’امریکہ نے پاکستان کو طالبان سے مذاکرات کے دوران ڈرون حملے نہ کرنے کی یقینی دہانی کرادی‘

’امریکہ نے پاکستان کو طالبان سے مذاکرات کے دوران ڈرون حملے نہ کرنے کی یقینی ...

پاکستان معاہدے کے تحت امریکہ اور نیٹو افواج کے دفاعی سازوسامان کی واپسی کو نہیں روک سکتا

’امریکہ نے پاکستان کو طالبان سے مذاکرات کے دوران ڈرون حملے نہ کرنے کی یقینی دہانی کرادی‘

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ نے طالبان سے مذاکرات کے دوران پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے نہ کرنے کی یقین دہانی کرادی ہے ۔یہ دعویٰ وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کے حاجی عدیل کے زیرصدارت ہونیوالے اجلاس میں کیا۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز کاکہناتھاکہ ڈرون حملوں سے متعلق کسی بھی امریکی وضاحت کو مستردکردیا، امریکہ سے کہاتھاکہ مذاکراتی عمل کے دوران طالبان کو نشانہ نہ بنایاجائے ، حکیم اللہ محسود امریکہ کا ہائی ویلیوٹارگٹ تھا اور امریکہ نے بتایاکہ اُنہوں نے ریڈار پر موجود ٹارگٹ کو نشانہ بنایا۔

بی بی سی کے مطابق سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان سٹیرجیک مذاکرات اگلے سال مارچ میں ہو رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان معاہدے کے تحت امریکہ اور نیٹو افواج کے دفاعی سازوسامان کی واپسی کو نہیں روک سکتا۔انھوں نے کہا کہ پاکستان کو نیٹو افواج کی سپلائی کے لیے جانے والے فی ٹرک کے ڈھائی سو ڈالر بھی نہیں مل رہے۔ پاکستان کے راستے نیٹو کی سپلائی کے لیے فی ٹرک 1100 سے 1200 امریکی ڈالر لگانے کی تجویز دی گئی تھی جو قابل عمل نہیں ہے۔

سرتاج عزیزکاکہناتھاکہ حکیم اللہ محسود کوتین نام بھجوائے تھے جن میں سے دوکی جگہ حکیم اللہ نے اپنے نام دیئے ، طالبان قیادت سے تین رکنی وفد ملنے والاتھاکہ حملہ ہوگیاجس کے بعد مذاکراتی عمل رک گیاہے ، اب امریکہ نے مذاکراتی عمل کے دوران طالبان کو نشانہ نہ بنانے کی یقین دہانی کرادی ہے تاہم اُنہوں نے یہ واضح نہیں کیاکہ یقین دہانی کس سطح پر کس نے کرائی۔اُنہوں نے بتایاکہ رواں ماہ کے آخر میں وزیراعظم نواز شریف کابل جائیں گے ۔مشیرخارجہ نے کمیٹی کو بتایاکہ امریکہ سے عافیہ صدیقی کی رہائی کا معاملہ اُٹھایا، شکیل آفریدی سے متعلق امریکی خدشات دورکیے اور واضح کیاکہ شکیل آفریدی کو وکیل اور قانونی معاونت فراہم کی گئی،امریکہ کیساتھ بداعتمادی کی فضاءختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔اُنہوں نے بتایاکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 80سے 90بلین ڈالر کا نقصان ہواجبکہ امریکہ نے 10سال کے دوران 10بلین ڈالر دیئے تاہم دیامیر بھاشاڈیم کے لیے 20کروڑ ڈالر دینے کا وعدہ کیاہے۔

مزید : قومی /Headlines