”عامر عزیز کا شکریہ“

”عامر عزیز کا شکریہ“
”عامر عزیز کا شکریہ“

 پاکستان اور پاکستانیوں کو برا کہنے والوں کی کمی تو نہیں اور جب ہم اپنے ارد گرد مسائل کے انبار دیکھتے ہیں تو برا بھلا کہنے کو جواز بھی مل جاتاہے۔ حکمران مسائل حل اور انتخابی وعدے پورے کرنے کی سنجیدہ کوشش ہی نہیں کرتے، آج سے پہلے میرے جرنیل سرحدوں سے زیادہ اسلام آباد رہنے میں زیادہ دلچسپی لیتے رہے، میرے صنعت کار بجلی ، گیس ، پانی اور ٹیکسوں سمیت ہر وہ شے چوری کرتے ہیں جو وہ کر سکتے ہیں۔ سرکاری ملازمین اپنے کام سے زیادہ کرپشن کرتے ہیں۔ این جی اوز ایسے فراڈ کی پہچان بن چکی ہیں جو مال اور شہرت کمانے کے لئے کیا جاتا ہے، گویا آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے تو ایسے میں برادر توفیق بٹ کی وجہ سے دنیا کے بہترین آرتھوپیڈک سرجنوں میں سے ایک ڈاکٹر عامر عزیز سے فون پر بات ہوئی، گھرکی ٹرسٹ ہسپتال وزٹ کرنے کی دعوت ملی ، خیال تو یہی تھا کہ پبلک ریلینشنگ کے نام پر چھٹی کی دوپہر ضائع ہو گی مگر وہاں پہنچ کے اندازہ ہوا کہ بطور صحافی کسی بھی دوپہر کا اس سے بہتر استعمال ہو ہی نہیں سکتا تھا، پروفیسر ڈاکٹر عامر عزیز کا شکریہ کہ انہوں نے پاکستانیوں پر میرے یقین کو بڑھا دیا۔ ارد گرد بکھرے بدکردار لوگوں کی بدبو نے جینا حرام کر رکھا تھا مگر گھرکی ہسپتال میں کھلنے والے گلابوں نے تازگی اورمہک کا احساس دیا ہے۔۔۔ مجھے یقین ہے کہ ایسے پھول جا بجا کھلے ہوئے ہیں ۔

پروفیسر ڈاکٹر عامر عزیز کیا ہیں، بظاہر تو عام سے مولوی لگتے ہیںمگرکہتے ہیںکہ دنیا کے تیسرے مانے ہوئے آرتھوپیڈک سرجن ہیں، افغانستان پر حملے کے بعد پاکستان، امریکہ کا اتحادی بنا تو عامر عزیز یہ کہتے ہوئے مستعفی ہوگئے کہ مسلمانوں کے خلاف کافروں کی حلیف حکومت کی نوکری نہیں کر سکتے۔ میرے جیسے منطقی بندوں کے نزدیک سرکار ی نوکری کے نام پر بادشاہی چھوڑ دینا شائد عقل سے عاری، جذباتی اور پاگلانہ سی بات ہو مگرمعجزے اورکرشمے عقل اور منطق کے محتاج نہیںہوتے ۔ ہمارے عام مولوی عام طور پر جو کرشمے دکھاتے ہیں وہ راولپنڈی کے سانحے جیسے ہی ہوتے ہیں، کئی تو ایسے ہیں جو خودکش حملہ آور تیار کرتے اور لوگوں کی بوٹی بوٹی الگ کردیتے ہیں، یہ عامر عزیز نامی مولوی تو لاہور کی شہری حدود سے باہر ان سے بہت مختلف نوعیت کا کرشمہ کر کے دکھا رہا ہے، یہ ہڈیاں توڑتا نہیں، جوڑتا ہے۔ میں نے جمع تفریق کی تو اندازہ ہوا کہ عامر عزیز ہڈیاں جوڑنے میں ہڈیاں توڑنے والوں سے بہت آگے ہیں، وہ مولوی ہرسال اتنی ہڈیاں توڑتے نہیں جتنی یہ مولوی صاحب جوڑ دیتے ہیں، کچھ ایسے ہیں جو زخم دیتے ہیں اور یہ برسوں سے بہتے زخموں سے پیپ نکال رہے ہیں۔ ہاں ! کچھ ایسے ہیں جوبوڑھوں کے جوان بیٹوں کو مار کے ان کی کمر توڑ دیتے ہیں او ریہ ایسا مولوی ہے جوٹیڑھی اور بوڑھی کمروں کی تکلیف دو ر کر دیتا ہے۔ کچھ ایسی جیکٹیں بناتے ہیں جو زندگی لیتی ہیں مگر ان کی پہنائی جیکٹیں زندگی کو زندگی بنا دیتی ہیں۔میں نے عامر عزیز کی طرف دیکھا تو مجھے وہ مسیح علیہ السلام یاد آ گئے جو کوڑھیوں کو ٹھیک کر دیتے تھے، یہ کام تو پیغمبرانہ ہے جو وہ غریبوں کے علاقے میں بیٹھ کے کر رہے ہیں، میرے نبی نے بھی تو غریبوں کا ساتھ ہی مانگا تھااور ہمیں ایسے ہی مولویوں کی ضرورت ہے ۔ پنجاب حکومت کی طرف سے ڈاکٹر عامر عزیز کو دعوت دی گئی تھی کہ وہ گھرکی ہسپتال چھوڑ کے آجائیں، انہیں ایکسپو سنٹر جوہر ٹاو¿ن کے پاس جدید ترین آرتھوپیڈک اینڈسپائن سنٹر کے لئے جتنی زمین درکار ہو گی، دے دی جائے گی۔ ڈاکٹر عامر عزیز نے جواب دیا کہ وہ جہاں غریبوں ، مسکینوں کے علاقے میں کام کر رہے ہیں وہاں خوش ہیں۔ اگر آپ مجھ جیسے دو جمع دو کرنے والے دنیا داروں سے پوچھیں گے تو انہیں یہ فیصلہ بھی غلط ہی لگے گا۔۔۔!

