،پریشر ٹنل ، پریشر شافٹ ، سرج چیمبر اور پاور ہاﺅس ایریا کا تفصیلی دورہ کیااور وہاں جاری تعمیراتی سرگرمیوں کا مشاہدہ کیا۔ وفد نے امید ظاہر کی کہ منصوبے کو شیڈول کے مطابق مکمل کر لیاجائے گا۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین واپڈا نے کہا کہ حکومت پاکستان اور واپڈا گولن گول ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے لئے سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ کی جانب سے مہیا کی گئی مالی معاونت کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ منصوبے کی تکمیل کے لئے مذکورہ مالی معاونت میں مزید اضافہ ہوگا۔یہ معاونت موجودہ حکومت کی کوششوں اور پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ اچھے برادرانہ تعلقات کا نتیجہ ہے ۔ قبل ازیں ایک بریفنگ کے دوران پراجیکٹ حکام نے وفد کو بتایا کہ پراجیکٹ کے سول ورکس پر47فیصد کام مکمل ہوچکا ہے منصوبے کی تکمیل اگست 2015ءتک متوقع ہے ۔گولن گول ہائیڈرو پاورپراجیکٹ حکومت پاکستان کی سستی بجلی پیدا کرنے کی ترجیحی حکمت عملی کا حصہ ہے ، منصوبہ چترال کے قریب دریائے مستوج کے معاون دریا گولن گول پر تعمیر کیا جارہا ہے ۔اپنی تکمیل پر یہ منصوبہ قومی نظام کو سالانہ 436ملین یونٹ سستی پن بجلی مہیا کرے گا۔ اس منصوبے کی بدولت ہر سال مہنگی تھرمل بجلی پیدا کرنے کے لئے تیل کی درآمد پر اٹھنے والے 34ملین ڈالر زرِمبادلہ کی بچت ہوگی۔ گولن گول ہائیڈرو پاور پراجیکٹ ملک میں بجلی کی قلت پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا کے پسماندہ علاقوں کی سماجی اور اقتصادی ترقی کے لئے نہایت اہم ہے کیونکہ اس منصوبہ کی بدولت چترال ، دیر اور تیمر گرہ جیسے دور دراز علاقے بجلی کے قومی نظام سے منسلک ہوجائیں گے۔

مزید : کامرس