افغانستان اور طالبان مذاکرات کے لئے پاکستانی تجاویز

افغانستان اور طالبان مذاکرات کے لئے پاکستانی تجاویز

اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ افغانستان میں مستقل امن کے لئے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات ہی صحیح راستہ ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ پاکستان کی کوششوں میں مددگار رہتے ہوئے مذاکرات کے عمل کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔ ملیحہ لودھی نے ان خیالات کا اظہار اقوام متحدہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کہ افغان حکومت اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات انتہائی ضروری ہیں مفاہمتی عمل کو کامیاب بنانے کے لئے پاکستان اپنا کردار ادا کر رہا ہے، عالمی برادری بھی اپنا حصہ ڈالے تاکہ خطے میں امن کا مستقل قیام ممکن ہو۔ ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے اپنے خطاب میں پاکستان کا وہ اصولی اور قابلِ عمل موقف دہرایا ہے، جو گزشتہ کئی برسوں سے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کے پلیٹ فارم پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ افغان طالبان کے ساتھ جنگ سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو کامیابی حاصل نہیں ہوسکی،پاکستان نے اس مسئلہ کے مستقل اور قابل عمل حل کے لئے مذاکرات کو ضروری قرار دیا ہے۔ پاکستان پچھلی کئی دہائیوں سے 35 لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین کی دیکھ بھال کرتے ہوئے ذمہ دار میزبان کے طور پر اپنے فرائض انجام دے رہا ہے۔ افغان حکومت کو بھی اہم معاملے میں پاکستان کی طرف سے ہر ممکن امداد مہیا کی جا رہی ہے۔

افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ افغانستان کے سابقہ حکمرانوں کی طرح موجودہ حکمران بھی پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کی سازشوں میں شامل رہتے ہیں جس کی وجہ سے اب تک امن کے قیام کی کوششیں کامیاب نہیں ہوئیں۔ افغان حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ملک کے علاوہ پاکستان میں بھی پائیدار امن کو یقینی بنانے کے لئے بھارت کی سازشوں میں شامل نہ ہوں۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ دو برادر مسلم ملکوں (افغانستان اور پاکستان) کے مشترکہ مفادات وابستہ ہیں جبکہ معاشی ترقی کی کوششیں بھی بدامنی کے باعث بُری طرح متاثر ہوتی رہتی ہیں۔ان مسائل کے حل کے لئے افغان طالبان اور افغان حکومت کے مذاکرات کو کامیاب بنانا ضروری ہے۔ اس کامیابی کے لئے پاکستان کی کوششوں کے ساتھ ساتھ عالمی برادری کو بھی مثبت اور اہم کردار شامل ہونا چاہیے۔ اس معاملے میں پاکستان کی اقوام متحدہ میں مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی کی تجاویز کو عالمی برادری کی جانب سے اہمیت دیتے ہوئے، انہیں عملی جامہ پہنانے کو یقینی بنانا چاہیے۔

مزید : اداریہ