مصری فوج کے سربراہ صدارتی انتخاب میں حصہ نہ لیں، مرسی مخالف رہنما

مصری فوج کے سربراہ صدارتی انتخاب میں حصہ نہ لیں، مرسی مخالف رہنما

قاہرہ(آن لائن)مصر کے ایک اسلام پسند رہنما عبدالمنعم ابوالفتاح نے مصری فوج کے سربراہ اور وزیر دفاع جنرل عبدالفتاح السیسی پر زور دیا ہے کہ انہیں اگلے سال متوقع صدارتی انتخاب کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ اسلام پسند رہنما کے مطابق جنرل سیسی نے ایسا کیا تو اس سے جمہوریت کا راستہ رک جائے گا۔معزول صدر کے خلاف عوامی احتجاج کا حصہ رہنے والے عبدالمومن ابوالفتاح نے ان خیالات کا اظہار ایک عالمی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اگر جنرل عبدالفتاح صدارتی منصب کیلیے نامزد کیے گئے تو اس سے میڈیا کی سطح پر ایک خطرناک مہم شروع ہو جائے گی ، فوج کا کردار جنرل سیسی کو بچانے والی کا ہو گا اور ہم کبھی جمہوریت کی طرف نہیں جا سکیں گے۔اخوان المسلمون کے سب سے مخالف اسلام پسند رہنما 62 سالہ عبدالمنعم ابوالفتاح جو حسنی مبارک کے دور میں پانچ سال تک جیل کاٹ چکے ہیں کا اخوان المسلموں کے بارے میں بھی کہنا ہے کہ '' اخوان سیاسی اعتبار سے ایک ناکام تنظیم ہے اور اس کا مستقبل کے حوالے سے کوئی ویڑن نہیں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا '' اخوان فوجی بغاوت کو نہ روک سکی اور بغاوت کرنے والے اخوان کو کچلنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے، ہم ایک طرح سے زیرو والی گیم میں ہیں۔تاہم انہوں نے اس چیز کا اعتراف کیا کہ سیسی کی حمایت سے سکیورٹی اداروں کے جبر نے اخوان کے کارکنوں کو باہم جوڑ دیا ہے، جیسا کہ ظلم اور جبر نظریاتی گروپوں کو مضبوط کرنے کا ذریعہ بنتا ہے اس لیے اس سمت میں کیے جانے والے اقدامات کا نتیجہ توقع کے برعکس نکل آتا ہے۔عبدالمنعم ابوالفتاح نے کہا '' میرے خیال میں سیسی کی قیادت میں فوج نے مرسی کیخلاف ایک عوامی تحریک پر پیشگی وار کر دیا ہے، اگر فوج اس معاملے کو سیاست تک رہنے دیتی تو ہم اخوان کو گرا سکتے تھے اس کا بہترین راستہ ایک منصفانہ انتخا ب ہو سکتا تھا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا وہ ان لوگوں سے اتفاق نہیں کرتے جو یہ سمجھتے ہیں اسلامی تحریک ختم ہو گئی ہے بلکہ ان کی رائے یہ ہے کہ اسلامی تحریک کی سیاست دوبارہ آ سکتی ہے، یہ تو ہو سکتا ہے کہ وہ انتخاب نہ جیت سکے البتہ ایک سیاسی قوت اور متبادل کے طور پر موجود رہے گی۔

مزید : عالمی منظر