بھٹہ مزدوروں کا چھ دہائیوں سے استحصال ہو رہا ہے،بابا عبدالطیف

بھٹہ مزدوروں کا چھ دہائیوں سے استحصال ہو رہا ہے،بابا عبدالطیف

فیصل آباد(بیورورپورٹ)ہزاروں بھٹہ مزدور بشمول خواتین اور بچے 22نومبر کو اس عزم کے ساتھ سڑکوں پر نکلیں گے کہ اپنے حقوق لئے بغیر گھروں کو واپس نہیں لوٹیں گے وزیر اعلی ہاﺅس تک پہنچ کر دھرنا دیا جائیگا مرکزی دفتر لیبر قومی موومنٹ غلام محمد آباد میںڈویژن بھر کے بھٹہ مزدور نمائندوں کے اجلاس میں مزدور نمائندوں نے بتایا کہ احتجاجی مارچ کی تیاریاں ڈویژن بھر میں مکمل ہو چکی ہیں مزدوروں نے سفری اخراجات اور کھانے پینے کی اشیاءجمع کر لی ہیں اور اپنی سیکورٹی کے انتظامات بھی مکمل کر لئے ہیںباباا عبدالطیف انصاری‘ اسلم معراج‘پروین لطیف‘ رانی بی بی‘ فیضان مائی‘ عائشہ اصغر نے کہا کہ بھٹہ مزدوروں کا گذشتہ چھ دہائیوں سے مسلسل استحصال ہو رہا ہے بھٹوں پر ملکی و بین الاقوامی لیبر قوانین کی بری طرح دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں بھٹہ مالکان کسی صورت ان کے حقوق دینے کیلئے تیار نہیں اور پنجاب حکومت بھٹوں پر قوانین اور اپنی جاری کردہ پالیسیوں پر عملدرآمد کرانے میںمکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے قانون کے مطابق ہر ضلع کا ڈی سی او گذٹ نوٹیفکیشن پر عملدرآمد کرانے کا پابند ہے مگر ان کی عدم دلچسپی کی وجہ سے گذٹ کے مطابق فی ہزار اینٹ 740/-روپے مزدوری نہیں دی جا رہی اور بھٹہ مالکان نام نہاد پیشگی کی آڑ میں مزدوروں سے جبری مشقت لی جا رہی ہے اور محکمہ لیبر کے کرپٹ اور راشی آفیسر مجرمانہ غفلت کیساتھ مزدوروں کے استحصال میں برابر کے شریک ہیں 22نومبر کو ٹوبہ‘ جھنگ‘ کمالیہ‘ چنیوٹ‘ پیر محل‘شورکوٹ اور گوجرہ ‘فیصل آباد سے ہزاروں مزدور بشمول خواتین اور بچے اپنے اپنے اضلاع سے ریلیوں کی شکل میں نکلیں گے اور دن دس بجے دھوبی گھاٹ پہنچ کر ایک بڑے جلوس کی شکل میں وزیر اعلی ہاﺅس لاہور کی جانب پیدل مارچ کریں گے اور وزیر اعلی ہاﺅس کے سامنے احتجاجی دھرنا دیں گے جو مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا جلوس کی قیادت سماجی رہنما ڈاکٹر فرزانہ باری‘اسلم معراج اور بابا عبدالطیف انصاری کریں گے

مزید : علاقائی