اسرائیل کے ساتھ اپنی مقررہ مدت تک مذاکرات جاری رکھیں گے‘ محمود عباس

اسرائیل کے ساتھ اپنی مقررہ مدت تک مذاکرات جاری رکھیں گے‘ محمود عباس

غزہ(این این آئی) فلسطینی صدر محمود عباس نے اپنے فرانسیسی ہم منصب سے ملاقات میں ایک مرتبہ پھر اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے امریکا کے کہنے پر آزمائشی طور پر نوماہ کےلئے امن مذاکرات کا عمل شروع کیا ہے۔ ہم اسے اپنی مقررہ مدت تک جاری رکھیں گے۔ اس دوران زمینی حالات میں کیا تبدیلی واقع ہوتی ہے۔ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں اسرائیل کی یہودی بستیوں کا کیا عالم ہے ہم اس کی پرواہ کئے بغیر امن عمل جاری رکھیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے فرانسیسی ہم منصب سے ملاقات کے دوران کیا جنہوں نے رام اللہ میں فلسطینی اتھارٹی کے ہیڈ کواٹر کا دورہ کیا- فرانسیسی صدر اتوار کو اسرائیل کے تین روزہ دورے پر تل ابیب پہنچے تھے جہاں انہوں نے پہلے اسرائیلی حکام سے مذاکرات کئے۔

 اور صدر محمود عباس سے بھی ملاقات کی۔ صدر عباس نے کہا کہ اسرائیل سے مذاکرات کرنے والی ٹیم نے استعفے پیش کئے ہیں لیکن ابھی تک ان کے استعفے قبول یا مسترد کئے جانے کاکوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرانسیسی صدر فرانسو اولانڈ نے مقبوضہ فلسطینی شہروں میں یہودی کالونیوں میں توسیع کی مذمت کی۔ انہوں نے ان کالونیوں کو غیرقانونی اور غیرآئینی قرار دیتے ہوئے ان پرفوری پابندی کا مطالبہ کیا۔قبل ازیں فلسطینی اتھارٹی اور فرانسیسی صدر کے درمیان اقتصادی تعاون اور فلسطین میں انفراسٹرکچرکی بحالی کے چھ معاہدوں پربھی دستخط ہوئے۔فلسطینی صدر کے یہودی آبادی کے بارے میں موقف پر مرکزاطلاعات فلسطین سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیربرائے اسیران وصفی قبہا نے کہا کہ صدر عباس نے امریکا کو یہ یقین دہانی کرا رکھی ہے کہ وہ آئندہ یہودی کالونیوں کی توسیع کا معاملہ اقوام متحدہ یا کسی بھی دوسرے عالمی ادارے میں لے کر نہیں جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل بھی پوری ڈھٹائی کے ساتھ مقبوضہ شہروں میں یہودیوں کے لئے ہزاروں مکانات کی تعمیر جاری رکھے ہوئے ہے۔

مزید : عالمی منظر