دلچسپ بریفنگ تھی جو ڈاکٹر عامر عزیز نے دی، وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سابق حکومت کو خط لکھا کہ شوکت عزیز کے دور میں آنے والی درجنوں بلٹ پروف گاڑیوں میں سے دو فروخت کر دی جائیں تو غریبوں کے ہسپتال میں آپریشن تھیٹر بن سکتے ہیں، انہیں ایمبولینسیں مل سکتی ہیں اس خط کا جواب ہی نہیں ملا۔ خیر جواب تو اس خط کا بھی نہیںملا جو انہوں نے ہمارے فوجی حکام کو لکھا کہ واہگہ بارڈر پر گھرکی ٹرسٹ ہسپتال پاکستان کے فوجیوں کا ”فرسٹ ڈیفنس“ بن سکتا ہے۔ فیصلہ ساز وں کو کسی نخریلی حسینہ کی طرح ہر خط کا جواب نہیں دینا چاہئے ورنہ لوگ فری ہو جاتے ہیں۔ وہ فائلیں بھی تو گم ہو چکی ہیں جن میں وفاقی حکومت نے جلو موڑجیسے علاقے میں ہسپتال کی خدمات کو سراہتے ہوئے امداد دینے کا اعلان کیا تھا۔ وفاقی حکومت کی امدا دکے بغیر ہی انہوں نے تیس کروڑ روپوں کی لاگت سے سٹیٹ آف دی آرٹ پانچ آپریشن تھیٹر، وارڈز اور جدید امپورٹڈ سٹیرئیلائزیشن پلانٹ لگا لئے ہیں، وہ بتاتے ہیں کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے ضرورسرکاری خزانے سے اڑھائی کروڑ دان کئے۔ کہتے ہیں کہ ان کے پاس بہت سارے مریض وہ آتے ہیں جنہیں دوسرے ہسپتالوں میں پیٹی بھراو¿ں نے خراب کیا ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنے ہسپتال کی ایک ڈسچارج سلپ بھی دکھائی جس میںعلاج سے پہلے اور بعد کی صورتحال باقاعدہ ایکسرے کی تصویری صورت میںموجود تھی۔ انہوں نے کہاکہ یہ ڈسچارج سلپ معالج کے کام کی گواہی اور مستقبل میں مریض کی معاون ہوتی ہے، انہوںنے تمام ہسپتالوں کو خطوط لکھے کہ ردی قسم کی ڈسچارج سلپوں کو ختم کر دیا جائے مگر ان کے یہ خطوط بھی ردی کی ٹوکری میں چلے گئے۔

