’’ویل ڈن پنجاب فُوڈ اتھارٹی‘‘

’’ویل ڈن پنجاب فُوڈ اتھارٹی‘‘
’’ویل ڈن پنجاب فُوڈ اتھارٹی‘‘

  

یاروں نے کھوتے کے گوشت کو لاہور کے ساتھ باندھ دیا ہے اور اس کا کریڈٹ یا ڈس کریڈٹ پنجا ب فوڈ اتھارٹی کی سابق ڈائریکٹر عائشہ ممتا ز کو جاتا ہے، محترمہ نے لاہور کے ریلوے اسٹیشن سے سور کا گوشت بھی برآمد کر لیا تھا اور سب حیران رہ گئے تھے کہ اس خاتون نے ڈرموں میں موجود لبلبے کوبغیر کسی لیبارٹری ٹیسٹ کے دیکھتے ہی کیسے پہچان لیا کہ یہ لبلبہ سور کا ہے۔ محترمہ کو خبروں میں رہنے کا ہنر بھی آ گیا تھا اور چسکا بھی پڑ گیا تھا ۔ آ ج کے دور میں آپ یا تو خبروں میں زندہ رہ سکتے ہیں یا تاریخ میں ، یعنی اگر آپ کچھ بہتر کرنے جا رہے ہیں تواس کے لئے ضروری نہیں کہ آپ ہر وقت بریکنگ نیوز میں ہوں۔

پنجاب فوڈ اتھارٹی اس وقت لاہور ہی نہیں پورے ملک کی سب سے طاقت ور اتھارٹی ہے مگر اس کی طاقت کو صرف بریکنگ نیوز میں ’’ ان‘‘ رہنے کے لئے استعمال کیا جا رہا تھا، یہ درست ہے کہ بریکنگ نیوز کے چسکے نے ایک خوف بھی پیدا کیا۔جہاں محترمہ عائشہ ممتاز جاتی تھیں وہاں لوگ تھر تھر کانپنا شروع کر دیتے مگر اس کے ساتھ ہی بہت سارے کاروبار اور کاروباری بھی تباہ ہوجاتے تھے۔ میں نے اپنے سامنے نئے کھلتے ہوئے ریستوران دیکھے اور پھر انہیں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں روپوں کا نقصان اٹھا کے بند ہوتے ہوئے دیکھا۔مجھے معذرت کے ساتھ کہنے دیجئے کہ اس پورے معاملے سے تعمیر سے کہیں زیادہ تخریب نکلی۔ ایک الزام لگتا تھا اور اس کے ساتھ ہی ایک ادارہ سیل کر دیا جاتا تھا،اس امر کی بھی پرواہ نہیں کی جا تی تھی کہ یہاں دو چار چھ درجن، دوچار چھ سو یا حتیٰ کہ دو، چار ، چھ ہزار ملازمین کام کر رہے ہیں اور جب کسی چھوٹی بڑی کوتاہی پر اس ادارے کو بند کر دیں گی تو وہ ملازمین بے روزگار ہوجائیں گے کیونکہ یہاں کوئی سیٹھ اتنا دیالو نہیں ہوا کہ وہ بے کار بیٹھے ملازموں کو دیہاڑی دیتا رہے۔ حیرت کی بات تھی کہ ہر جرم کی سزاادارے کو بند کرنا ہی تھا حالانکہ بہت سارے کام وارننگوں اور جرمانوں سے بھی درست کئے جا سکتے تھے۔خدا کا شکر ہے کہ پنجاب حکومت کو اس امر کا احساس ہو گیاسرکاری طور پر قائم کئے گئے اداروں کا کام اصلاح کرنا ہے اور اصلاح کے لئے ڈنڈے کا استعمال واحد طریقہ نہیں ہے۔ میں نے ماہرین سے پوچھا، یہ جو جگہ جگہ سے گدھے کا گوشت پکڑا جا رہا تھا اس پکے ہوئے گوشت کو پہچاننے کا طریقہ کیا ہے، جواب ملا، کسی بھی گوشت کو پکنے کے بعد پہچاننے کا کوئی طریقہ ہی نہیں، محض اندازے ہی لگائے جاتے ہیں ، اس سے بھی آگے بڑھ کر کچے گوشت کو بھی ہڈیاں دیکھ کر پہچانا جاتا ہے ، کوئی باقاعدہ لیبارٹری ٹیسٹ نہیں ہے۔ یہ کام پہلے بلدیاتی اداروں کے پاس تھا مگر میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور کے پاس بھی کوئی جدید فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری نہیں رہی، اب تک پنجاب فوڈ اتھارٹی کے پاس بھی نہیں ہے تاہم اب کہاجا رہا ہے کہ چار نئی سٹیٹ آٖف دی آرٹ لیبارٹریاں قائم ہوں گی، فوڈ اتھارٹی کے بعد اب فوڈ کورٹس بھی قائم کی جا رہی ہیں جن سے خوراک سے متعلق مقدمات کا فیصلہ پروفیشنل اور جلد ہو سکے گا۔

