’’علامہ اقبا لؒ ہمارے دور کی سب سے عظیم المرتبت ادبی شخصیت تھےؔ

’’علامہ اقبا لؒ ہمارے دور کی سب سے عظیم المرتبت ادبی شخصیت تھےؔ
 ’’علامہ اقبا لؒ ہمارے دور کی سب سے عظیم المرتبت ادبی شخصیت تھےؔ

  

لاہور(پ ر)اب یہ ثابت کرنے کی ضرورت باقی نہیں کہ علامہ اقبال مرحوم ہمارے دور کی سب سے اہم اور سب سے عظیم المرتبت ادبی شخصیت تھے‘‘ ان خیالات کا اظہار فیض احمد فیضؔ نے فقیر سید وحیدالدین کی مشہور تصنیف ’’روزگارِ فقیر‘‘کے تفصیلی تعارف میں کیا ۔ جسے نئے انداز اور دستاویزات اور تصاویر کے اضافے کے ساتھ مکتبہ آتش فشاں 78 ستلج بلاک علامہ اقبال ٹاؤن لاہور فون نمبر 0333-4332920 نے شائع کیا ہے۔ فقیر سید وحیدالدین نے علامہ اقبالؒ کی محفلوں میں اٹھنے بیٹھنے والے احباب، دوستوں، ساتھیوں اور عقیدت مندوں کے آنکھوں دیکھے یہ واقعات بڑی عرق ریزی سے جمع کر کے اس دور کی معاشرتی، ادبی اور علمی روایات کو اس انداز میں محفوظ کر ڈالا کہ فیض احمد فیضؔ لکھتے ہیں:’’اس تصنیف میں اقبالؒ کی زندگی کے گھریلو روزمرہ مناظر، ان کی نجی صحبتیں اور رنجشیں، راحتیں اور کلفتیں، ان کے دل کا گداز اور دماغ کی شگفتگی، اقبالؒ کے آنسو اور اقبالؒ کے قہقہے سبھی شامل ہیں‘‘۔ ’’روزگارِ فقیر‘‘میں علامہ کی سو سے زائد تصاویر اور تیس سے زائد دستاویزات بھی شامل کی گئی ہیں۔ فقیر سید وحیدالدین لکھتے ہیں کہ علامہ اقبالؒ کا دل عشقِ رسولؐ نے گداز کر رکھا تھا۔ آنحضرتؐ کے ذکر پر ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلتے۔ علامہ فرمایا کرتے تھے،’’جو دعا دل کی گہرائیوں سے نکلے ضرور قبول ہوتی ہے۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ دعا کا اثر فوراً ظاہر ہو‘‘۔ علامہ فرماتے تھے:’’مسلمانوں کی بہترین تلوار دعا ہے اس سے کام لینا چاہیے۔ ہر وقت دعا کرنی چاہیے اور نبی کریمؐ پر درود بھیجنا چاہیے‘‘۔ علامہ اقبالؒ کے بھتیجے شیخ اعجاز احمد نے لا کرنے کے بعد سیالکوٹ میں پریکٹس شروع کی تو علامہ انہیں نماز اور تلاوتِ قرآن کی تلقین فرماتے۔ ایک خط میں انہیں لکھاکہ’’قرآن پر میں زیادہ اصرار کرتا ہوں کہ اس کے پڑھنے کے فوائد میرے تجربے میں آچکے ہیں‘‘۔ شیخ اعجاز احمد نے 1921ء میں ایل ایل بی کرنے کے بعد سیالکوٹ میں پریکٹس شروع کی تو ہندوستان میں تحریکِ خلافت زوروں پر تھی۔علامہ نے انہیں اس میں حصہ لینے سے منع کرتے ہوئے کہا:’’خلافت کمیٹیوں کے بعض ممبر ہر جگہ قابلِ اعتبار نہیں ہوتے۔وہ بظاہر جوشیلے مسلمان معلوم ہوتے ہیں لیکن درِباطن اخوان الشیاطین ہیں۔ اسی وجہ سے میں نے خلافت کمیٹی کی سیکرٹری شپ سے استعفا دے دیا تھا۔