چین کا وہ گاﺅں جہاں رہائش اختیار کرنے پر فوراً آپ کےبینک اکاﺅنٹ میں ڈیڑھ کروڑ روپیہ ڈال دیا جاتا ہے لیکن ساتھ ہی اس کام کیلئے بھی تیا ر رہئیے گا

چین کا وہ گاﺅں جہاں رہائش اختیار کرنے پر فوراً آپ کےبینک اکاﺅنٹ میں ڈیڑھ ...
چین کا وہ گاﺅں جہاں رہائش اختیار کرنے پر فوراً آپ کےبینک اکاﺅنٹ میں ڈیڑھ کروڑ روپیہ ڈال دیا جاتا ہے لیکن ساتھ ہی اس کام کیلئے بھی تیا ر رہئیے گا

  

بیجنگ (نیوز ڈیسک ) بہتر منزلہ آسمان کو چھوتی ہوئی عمارت ،فضا میں منڈلاتے ہیلی کاپٹر، ایک بہت بڑا تھیم پارک اور محلات کی قطاریں ، یہ ہے مشرقی چین میں واقع دنیا کا امیر ترین گاﺅں ہواشی۔ جانگ سو صوبے کے اس منفرد گاﺅں کی آبادی تقریباً 2 ہزار ہے اور یہاں جو بھی نیا شخص رہائش کے لئے آتا ہے اس کے بینک اکاﺅنٹ میں فوری طور پر 10 لاکھ یووان (تقریباً ڈیڑھ کروڑ پاکستانی روپیہ )جمع کروا دیا جاتا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس گاﺅں میں منتقل ہونے والے ہر خاندان کو ایک کار اور بنگلہ بھی دیا جاتا ہے، البتہ اگر کوئی یہاں سے جانے کا فیصلہ کر لے تو اسے یہ سب کچھ یہیں چھوڑنا پڑتا ہے اور پیسہ بھی واپس کرنا پڑتا ہے۔ 

دراصل یہ گاﺅں سوشلسٹ سسٹم کی شاندار مثال کے طور پر قائم کیا گیا، جہاں کوئی بھی چیز کسی کی انفرادی ملکیت نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ملکیت ہوتی ہے اور ہر کوئی زندگی کی اعلیٰ ترین سہولیات سے برابر لطف اندوز ہوسکتا ہے۔ یہ گاﺅں شنگھائی سے تقریباً 2 گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے اور گزشتہ کئی دہائیوں سے اس کی خوشحالی پوری دنیا میں مثال ہے۔

یاد رہے کہ یہ گاﺅں نصف صدی قبل کسی بھی غریب اور پسماندہ گاﺅں جیسا ہی تھا لیکن جب صوبہ جیانگ سو کی حکومت نے اسے ایک ماڈل سوشلسٹ گاﺅں بنانے کا فیصلہ کیا تو اس کی تقدیر ہی بدل گئی۔ اب اس گاﺅں کی مجموعی سالانہ آمدنی اربوں ڈالر میں ہے اور اس کے تمام اثاثے یہاں رہنے والے ہر شخص کی مساوی ملکیت ہیں۔ گاﺅں والوں نے 2011 میں اپنی خوشحالی اور طاقت کی علامت کے طور پر 1076 فٹ اونچی عمارت تعمیر کی، جو پیرس کے ایفل ٹاور سے بھی بلند ہے۔ اس عمارت میں فائیو سٹار ہوٹل ، رہائشی اپارٹمنٹ اور دیگر سہولیات ہیں۔ گاﺅں کی اپنی ٹرانسپورٹ کمپنی ہے جو کاریں یا بسیں نہیں بلکہ ہیلی کاپٹر چلاتی ہے اور گاﺅں والے کہیں بھی آنے جانے کیلئے انہی ہیلی کاپٹروں کا استعمال کرتے ہیں۔ چین اپنے اس گاﺅں کو کمیونسٹ معاشی نظام کی بہترین مثال کے طور پر دنیا بھر میں فخریہ طور پر پیش کرتا ہے ۔

مزید : ڈیلی بائیٹس