بھارت بے شرمی کے ساتھ پاکستان پر حملے کر رہا ہے،اعجاز چودھری

بھارت بے شرمی کے ساتھ پاکستان پر حملے کر رہا ہے،اعجاز چودھری

لاہور( جنرل رپورٹر) تحریک انصاف پنجاب کے سابقہ صدر اعجاز احمد چوہدری نے کہا کہ نوازشریف کی دیگر حکمران خاندانوں کے ساتھ دوست پالیسی نے پاک بھارت توازن کو بھی برباد کر دیا ہے ،بھارت بے شرمی کے ساتھ پاکستان پر بار بار حملے کر رہا ہے لیکن منہ کی کھانے کے باوجود بھی بھارت جارحیت سے باز نہیں آتا ، کیا قومی اسمبلی ، سینٹ اور ملکی ادارے بھارت کے حوالے سے خارجہ پالیسی کو زیر بحث لائیں گے ،کشمیر میں کشمیری عوام پر بھارت نے ظلم کے پہاڑ توڑ دئیے ہیں ، تحریک انصاف لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے ، آئے روز بھارت عالمی قوانین کی دھجیاں بکھیر رہا ہے ،وہ گزشتہ روز این اے 127 میں پارٹی کارکنان سے خطاب کر رہے تھے، انہوں نے مزید کہا کہ مودی کی مذمت نہیں مرمت کرنے کی ضرورت ہے ،بھارت پاکستان کی امن کی پالیسی کو کمزوری نہ سمجھیں ، حکمران اپنے تحفظ کے لئے آئے روز آرڈینس جاری کرتے ہے ، موجودہ حکمران ٹولہ بہادر فوج کی پیٹھ پر چھرا گونپنے کے سواء کوئی اور کام نہیں کر رہے ، پچاس روز نیوز لیک کو گزرے ہوئے ہو گئے ہے لیکن ابھی تک ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ، پانامہ چور حکمران قطر ی شہزادے کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہے ہیں ،نواز شریف کی تنخواہ دار درباریوں کی فوج ظفر موج انہیں بچانے میں لگی ہوئی ہے لیکن انہیں ہر محاذ پر ناکامی ہوگی چالیس سالوں سے شریف خاندان ملک کو لوٹ رہا ہے ، موجودہ حکومت نے بجلی کے بلوں میں صارفین کو 22ارب کا ٹیکہ لگایا ہے ،حکمرانوں نے عوام کے مسائل میں کمی کرنے کے بجائے اضافہ کیا ہے ، انہوں نے کہا کہ مردم شماری کی راہ میں حکومتی رکاوٹیں جمہوریت اور عوام دشمنی پر مبنی ہے ،حکمران مردم شماری کے حوالے سے مسلسل ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہے ہیں ، سپریم کورٹ کے فیصلوں پر حکومت عمل درآمد نہیں کر رہی ، مردم شماری کے حوالے سے حکومتی تاخیری حربے قابل مذمت ہے ، آئندہ انتخابات سے پہلے مردم شماری بہت ضروری ہے ، انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت مسئلہ کشمیر کے حل اور بھارتی مظالم کے خلاف عالمی سطح پر بھرپور آواز اٹھائے ،اس موقع پر شبیر سیال، فیاض بھٹی ، جاوید بھٹی ، ملک بابر اعوان ،رانا انجم یعقوب، چوہدری ظہور احمد، ندیم شاکر ، منفر گوندل ، ارمغان صادق، چاچا پی ٹی آئی ، محسن شاہ سمیت دیگر کارکنان موجود تھے ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1