عورت اور غربت

عورت اور غربت
عورت اور غربت

  

پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایک ارب سے زیادہ لوگ غربت کی ناقابل قبول حالت میں رہتے ہیں ۔ اور ان میں اکثریت عورتوں کی ہے ۔ سمجھ میں آجانے والی وجوہات کے علاوہ بھی غربت کی وجہیں ہیں ۔ غربت ایک پیچیدہ اور کثیرالجہتی مسئلہ ہے۔ یہ قومی اور عالمی بطن سے بیک وقت جنم لیتی ہے ۔ ایک طرف تو دنیا بھر کی معیشتوں کی گلوبلائزیشن ہو چکی ہے ۔ اور دوسری جانب مختلف اقوام کا باہمی انحصار اور اثر و رسوخ اتنا بڑھ چکا ہے کہ پائیدار تعمیر و ترقی بیک وقت خطرات اور ممکنات کے درمیان کھڑی ہے ۔ دنیا بھر کا اقتصادی ماحول غیر یقینی کا شکار ہے جس کی تنظیم نو کی اشد ضرورت ہے ۔ کچھ ممالک تو اپنا قرض چکانے کی ہمت بھی کھو چکے ہیں ۔ مزید برآں تمام اقسام کے تنازعات، لوگوں کی نقل مکانی، ماحولیاتی آلودگی سمیت آبادیوں کی بنیادی ضروریات جیسے معاملات نے بھی حکومتوں کی انتظامی صلاحیتوں کو مجروح کرکے رکھ دیا ہے ۔

عالمی معیشت میں آنے والی گھمیر تبدیلیوں کی بدولت تمام ممالک میں سماجی ترقی کے پیرامیٹرز تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں اور "خواتین کی غربت" ان میں سے سب سے اہم رجحان ہے ۔ جس کا مشاہدہ ہم مختلف علاقوں اور خطوں میں کر سکتے ہیں ۔ اقتصادی شراکت اقتدار میں صنفی تفاوت کا عنصر بھی خواتین کی غربت میں اہم کردار ادا کر رھا ہے ۔ مائیگریشن اور خاندانی ڈھانچے میں آتی تبدیلیوں کی وجوہ کی بنا پرخواتین اضافی بوجھ تلے دبتی چلی جا رہی ہیں ۔ ایسے رجحانات سے نمٹنے کے لئے میکرو اکنامک پالیسیوں پر از سر نو غور و فکر اور نئے فارمولے ڈھونڈنے کی ضرورت ہے ۔ کیونکہ یہ پالیسیاں رسمی شعبے پہ تقریباً خصوصی طور پر توجہ مرکوز کئے ہوتی ہیں اور انہی کی وجہ سے خواتین کی بہبود پہ اْٹھنے والا ہر قدم رکاوٹ کا شکار ہو جاتا ہے ۔ اور اسی کی وجہ سے مرد اور عورت کے تفرقی اثر کو جانچنے میں ناکامی ہوتی ہے ۔

غربت میں کمی لانے کی حکمت عملی طے کرنے کے لئے اشد ضروری ہے کہ تجزیہ جنس کا اطلاق تمام پالیسیوں اور پروگراموں پر ہو۔ غربت کے خاتمے اور پائیدار ترقی کے حصول کے لئے عورتوں اور مردوں کی میکرو اکنامک سماجی پالیسیوں اور غربت کے خاتمے کی حکمت عملی تشکیل دینے کے لیئے یکساں اور بھرپور شرکت ضروری ہے ۔ غربت کا خاتمہ صرف اکیلے غربت مکاؤ پروگراموں کے ذریعے ممکن نہیں ہے بلکہ اقتصادی ڈھانچے میں تبدیلیاں لاتے ہوئے خواتین کی جمہوری شرکت کو یقینی بنانے کی اشد ضرورت ہے ، جہاں ان کو تمام وسائل، مواقع اور عوامی خدمات کی رسائی بھی ممکن ہو۔

غربت کی بے پناہ توضیحات و تجلیات ہیں ۔

آمدنی کم ہوتی ہے ۔ پیداواری وسائل سمٹ جاتے ہیں ۔ کوئی پائیدار ذریعہ معاش باقی نہیں بچتا۔ بھوک کا دور دورہ ہوتا ہے ۔ غذائی قلت معصوم انسانی جانوں کو ان دیکھے عذاب مسلسل سے دوچار رکھتی ہے ۔ خراب صحت ایک علامت مسلسل بن جاتی ہے۔ پھر غربت تعلیم تک عدم رسائی یا پھر محدود تعلیم کی ہی وجہ ہوتی ہے جو روشن پیشانیوں کو نسل در نسل کلنک کا ٹیکہ لگاتی چلی جاتی ہے ۔ بنیادی سہولیات کو پہنچ کی طاقت تک کوسلب کر لیتی ہے ۔ یہ غربت روگنتا ہے اور موت کو بڑھا دیتی ہے ۔ بے گھری بڑھا دیتی ہے کہ آسمان ہی چھت سے ہٹ جاتا ہے اور کہیں جائے پناہ باقی نہیں رہتی۔ ناکافی ہاؤزنگ ہو یا غیر محفوظ ماحول، غربت سماجی امتیاز کی خلیج کو اتنا بڑھا چکی کہ کوئی اسے پاٹ نہ کر پائے اور بالآخرجنت جیسی دنیا قطع تعلق کر لیتی ہے ۔

