پاناما کیس،پیپلز پارٹی کا فریق بن کر حکومت مخالف تحریک چلانے کا فیصلہ

پاناما کیس،پیپلز پارٹی کا فریق بن کر حکومت مخالف تحریک چلانے کا فیصلہ

لاہور (سٹاف رپورٹر) پاکستان پیپلز پارٹی نے سپریم کورٹ میں پانامہ کیس میں فریق بن کر حکومت مخالف تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے،تحریک انصاف کی طرف سے سپریم کورٹ میں پانامہ کیس پر کمزور وکالت پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اور آئندہ عام انتخابات سے قبل عوام میں اپنی پوزیشن بہتر کرنے کیلئے کھل کر حکومت مخالف کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس حوالے سے پارٹی کے ذرائع نے بتایا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے باقاعدہ لاہو ر میں ڈیرے ڈال لئے ہیں ۔ اس سلسلہ میں ہفتہ کے روز بلاول بھٹو نے پیپلز پارٹی کے قانونی ماہرین سے باقاعدہ مشاورت کی ،لطیف کھوسہ نے پیپلز پارٹی کی طرف سے پانامہ ایشو پر سپریم کورٹ جانے کا مشورہ دیا جبکہ اعتزاز احسن نے مخالفت کی ،بعض قانونی ماہرین نے علیحدہ درخواست دینے کا مشورہ دیا اور مضبوط وکلاء پینل کے ساتھ پانامہ کیس میں فریق بننے کا بھی کہہ دیا ، اس موقع پر آئین کی بعض شقوں پر بھی چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کو بریفنگ دی گئی ۔ذرائع کے مطابق قانونی ماہرین نے اس موقع پر چیئرمین بلاول بھٹو کو دوران بریفنگ پانامہ ایشو اور کرپشن کیسز پر سپریم کورٹ میں وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف کھل کر سپریم کورٹ میں کردار ادا کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہی سپریم کورٹ پیپلز پارٹی کے وزیراعظم یوسف رضاگیلانی کے خلاف تو فیصلہ دے سکتی ہے موجودہ وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف کیوں نہیں ،تحریک انصاف کاوکلاء پینل کمزور ہے اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اور خلا پر کرتے ہوئے ،پیپلز پارٹی کو مضبوط ماہرین قانون کے ساتھ سپریم کورٹ میں ضرور جانا چاہیے ۔بلاول بھٹونے آئندہ انتحابات سے قبل عوامی رابطہ مہم شروع کرنے کیلئے اس اقدام کو ضروری قرار دیا اور باقاعدہ حمایت کی ،صوبہ پنجاب کی نئی تنظیم سازی کے بعد پیپلز پارٹی نے اب پانامہ ایشو اور لندن فلیٹس کے حوالہ سے سپریم کورٹ میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے قانونی مشاورت مکمل کر لی ہے ، ذرائع کے مطابق پانامہ کیس کی آئندہ سماعت سے قبل قوی امکان ہے کہ پیپلز پارٹی بھی اس کیس میں اپنے وکلاء کے ساتھ سپریم کورٹ میں فریق بن سکتی ہے ۔واضح رہے کہ گزشتہ دنوں پیپلز پارٹی حکومت کے ساتھ کچھ خفیہ ڈیل کے تحت پانامہ ایشو کو پارلیمنٹ کے اندر نمٹانے اور پانامہ کے حوالہ سے پارلیمنٹ کے اندر قانون سازی پر زور دے رہی تھی تاہم اس حوالہ سے پیپلز پارٹی کے اراکین نے اسمبلی کے باہر دھرنا بھی دیا کہ ان کے چار نکات منظور کیے جائیں جن میں ایک پانامہ بل کی منظوری پارلیمنٹ سے دی جائے جسے عوامی طور پر خفیہ ڈیل قرار دیا جارہا تھا ۔اب بدلتے ہوئے سیاسی منظر کے پیش نظر مستقبل میں اتحابات سے قبل عوامی تائید و حمایت حاصل کرنے اور بطور اپوزیشن کا کردار کھل کر ادا کرنے کے لیے پیپلز پارٹی سپریم کورٹ میں پانامہ کیس پر جا سکتی ہے ۔

مزید : صفحہ اول