ترو تازہ یادیں

ترو تازہ یادیں
ترو تازہ یادیں

  

ماں کی گود میں بیٹھ کر پیار سے چہرہ دیکھنا آج 19 برس گزرجانے کے بعد بھی یاد ہے۔ کوئی لمحہ بھی تو ایسا نہیں جب اُن کی یادِ منّور سے میری آنکھوں نے وضو نہ کیا ہو۔ زندگی میں سب عزتیں خالصتاً اُن کی دُعاؤں کی بدولت ملی ہیں۔ جب کبھی اُن کی قبر مبارک پر حاضری ہوتی ہے تو قدمو ں کو بوسہ اس شعر کی روشنی میں دیتا ہوں جس کی تسکین نا قابلِ بیان ہے:

تیرے ہاتھوں کی کرامت کی تو پھر بات ہی کیا ماں!

مجھ کو تو تیرے قدموں کی مٹی بھی شفاء دیتی ہے

اکثر غمزدہ آنکھوں کے ساتھ حاضری کے لئے جانا ایک مشکل سفر محسوس ہوتا ہے، مگروہاں پہنچ کر خد اکا صد شکر ادا کرتا ہوں کہ ایک اور روحانی ملاقات کا موقع نصیب ہوا۔ اُن کی سادہ زندگی ،میلی چادر، مونس و شفیق چہرہ آنکھوں کے روبرو ہوتا ہے جو صرف 42 برس کی زندگی میں 100 سال کی یادیں چھوڑگئیں۔ اب صرف یہی دعا کر سکتا ہوں کہ میرے ربّ زندگی میں میرا کوئی بھی کام جو تجھے پسند آیا ہو، تو اس کا صلہ میری ماں کوضرور دینا۔۔۔کوئی زندگی میں جتنا بڑا شخص ہی کیوں نہ بن جائے۔ ہر انسان کی زندگی میں، جوکامیابیاں اس کے حصے میں آتی ہیں، اگر ان کامیابیوں کے پس پردہ جھانکیں تو خود کی محنت،اُستادکی تربیت اور دیگر عوامل کے علاوہ ماں کی دُعائیں نمایاں دکھائی دیتی ہیں۔ ماں کی موجودگی ایک نعمت ہے اور غیر موجودگی ایک ایسا خلا پیدا کر دیتی ہے جو کبھی پورا نہیں ہوتا۔ماں زندگی کی تاریک راہوں میں ایک روشن مینار اور باپ ٹھوکروں سے بچانے والا مضبوط سہاراہوتا ہے۔

قرآنِ پاک میں آتا ہے کہ والدین کو کبھی اُف تک نہ کہنا۔ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ اگر اُف سے بھی کوئی چھوٹا لفظ ہوتا تو اللہ تعالیٰ یہاں وہی استعمال کرتے۔ حضرت بو علی سینا نے کہا۔۔۔ اپنی زندگی میں محبت کی سب سے اعلیٰ مثال مَیں نے تب دیکھی جب سیب 4تھے اور ہم 5افراد، تب میری والدہ نے کہا کہ بیٹا مجھے سیب پسند نہیں ہے۔۔۔مَیں کوئی پیشہ ور ادیب نہیں ،بلکہ ایک بے طرز لکھاری ہوں اور اپنے ذاتی مشاہدات پر مبنی متفرق کالم لکھتا ہوں، یہ تروتازہ یادیں بھی اُسی کی ایک کڑی ہے۔ میرے ساتھی ڈاکٹر نے ایک بار سوال پوچھا کہ اکثر سوچتا ہوں جن کی مائیں دنیا فانی سے رخصت ہو جاتی ہیں ، اُن کے لئے دعائیں کون کرتا ہوگا؟ ناچیز نے ذاتی عقیدے کے دامن میں رہتے ہوئے جواب دیا کہ مَیں برسوں سے اس بات کو ذہن نشین کئے ہوئے ہوں کہ اگر دریا خشک بھی ہو جائے، تب بھی مٹی سے نمی نہیں جاتی۔ یہ سنتے ہی اُس نے خداکے تشکر میں یہ شعر پڑھتے ہوئے کیا:

ابھی زندہ ہے ماں میری مجھے کچھ نہیں ہوگا

مَیں جب گھر سے نکلتا ہوں دعا ساتھ چلتی ہے!

معزز قارئین! ماں کی خدمت کرنے سے کامیابی کی جو سنّد ملتی ہے، وہ قیامت کے روز ضرور بخشش کا سبب بنتی ہو گی۔ سوچتا ہوں کہ اقبال اپنی والدہ کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے جب اپنی نظم والدہ مرحومہ لکھ رہے ہوں گے تو ان کی آنکھیں کتنی بار بھر آئی ہوں گی، کتنی بار کاغذ پر گرتے ہوئے آنسوؤں نے قلم کا راستہ روکا ہوگا، آج کالم کا دامن محدود لگ رہا ہے،مگر ماں تیری یادیں لامحدودہیں۔دوستو! ماں سے محبت کرو اور کبھی انہیں پریشان مت کرو،کیونکہ ایک ماں کی پریشانی کو دیکھ کر خداوند کریم نے صفاو مروہ کے درمیان سعی کو حج کا اہم رکن بنا دیا تھا ۔ والدین کے گزر جانے کے بعد آپ اپنی تسکین اور ان کے ایصالِ ثواب کے لئے جتنا کچھ بھی کر لیںِ جو مزہ زندگی میں اُن کی خدمت کرنے کا ہے ، کچھ بھی اُس کا متبادل نہیں ہو سکتا:

عمر بھر تیری محبت میری خدمت گر رہی

مَیں تری خدمت کے قابل جب ہوا تُو چل بسی!

یہ گزرے ہوئے سال تو جیسے مجھے کھائے جا رہے ہیں ،یوں لگتا ہے جیسے ابھی کل کی بات ہے ۔گزرتا ہوا وقت ہر ایک زخم کو نہیں بھر سکتا ، بلکہ وقت کے ساتھ کئی زخم گہرے ہوتے جاتے ہیں اور غم بڑھتا جاتا ہے ۔۔۔اور غم بھی ایسا جس کی کوئی مثال نہیں۔

مزید :

کالم -