مجھے تو ان کی طرف سے سالانہ ساڑھے پانچ ہزار آپریشن کرنے کے اعداد وشمار بھی حیرت انگیز لگے، میں لاہور کے ٹیچنگ ہسپتالوں میں سرجری کی استعداد بارے بہت اچھی طرح جانتا ہوں، اگر پی آئی سی، میو اور جنرل وغیرہ میں ہر سرجن کم از کم دو آپریشن روزانہ کرے توسرکاری شعبے میں آپریشنوں کی تعدادتین سے پانچ گنا تک بڑھائی جا سکتی ہے۔ ہمارے ہاں تو پروفیسر ہونا سرکار کاکام نہ کرنے کی سند ہے ، یہ تو وہ لوگ ہیں جو وارڈز کا وزٹ کرنے تک کی زحمت نہیں کرتے۔ ایک بڑے نام کے بارے مجھے بتایا گیا کہ وہ دل کے امراض کے سرکاری ہسپتال سے ایک پوش کمیونٹی میں مریض سمگل کرنے کاکام کرتے ہیں اور دوسری طرف پروفیسر ڈاکٹر عامر عزیز ہیں جو کہتے ہیں کہ جلو موڑ پر آرتھوپیڈک سرجری کا کام کرتے ہوئے کسی مریض سے کچھ نہیں لیتے ، پرائیویٹ پیشنٹ کے طو ر پر رجسٹرڈ مریضوںکی ادا شدہ رقم وارڈ کے اکاو¿نٹ میںچلی جاتی ہے اور اپنی گزر بسر وہ لاہور کے ایک اور معروف نجی ہسپتال میں کام کر کے کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ گھومتے پھرتے یہ انکشاف بھی ہوا کہ گھرکی ہسپتال میں ہڈیوں کے آپریشن میںضرورت پر استعمال ہونے والی کوئی شے ( نام یاد نہیں رہا) مارکیٹ میں پونے دولاکھ کی ملتی ہے مگر گھرکی ٹرسٹ ہسپتال میں اسے سوا لاکھ روپے میں فراہم کیا جاتا ہے کیونکہ وہاں ڈاکٹروں نے متعلقہ کمپنیوں کو یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ ان سے فارن ٹرپ کی مفت ٹکٹیں نہیں لیں گے۔

لاہور وہ شہر ہے جس میں حکمران خاندان شریف میڈیکل ٹرسٹ کے ذریعے خیراتی ہسپتال چلا رہا ہے تو اپوزیشن کے رہنما عمران خان کا شوکت خانم ہسپتال بھی اپنی مثال آپ ہے، اب گھرکی خاندان کی طرف سے ان کے ہسپتال میں ملک بھر کا بہترین، سٹیٹ آف دی آرٹ آرتھوپیڈک اینڈ سپائن سنٹر قائم ہونا بھی غریبوں کے لئے نعمت سے کم نہیں مگر یہ بات بہرحال طے ہے کہ اس عظیم الشان کام میں مخیر لوگوں کا تعاون از حد ضروری ہے، جہاں تیس کروڑ لگ چکے،وہاں مزید بیس کروڑ کی ضرورت ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک ارب روپوں سے انڈوومنٹ فنڈ قائم کرنا چاہتے ہیں تاکہ ہڈیاں تڑوانے کے بعد ریڑھوں ، رکشوں اور ٹرالیوں جیسی سواریوںمیں آنے والوں کو بھی علاج کی بہترین سہولتیں ملتی رہیں۔ میں نے جانا کہ عامر عزیز تنہا نہیں، کوئی وہ شخص بھی ہے جس نے ساڑھے پانچ کروڑ سے آپریشن تھیٹر مکمل کروائے مگر نام ظاہر کرنے سے منع کر دیا، لاہور کی معروف بیکری اور کیٹرنگ سروس گورمے کی طرف سے تمام مریضوں کو ناشتہ اور کھانا مفت فراہم کیا جاتا ہے تو مجھے یقین ہو گیا کہ ایسے پاکستانیوں کی موجودگی میں ایک ارب روپے کی ” حقیر“ رقم جمع ہونابھی کوئی بڑا مسئلہ نہیں ۔۔۔ہم آپریشن تھیٹر نہیںبنوا سکتے تو کیا ہوا، عامر عزیز کی آواز آگے بڑھا کے بھی صدقہ جاریہ میں حصے دار بن سکتے ہیں !!!

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...