اس استعفے کے وجوہ اس قابل نہ تھے کہ پبلک کے سامنے پیش کیے جاتے۔ لیکن اگر پیش کیے جا سکتے تو لوگوں کو سخت حیرت ہوتی‘‘۔ ’’روزگارِ فقیر‘‘علامہ کی زندگی سے متعلق سینکڑوں ایسے چشم دید واقعات پر مشتمل ہے جو اب تاریخ کا حصہ ہیں۔ اس میں مسلمانوں کے لیے اُس ہندو تعصب کا بھی ذکر ہے جب علامہ اقبالؒ کو لاہور ہائی کورٹ کا جج مقرر کرنے کے سلسلے میں حکومت نے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سر شادی لال کی رائے دریافت کی تو سرشادی لال نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ڈاکٹر اقبالؒ کو ’’ہم ایک شاعر کے طور پر تو جانتے ہیں، ایک وکیل کے طور پر نہیں جانتے‘‘۔ ہندوانہ تعصب کی مناسبت سے یہ جملہ ان دنوں خاصہ مشہور رہا۔جب علامہ اقبالؒ گول میزکانفرنس میں شرکت کے بعد لندن سے واپس آئے اور ان سے پوچھا گیا کہ آپ’’یورپ سے ہو آئے۔ مصر اور فلسطین کی سیر بھی کی۔ کیا اچھا ہوتا کہ واپسی پر روضۂ اطہر کی زیارت سے بھی آنکھیں نورانی کر لیتے‘‘۔ یہ سنتے ہی ڈاکٹر صاحب کی حالت دگرگوں ہو گئی۔ آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ پھر کہنے لگے:’’میں کس منہ سے روضۂ اطہر پر حاضر ہوتا‘‘۔مصنف ’’روزگارِ فقیر‘‘رقم طراز ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ علامہ اقبالؒ سے پوچھا:’’کیا یہ صحیح ہے کہ حج کرنے سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں‘‘۔ انہوں نے جواب دیا:’’نہیں، یہ تو بالکل غلط ہے‘‘۔ میں نے عرض کیاتو’’حج کی غرض و غایت کیا ہے‘‘۔ انہوں نے جواب میں کہا:’’بس خدا کا حکم ہے‘‘۔ ’’روزگارِ فقیر‘‘میں علامہ اقبالؒ سے متعلق کئی غلط العوام اور خلافِ حقیقت واقعات کی درستگی بھی کی گئی ہے۔ ان میں ان کی تاریخِ پیدائش بھی ہے، مصنف نے خاصی تحقیقی مشقت کے بعد ثابت کر دیا کہ علامہ کی تاریخِ پیدائش 9 نومبر 1877ء ہے۔ اور جسے علامہ کا کمرۂ ولادت کہا جاتا ہے اور جس کی تصاویر آئے روز اخبارات میں چھپتی رہتی ہیں، وہ کمرہ علامہ کی پیدائش کے وقت موجود ہی نہ تھا۔ علامہ کے دادا شیخ محمد رفیق نے فروری 1861ء میں دو کوٹھڑیوں، ایک دالان، ایک ڈیوڑھی اور صحن پر مشتمل جو مکان خریدا تھا وہیں علامہ اقبال پیدا ہوئے۔ یہ مکان 1895ء کے بعد گرا کرنیا مکان تعمیر کیا گیا جو اب ’’اقبال منزل‘‘ کہلاتا ہے۔اس میں وہ کوٹھڑی موجود نہیں جس میں علامہ اقبالؒ کی پیدائش ہوئی تھی۔ اسی طرح شواہد اور دستاویزات کے ذریعے علامہ اقبالؒ سے متعلق کئی غلط معلومات کی ’’روزگارِ فقیر‘‘کے ذریعے درستی ہوتی ہے۔ اس حوالے سے یہ کتاب علامہ کی زندگی پر ایک تاریخی دستاویز بھی ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1