سی پیک کے خلاف بھارتی بحری دہشت گردی

سی پیک کے خلاف بھارتی بحری دہشت گردی
 سی پیک کے خلاف بھارتی بحری دہشت گردی

  

سی پیک، جسے چین پاکستان اقتصادی راہداری بھی کہا جا رہا ہے، وزیراعظم نواز شریف اور پاکستان کی عسکری قیادت یک زبان ہو کر اس کی تکمیل کے لئے، جس مستحکم لہجے میں اپنے عزم کا اظہار کر چکے ہیں، یہی امید رکھی جانی چاہیے کہ انشاء اللہ اقتصادی راہداری کا یہ منصوبہ بخیر وخوبی اپنی منزل سے ہمکنار ہوگا۔ ’’سی پیک‘‘ منصوبہ جتنا عظیم الشان ہے، اس کی مخالفت کرنے اور اسے ناکام بنانے والے بھی اْتنے ہی بڑے پیمانے پر سامنے آرہے ہیں۔ بھارت اور امریکا ان مخالفین میں پیش پیش ہیں۔ جب سے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے خلاف ایک بار پھر نئے انداز میں حالات بگڑے ہیں۔ سی پیک کے خلاف بھارتی آوازیں اور سازشیں مزید بڑھ گئی ہیں۔مذموم عزائم کے حصول کے لئے بھارتی فوج کے ساتھ ساتھ بھارتی بحریہ بھی اپنی آبدوزوں کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی سازشیں کر رہی ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال بھارتی آبدوز کا پاکستانی علاقے میں گھس کر تخریب کاری کی کوشش کرنا ہے۔ جہاں بھارتی فوج لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی تشویشناک حد تک لگاتار خلاف ورزیاں کر رہی ہے، وہیں بھارتی بحریہ بھی خفیہ مقاصد کے حصول کے لئے اپنی آبدوزیں پاکستان کے خلاف حرکت میں لا رہی ہے،تاہم پاک بحریہ نے اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارتوں کے ساتھ ہر دم چوکنا رہنے کا ثبوت دیتے ہوئے بروقت بھارتی آبدوزکا سراغ لگا کر اْسے پاکستانی سمندری علاقے میں داخل ہونے سے روک دیا اور پاکستانی پانیوں سے مار بھگایا۔

14نومبر کو پاکستان کے سمندری علاقے کے جنوب میں پاک بحریہ کے فلیٹ یونٹس کی مدد سے بھارتی آبدوز کی موجودگی کا سراغ لگایا گیا اور اس کی نقل و حرکت کو محدود کر دیا گیا۔ بھارتی آبدوز نے اپنی موجودگی کو خفیہ رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی تھی،لیکن پاکستان نیوی فلیٹ یونٹس نے آبدوز کا مسلسل تعاقب جا ری رکھا اور اْسے پاکستانی پانیوں سے باہر دھکیلتے ہوئے تخریب کاری کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔ گہرے سمندر میں بھارتی بحریہ کی آبدوز کا سراغ لگانا اوراس کی مسلسل نگرانی کا یہ اہم کارنامہ نہ صرف پاکستا ن نیوی کی اینٹی سب میرین وار فیئر کی اعلیٰ صلاحیتوں کامنہ بولتا ثبوت ہے ،بلکہ پاکستان کی بحری سرحدوں کے دفاع میں بلند عزم اورمضبوط عہد کا بھی عکاس ہے۔

پاک بحریہ نے بھارتی آبدوز کو 4 روز تک مانیٹر کیا۔ بھارتی آبدوز 4 روز تک سطح سمندر پر نہیں آئی اور پاک بحریہ نے اسے سطح سمندر پر آنے پر مجبور کیا۔ آبدوز جرمن ساختہ 209 تھی۔ بھارتی آبدوز شیشوش مرنے نے پاکستانی پانیوں میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔ بھارتی آبدوز جاسوسی اور جنگی مقاصد کے لئے آئی تھی۔ جنگی ماہر کموڈور (ر) عبیداللہ نے کہا ہے کہ بھارتی آبدوز خطرناک ارادوں سے پاکستانی حدود میں داخل ہونا چاہتی تھی۔ دفاعی تجزیہ کاروں نے بھارتی جارحیت کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ کوشش سی پیک کو نقصان پہنچانے کے لئے تھی۔ سینئر دفاعی تجزیہ کار کموڈور (ر) عبیداللہ اور ایڈمرل (ر) تسنیم احمد نے کہاکہ یہ بھارت کی انتہائی مہلک ترین آبدوز تھی اللہ نے پاکستان کو بڑے خطرے سے بچا لیا ہے۔ بھارتی آبدوز کے پاکستان آنے کے تین سے چار مقاصد ہو سکتے ہیں۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک )کی وجہ سے بھارت بہت پریشان ہے اور اس وجہ سے اوٹ پٹانگ حرکتیں کررہاہے ۔ وہ پاکستان کو کمزور کرنے کے لئے کئی طریقے اپنا رہاہے اور یہ اس کی تازہ مثال ہے۔ بھارتی آبدوز کا بظاہر ہدف اقتصادی راہداری اور گوادر پورٹ تک پہنچنا تھا۔ یہ آبدوز پاکستان کے پانیوں میں گھسنا چاہتی تھی۔ آبدوز میں بھارتی ایس ایس جی کے لوگ اور دہشت گرد بھی تھے۔ لینڈ کرنے کے بعد بلوچستان میں کارووائی کرنا تھی۔کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ بھارتی بحریہ کا سارا ٹارگٹ بلوچستان کا ساحل ہے۔ چنانچہ ان کا مقصدسی پیک کو نقصان پہنچانا تھا۔ آبدوز بھیجنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تینوں فورسز کو دباؤ میں رکھنا چاہتا ہے۔ پاک بحریہ کی چوکسی نے ملک کو بڑے خطرے سے بچا لیا۔

لائن آف کنٹرول پربھارت کی جارحانہ کارروائیاں جاری ہیں اسی طرح یہ بھی جارحانہ کارروائی تھی۔ سمندر میں جارحانہ کارروائی کے کئی مقاصد ہیں وہ جاننا چاہتے ہیں کہ پاکستان کا دفاع کس حد تک محفوظ ہے۔ تاہم بھارت سمجھتا ہے کہ ان چیزوں سے پاکستان پر دباؤ ڈال کر پاکستان کی پالیسیوں میں تبدیلی لائے گا،مگر اس کا الٹا اثر ہورہا ہے۔

مزید : کالم