نور الامین مینگل کا نام لاہور اور فیصل آباد کے شہریوں کے لئے نیا نہیں ہے، ان دونوں شہروں میں وہ برسوں بطور ڈی سی او کام کر چکے اور دادوتحسین سمیٹ چکے، اب حکومت پنجاب کی طرف سے انہیں ڈائریکٹر جنرل فوڈ اتھارٹی کی ذمہ داری دی گئی ہے۔میں نے پوچھا، سوشل میڈیا پر شور ہے کہ عائشہ ممتاز کو اتھارٹی سے نکال دیا گیا ہے تو ان کا جواب تھا کہ وہ اپنی فیملی کی مصروفیات کی وجہ سے چار ماہ کی رخصت پر ہیں بلکہ جب انہوں نے ڈائریکٹر جنرل کی پوسٹ سنبھالی تو ان کی میز پر ان سے پہلے عائشہ ممتاز کی چھٹی کی درخواست موجود تھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر عائشہ ممتاز واپس آجائیں تو وہ انہیں اہم ذمہ داری دینے کے لئے تیار ہیں۔ میرا سوال تھا کہ آپ نے تو ڈائریکٹر آپریشنز کے طور پر فیصل آباد میں اسسٹنٹ کمشنر کے طور پر کام کرنے والی رافعہ حیدر کو تعینات کر دیا ہے، جواب تھا کہ فوڈ اتھارٹی کا دائرہ کار بڑھایا جا رہا ہے، اب ہمیں ایک نہیں بلکہ تین ڈائریکٹر آپریشنز درکار ہیں، اس وقت لاہور کے علاوہ چار مزید اضلاع فوڈ اتھارٹی کو دئیے گئے ہیں، اس کا دائرہ کار مری تک بڑھایا گیا ہے جبکہ درخواست کی گئی ہے کہ موٹر وے اور جی ٹی روڈ کے ہوٹلوں پربھی فوڈ اتھارٹی کو کارروائی کا اختیار دیا جائے، اگلے برس دسمبر تک اتھارٹی کی کاررائیوں کا دائرہ پورے پنجاب میں پھیل جائے گا۔

رافعہ حیدر نے بھی بطور ڈائریکٹر آپریشنز آتے ہی دھڑا دھڑ کارروائیاں شروع کر دیں،پہلے روز ہی فیصل آباد میں ایک ایسی فوڈ چین کواستعمال شدہ تیل استعمال کرنے پر لاکھوں روپے جرمانہ کر دیا جو کہتے ہیں کہ وہ اپنے برگروں کے لئے چکن تک امپورٹ کرتے ہیں۔ چکن سے یاد آیا کہ کھوتا تو ایک طرف رہ گیا، اب کہا جا رہا ہے کہ لاہوری مردہ اور بیمار مرغیوں کا گوشت کھاتے ہیں۔ ٹولنٹن مارکیٹ میں چھاپا مارا گیا تووہاں سے ایک معروف اورمقبول بروسٹ چین کے لئے مردہ اور بیمار مرغیوں کا اسی من گوشت پکڑ لیا گیا ، اس بروسٹ چین کے ایم ڈی سے میری بات ہوئی تو انہوں نے صاف تردید کر دی اور کہا کہ ٹولنٹن مارکیٹ میں ان کا یونٹ ہی نہیں ہے مگر اس کے باوجود یہ امر ایک حقیقت ہے کہ دوسرے اضلاع سے جب مرغیاں مختلف لوڈروں میں صبح فجر کے وقت بولی لگانے کے لئے ٹولنٹن مارکینٹ منتقل کی جاتی ہیں تو بہت ساری راستے کی سرد اور سخت ہوا کی وجہ سے مر جاتی ہیں۔ میرااندازہ یہ ہے کہ ان مرغیوں کا گوشت وہ خریدتے ہیں جو بہت ہی سستا چکن شوارما گلی گلی بیچتے ہیں جو آپ کو بہت بڑے شوارمے کے نام پر تیس سے چالیس روپوں میں بھی مل جاتا ہے۔ میں نے ڈی جی فوڈ اتھارٹی کی توجہ اسی طرف مبذول کروانی ہے کہ مرغیوں کی لاٹ کی بولی لگتے وقت ان کا ایک بااختیار نمائندہ ٹولنٹن مارکیٹ میں موجود ہونا چاہئے تاکہ مردہ اوربیمار مرغیاں فروخت نہ کی جا سکیں۔ دوسری طر ف مردہ مرغیوں کی تلفی کا طریقہ کار بھی مناسب نہیں ، ان مرغیوں کو فروخت نہ بھی کیا جائے تو سالڈ ویسٹ مینجمنٹ والوں کے ذریعے اٹھوا لیا جاتا ہے جو انہیں محمود بوٹی میں ڈمپ کرتے ہیں مگر امکانات موجود ہیں کہ وہ وہاں سے اٹھائے جانے کے بعد ایک مرتبہ پھر مارکیٹ میں آجاتی ہوں۔

