اولمپک ایسوسی ایشن کے دفتر پر قبضہ قانونی اور عدالتی فیصلے کے مطابق تھا

اولمپک ایسوسی ایشن کے دفتر پر قبضہ قانونی اور عدالتی فیصلے کے مطابق تھا ...

                                                                                                                                                                                    پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل جسٹس (ر) خواجہ فاروق سعید نے اپنے وکیل بیرسٹر ڈاکٹر افضل جاوید کے ذریعے قومی اخبارات کو قانونی نوٹس ارسال کیا ہے جس میں 3ستمبر2013ء کو روزنامہ پاکستان سمیت دیگرقومی اخبارات میں شائع ہونے والی خبر کو بے بنیاد اور بے جا الزام تراشی پر مبنی قرار دیا گیا ہے۔ ارسال کردہ نوٹس میں قانون دان نے تحریر کیا ہے کہ 3ستمبر2013ءکی اشاعت میں آپ نے جو خبر شائع کی جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ میرے موکل نے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے دفتر پر غیرقانونی قبضہ کیا ہے تصویر سمیت یہ بے بنیاد خبر شائع کرکے میرے موکل کی ساکھ کو نقصان پہنچایا گیا۔ خبر کے مندرجات میں ایف آئی اے کے اندراج کے حوالے سے بھی من گھڑت اور غلط اطلاع بغیر تصدیق کے شائع کی گئی خبر میں شائع کئے جانے والے الفاظ اور جملے توہین اور ہتک آمیز ہیں جس نے میرے موکل کی ساکھ کو نقصان پہنچایا اور ”پاکستان “ جیسے کثیر الاشاعت اخبار میں خبر کی اشاعت سے جسٹس (ر) خواجہ فاروق سعید کی شخصیت اور کاروبار بری طرح متاثر ہوا ۔نوٹس میں کہا گیا ہے کہ بطور ایڈیٹر ، پرنٹر ،پبلشر آپ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہرقسم کے مواد کی اشاعت سے پہلے حقائق کی درست انداز میں تصدیق کریں تاکہ اسلام ہرمہذب معاشرے اور آئین پاکستان میں ہرشہری کو دیئے گئے بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری ہوسکے۔ اسی حوالے سے ہماری عدالتیں بھی بارہا ہدایت کرچکی ہیں کہ اس قسم کے واقعات کو کم کرنے کے لئے زرد صحافت کی حوصلہ شکنی کو یقینی بنایا جائے۔ اس جھوٹی خبر کی اشاعت سے ایک اعلیٰ منصب پر فائز رہ کر ریٹائر ہونے والے شخص کو عوام کی نگاہ میں گرانے کی کوشش کے ساتھ ساتھ پوزیشن خراب کرنے کی سعی کی گئی، نوٹس کے مندرجات میں مزید تحریر کیا گیا ہے کہ خبر کے مندرجات میں سپریم کورٹ کے فیصلے مورخہ 8مئی 2012ءاور اسی طرح لاہور ہائیکورٹ کے 23اکتوبر 2012ءکے فیصلے کی خلاف ورزی کی گئی ہے اور پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے بارے میں حقائق کو مسخ کرکے خبر شائع کی گئی جو نہ صرف غیرقانونی بلکہ توہین عدالت کے زمرے میں بھی آتی ہے ، حمید نظامی روڈ (ٹمپل روڈ) پر واقع اولمپک ہاﺅس پر دوبارہ قبضہ دراصل ایک قانونی پرامن اقدام تھا جوکہ قبضے کی منتقلی کا مرحلہ تھا اور اس موقع پر کسی قسم کا ناخوش گوار واقعہ رونما نہیں ہوا۔ اس خبر کے ذریعے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کی معاملات کے بارے میں آئی اوسی اور اوسی اے کو بھی گمراہ کیا گیا۔ جس سے پاکستان کی فاضل عدالتوں کے واضح فیصلوں پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا بیرسٹر ڈاکٹر افضل جاوید کی جانب سے بھجوائے گئے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ نوٹس وصولی کے 14روز کے اندر اخبار میں اس حوالے سے معذرت شائع کی جائے تاکہ میرے موکل کی ساکھ شخصیت اور کاروبار کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ ہوسکے۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...