کوئی بھی فیصلہ سازی کا مرحلہ ہو، گھریلو، سماجی یا ثقافتی زندگی کی وجہ سے عدم شرکت بڑھ جاتی ہے ۔ غربت ہر جگہ ہے تمام ممالک میں ہے ۔ پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک میں غربت بے کنار ہو چکی جبکہ ترقی یافتہ ممالک کی دولت کو بھی غربت کی جیب لگ چکی ہے ۔ جبکہ اقتصادی کساد بازاری کی وجہ سے ہونے والے ذریعہ معاش کو نقصانات ہوں، آفتیں یا تنازعات ان سب کی وجہ سے بھی غربت بڑھتی چلی جا رہی ہے ۔ کم اجرت پر کام کرنے والوں کی بھی غربت ہوتی ہے ۔ اور وہ جو سراسر مفلس ہوتے ہیں جو خاندان کے امدادی نظام سے باھر سسک رہے ہوتے ہیں جنہیں کوئی سماجی ادارہ نہیں ٹکرتا، جو ہمیشہ غیر محفوظ ہوتے ہیں ۔گزشتہ دھائی سے ترقی پذیر ممالک میں غربت میں رھنے والی عورتوں کی تعداد میں مردودں کی تعداد کے حوالے سے غیر متناسب اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یہاں تک کہ غربت کی جنس بھی عورت ھی دکھائی دینے لگی ہے ۔ اس کی وجہ سے ان ممالک کی معیشتوں کے علاوہ ان کے سیاسی و اقتصادی عوامل اور سماجی تبدیلیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔ اقتصادی حوالے سے سماجی طور پر عورت کو طاقت، تعلیم، ،تربیت اور پیداواری وسائل تک محدود رسائی ہے ۔ اجرت کے ساتھ کام ہو یا بغیر اجرت کے گھر کا کام، عورت ہمیشہ معیشت میں اپنا حصہ ڈالتی ہے اور غربت سے لڑتی ہے ۔ خواتین کو بااختیار بنانا ھی غربت کے خاتمہ کا سب سے اہم عنصر ہے ۔

مجموعی طور پر غربت ہی تمام گھرانوں کو متاثر کرتی ہے ۔ گھریلو بہبود کے لئے صنفی اعتبار سے محنت اور ذمہ داریوں کی تقسیم کی جاتی ہے جس سے خواتین ایک غیر متناسب بوجھ برداشت سے گزرتی ہیں ۔ اور یہ غربت دیہی گھروں میں خواتین کے لئے شدید عذاب ہے ۔ کسی بھی قسم کی فیصلہ سازی میں عدم شرکت ہو یا تعلیم سے دوری، معاشی مواقع کی عدم دستیابی ہو یا اقتصادی وسائل تک عدم رسائی، زمین کی ملکیت ہو یا زمین کی وراثت، خواتین ھی مجبور ہیں خواتین ہی تہی دامن۔ خواتین ہی کمزور ترین۔ اور یہاں تک کہ اس غربت کی وجہ سے خواتین جنسی استحصال کا بھی شکار۔ ایک کمزور، مجبور اور آسان شکار؟۔۔۔پاکستان میں خواتین کی پیداواری صلاحیتوں کو بڑھایا جانا چاہیے۔ پیسہ ہو یا دیگر وسائل، کریڈٹ ہو یا زمین، معلومات ہوں یا ٹیکنالوجی، تربیت ہو یا تکنیکی معاونت۔۔ ان سب تک خواتین کو مکمل اور آسان ترین رسائی ہو۔ تاکہ نہ صرف وہ اپنی کمائی میں اضافہ کر پائیں بلکہ تعلیم سمیت اپنی صحت کی دیکھ بھال بھی بہتر کر پائیں۔ جب تک خواتین کی اقتصادی، سماجی، سیاسی، قانونی اور ثقافتی حیثیت بہتر نہیں بنائی جائے گی پاکستان میں معاشی ترقی و پائیدار ترقی کا حصول ناممکن ہو گا۔

مزید :

کالم -