پنجاب فوڈ اتھارٹی کے لئے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے کھانے پینے کے کاروبار میں اصلاح تو کرنی ہے مگر وہ اس سلسلے میں عائشہ ممتاز کے راستے سے ہٹ بھی نہیں سکتے کہ روزانہ بڑی بڑی خبریں نہ بنوائیں، اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو کہا جائے گا کہ عائشہ ممتاز کام کرتی تھی جبکہ اب اتھارٹی مک مکا کرتی ہے۔ لاہور کی سرحد سے باہر دو یونٹوں کو سیل کیا گیا تو ان میں ہزاروں مزدور کام کرتے تھے ، عائشہ ممتاز وہاں خبر بنوا کر آ گئیں مگر اس کے بعد ان مزدوروں کے گھروں میں روٹی کے لالے پڑ گئے۔ فوڈ اتھارٹی نے ایک یونٹ کو باون اور دوسرے کو سڑسٹھ شرائط عائد کرتے ہوئے کھولا اور کہا کہ ان شرائط کو دو ماہ کی مدت میں پورا کیا جائے، ایک یونٹ کے مالک کے مطابق اس کا ان ہدایات پر عمل کرتے ہوئے پانچ کروڑ روپیہ خرچ ہو گیا۔ اسی طرح ٹولنٹن مارکیٹ جو گندگی اور تعفن کی آماجگاہ تھی وہاں صفائی کا مقابلہ ہو رہا ہے اور فوڈ اتھارٹی کی طرف سے سب سے صاف دکان کو انعام سے نوازنے کی باقاعدہ سکیم کا اعلان کیا گیا ہے۔

اب فوڈ اتھارٹی صرف چھاپے نہیں ما ر رہی، صرف خبریں نہیں بنا رہی بلکہ واقعی ادارے بنا رہی ہے، سٹیک ہولڈروں کے ساتھ مل کر ضوابط طے ہو رہے ہیں،پہلی ترجیح پربرانڈنگ ہے کہ مرچ ہویا نمک، اس پر لکھا ہو کہ اسے کس نے تیار کیا ، کہا ں تیار کیا تاکہ ملاوٹ کی صورت میں اسے پکڑا جا سکے۔ گدھے کا گوشت اسی صورت رک سکتا ہے جب گوشت کی سپلائی چین فول پروف ہو۔ پنجاب کی فوڈ اتھارٹی کو دیکھتے ہوئے اس امر کی تسلی رکھی جا سکتی ہے کہ یہ صرف ملاوٹ شدہ اشیاء ہی نہیں بلکہ مردہ مرغیوں اور گدھوں کے گوشت کی سپلائی بھی روک رہی ہے۔میں نے کہا کہ ہمارے یاروں نے لاہور کو کھوتے کے گوشت کے ساتھ باندھ دیا مگر حقیقت تو یہ ہے کہ سب سے پہلے لاہور اور پھر پنجاب ہی ہے جومردہ مرغیوں اور گدھے کے گوشت سے پاک ہو رہا ہے ۔میرے وہ دوست جو اپنی محرومیوں اور تعصب کی بنیاد پر لاہور کو گدھے کے گوشت کے ساتھ جوڑتے ہیں وہ جان لیں کہ ہمارے پاس ایک فعال اور متحرک فوڈ اتھارٹی موجود ہے مگر ان کے پاس گدھے کے گوشت کی سپلائی روکنے کے لئے کون ہے ؟

مزید : کالم