فنی تربیت لازمی رسمی تعلیم کا بہترین نعم البدل ہے،راجہ اشفاق سرور

فنی تربیت لازمی رسمی تعلیم کا بہترین نعم البدل ہے،راجہ اشفاق سرور

لاہور(کامرس رپورٹر)صوبائی وزیر محنت وانسانی وسائل راجہ اشفاق سرور نے کہاہے کہ فنی تربیت لازمی رسمی تعلیم کا بہترین نعم البدل ہے ، پنجاب کو چائلڈ لیبر فری صوبہ بنانے کے لئے تمام سٹیک ہولڈرز کی باہمی مشاورت سے قابل عمل ، جامع اور پائیدار پالیسی پر مبنی موثر میکنزم تشکیل دیا جا رہاہے تاکہ مختلف عمر کے بچوں اور بالغ افراد کو مستقل بنیادوں پر بنیادی تعلیم ، فنی تربیت اور مالی معاونت فراہم کی جا سکے۔انہو ں نے یہ بات پٹرول پمپس ، ورکشاپوں او رہوٹلوں پر چائلڈ لیبر کرنے والے بچوں کو رسمی تعلیم او رفنی تربیت کی فراہمی کے حوالے سے جاری پیش رفت کا جائزہ لینے کے لئے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔سیکرٹری لیبر سہیل شہزاد، سی ای او پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی محمد سہیل چودھری ، ڈی جی لیبر ویلفیئر محمد سلیم حسین، ایڈیشنل سیکرٹری لیبر ڈاکٹر سہیل شہزاد، پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر سعید احمد ووٹو کے علاوہ بیورو آف سٹیٹسٹکس ، اربن یونٹ ، محکمہ سکول ا یجوکیشن اور محکمہ لیبر کے اعلی افسران نے اجلاس میں شرکت کی۔سیکرٹری لیبر سہیل شہزاد نے کہاکہ چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لئے مجوزہ پالیسی ڈھانچے کے مطابق مختلف عمر کے بچوں کو رسمی و فنی تعلیم و تربیت کی فراہمی کے لئے این جی اوز کے تعاون سے مختلف پروگرام شروع کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ استطاعت رکھنے اور صوبائی یا وفاقی حکومت سے مالی امداد حاصل کرنے کے باوجود اپنے بچوں کو سکول نہ بھیجنے و الے والدین کے خلاف کارروائی عمل میں لا ئے جانے کی مختلف تجاویز بھی زیر غور ہیں۔انہوں نے کہاکہ اینٹوں کے بھٹوں پر مشقت سے آزاد کرا کر سکولو ں میں داخل کروانے والے بچوں کے 10ہزار 4سو 39 خاندانی سربراہوں کے شناختی کارڈ بنائے جا چکے ہیں ۔

جبکہ ا یسے دو ہزار سات سو 83 والدین کے شناختی کارڈ تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔انہوں نے بتایاکہ 15سے 18سال کی عمر کے بالغ بچوں کو ان کی مرضی کے مطابق فنی تربیت کی فراہمی کے لئے پنجاب ووکیشنل ٹریننگ کونسل اور ٹیوٹا خصوصی سکلز ٹریننگ کورسز بھی ڈیزائن کررہے ہیں۔سیکرٹری پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی محمد سہیل چودھری نے کہاکہ 10سال سے کم عمر کے بچوں کی ہر قسم کی مشقت پر ممانعت ،10سے 12سال کے بچوں کو این جی اوز کے نان فارمل بنیادی تعلیم کے اداروں میں داخل کروانے، 12سے14سال کی عمر کے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کے بعد آئی ایل او کے کنونشن کی روشنی میں ہلکا پھلکا کام کرنے کی اجازت دینے کی پالیسی پر غور کیا جا رہاہے۔انہوں نے کہاکہ10سال سے کم عمر سکول جانے والے بچوں کو خدمت کارڈز کے ذریعے 2ہزار روپے ماہانہ مالی معاونت کی تجاویز بھی زیر غور ہے۔اجلاس میں 3سیکٹرز میں جاری بیورو آف سٹیٹسٹکس کے چائلڈ لیبر سروے کے مختلف مراحل پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔

مزید : کامرس