طرابلس میں تشدد کے واقعات کے بعد فوج تعینات

طرابلس میں تشدد کے واقعات کے بعد فوج تعینات

طرابلس(آن لائن)لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں بدامنی اور تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر فوج کو تعینات کردیا گیا ہے اور فوجی دستوں نے طیارہ شکن توپوں سے لیس گاڑیوں کے ساتھ مسلح جنگجوو¿ں کو شہر سے نکال باہر کرنے کی کارروائی شروع کردی ہے۔ جبکہشہریوں نے دارالحکومت میں مسلح گروپوں کے خلاف فوجی کارروائی کا خیرمقدم کیا ہے۔وزیراعظم علی زیدان کی نگرانی میں قائم سکیورٹی ادارے ''جائنٹ آپریشن روم'' کے ترجمان اعصام النعاس نے میڈیا کو بتایا ہے کہ فوج کی تعیناتی کے بعد مصراتہ سے تعلق رکھنے والے جنگجوو¿ں نے طرابلس کے چارعلاقوں کو خالی کردیا ہے اور وہ اپنے شہر کی جانب چلے گئے ہیں۔شہر کے علاقے وادی الربیع میں مصراتہ سے تعلق رکھنے والے جنگجوو¿ں اور مقامی جنگجوو¿ں کے درمیان وقفے وقفے سے فائرنگ کی اطلاعات ملی ہیں۔موخرالذکر مسلح گروہ مصراتی جنگجوو¿ں سے انخلائ سے قبل ہتھیار پھینکنے کا مطالبہ کررہا تھا۔تاہم جھڑپ میں فوری طور پر کسی کی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔طرابلس میں گذشتہ چار روز سے مغربی ساحلی شہر مصراتہ سے تعلق رکھنے والے جنگجوو¿ں اور ان کے متحارب مقامی گروپوں کے درمیان جھڑپوں کے بعد فوج کو تعینات کیا گیا ہے۔ان کے درمیان جمعہ کے بعد سے خونریز جھڑپوں میں کم سے کم پچاس افراد ہلاک اورساڑھے چار سو سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے ساتھ وابستہ ایک محقق حنان صلاح کا کہنا ہے کہ ''ان حالیہ جھڑپوں سے گذشتہ دوسال سے کسی احتساب سے آزاد ملیشیاو¿ں کی سفاکانہ کارروائیوں اور حکومت کی انھیں کنٹرول کرنے کی عدم صلاحیت کا اظہار ہوتا ہے۔

'

درایں اثنائ مشرقی شہر بن غازی میں ایک سینیّر فوجی افسر بم حملے میں بال بال بچ گئے ہیں۔شہر میں سکیورٹی فورسز کے ترجمان کرنل عبداللہ الزیدی نے بتایا ہے کہ ''جائنٹ سکیورٹی روم کے سربراہ اور بن غازی کے فوجی گورنر عبداللہ السعطی کے موٹر کیڈ پر الحادق کے علاقے میں بم حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں ان کے قافلے میں شامل ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔واضح رہے کہ لیبیا کے اس دوسرے بڑے شہر میں بھی طوائف الملوکی کا دور دورہ ہے اور مسلح جنگجو آئے دن سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر حملے کرتے رہتے ہیں۔

مزید : عالمی منظر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...