وفاقی وزیر خزانہ نے ایکسپورٹرز کا ایک دیرینہ مسئلہ حل کر دیا

وفاقی وزیر خزانہ نے ایکسپورٹرز کا ایک دیرینہ مسئلہ حل کر دیا

کراچی(اکنامک رپورٹر)وفاق ایوانہائے صنعت وتجارت (ایف پی سی سی آئی) کے سالانہ انتخابات برائے 2017کے لیے یونائیٹڈبزنس گروپ کے نامزد امیدواراورایف پی سی سی آئی کی ٹیکس لائژن کمیٹی کے سربراہ زبیرطفیل نے کہاہے کہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے سیلز ٹیکس ریفنڈ ادا کرنے کا وعدہ پورا کر کے ایکسپورٹرز کا ایک دیرینہ مسئلہ حل کر دیا ہے ، وزیر خزانہ نے بقیہ ری فنڈ بھی 31دسمبر تک ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔زبیر طفیل نے کہاکہ ایف بی آر نے وزیر اعظم کی ہدایت پر ایکسپورٹرز کو 22ارب روپے کے سیلز ٹیکس ری فنڈ جاری کر دیے ہیں تمام ایکسپورٹرز کو ری فنڈ الیکٹرونکس سسٹم کے تحت براہ راست ان کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کیے گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ملکی ایکسپورٹ میں نمایاں کمی کے رحجان کو روکنے کے لیے وزیراعظم نے ایکسپورٹرز کے سب سے بڑے مسئلے کو حل کرنے کے لیے وزیر خزانہ کو ہدایت جاری کی تھیں انھیں ہدایات کی روشنی میں ایف بی آر نے 26ارب جاری کرنے کی منظوری دی تھی تاہم 4ارب کے ری فنڈز اس لیے روک لیے گئے کہ ایف بی آر کے پاس متعلقہ ایکسپورٹرز کے بینک اکاؤنٹس اور دیگر معلومات نہیں تھیں، جس پر ایف پی سی سی آئی کی تجویز پر ایسے ایکسپورٹرز کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا جن کے بینک اکاؤنٹس ایف بی آر کے پاس موجود نہیں ہیں ۔زبیر طفیل نے کہا کہ ری فنڈز کی ٹرانسفراب صرف الیکٹرونکس نظام سے ہی ہو گی۔ ڈائریکٹ ری فنڈ ٹرانسفر الیکٹرونکس سسٹم ایف بی آر میں جاری اصلاحات کا اہم قدم ہے ۔انہوں نے کہا کہ ابھی جو ری فنڈ ادا کیے گئے ہیں وہ 30جون تک کے ہیں اسکے بعد اب ایکسپورٹ کے تمام اہم سیکٹرز کو زیرو ریٹ کر دیا گیا ہے اس لیے اب مزید ری فنڈ جمع نہیں ہو نگے 31دسمبر تک تمام ری فنڈز کی ادائیگی سے ایکسپورٹرز کے پاس وافر لیکوڈٹی ہو گی۔

مزید : کامرس