ٹرمپ کی سخت سکیورٹی پالیسی ،3حساس عہدوں پر اوبامہ مخالف افراد کی نامزدگی

ٹرمپ کی سخت سکیورٹی پالیسی ،3حساس عہدوں پر اوبامہ مخالف افراد کی نامزدگی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


واشنگٹن (اظہر زمان، بیوروچیف) نامزد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے دو اہم ترین عہدوں چیف آف سٹاف اور سینئر کونسل کا فیصلہ کرنے کے بعد اب مزید تین حساس عہدوں پر نامزدگی کا جو اعلان کیا ہے اس سے واضح اشارہ ملتا ہے کہ وہ آئندہ سخت گیر سکیورٹی پالیسی اختیار کریں گے۔ اس دوران ٹرمپ کی ٹیم نے وائٹ ہاؤس کی ٹیم کے ساتھ انتقال اقتدار کے بنیادی معاملات خوش اسلوبی سے طے کرلئے ہیں۔ گزشتہ روز نامزد صدر کے عاضی کیمپ آفس سے تین اہم عہدوں کے لئے نامزدگی کا اعلان کیا گیا تھا۔ جیف سیشنز اٹارنی جنرل، مائیک پومپیو سی آئی اے ڈائریکٹر اور جنرل مائیک فلین نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر بنائے جائیں گے۔ معلوم ہوا ہے کہ تینوں لیڈروں نے اپنی تعیناتی کو قبول کرلیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تینوں لیڈر دہشت گردی اور سکیورٹی کے معاملے میں صدر اوبامہ کی پالیسیوں سے شدید اختلاف رکھتے ہیں اور زیادہ سخت گیر رویہ اختیار کرنے کے حق میں ہیں۔ ٹرمپ مشتبہ دہشت گردوں اور خصوصاً مسلمانوں کی جانچ پڑتال کیلئے اعلانات کرتے رہے ہیں۔ اب انہوں نے اپنی ٹیم میں ایسے افراد کو شامل کیا ہے جو ان کی ایسی پالیسیوں پر عملدرآمد آسانی سے کرسکیں گے۔ دوسری طرف ڈیمو کریٹک اور شہری حقوق کے لیڈروں نے ان نامزدگیوں پر پہلے ہی سخت تنقید شروع کر دی ہے جبکہ ابھی سینیٹ میں ان کی توثیق ہونا باقی ہے۔
ٹرمپ

واشنگٹن(اے این این) نیو یارک کے اٹارنی جنرل ایرک شنائڈرمین نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر فعال 'ٹرمپ یونیورسٹی' سے متعلق تین قانونی مقدمات میں ڈھائی کروڑ ڈالر کی مفاہمت کر لی ہے۔ یہ مقدمات یونیورسٹی کے سابق طلبہ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف دائر کیے تھے جن کا دعوی تھا کہ مخصوص اساتذہ سے ریئل سٹیٹ بزنس کے راز سکھانے کے لیے ان سے 35 ہزار ڈالر وصول کیے گئے تھے لیکن انھیں کچھ بھی نہیں سکھایا گیا۔ڈونلڈ ٹرمپ ان الزامات سے انکار کرتے تھے اور انھوں نے ان مقدمات پر کبھی بھی مفاہمت نہ کرنے کا عہد کیا تھا۔نیویارک کے اٹارنی جنرل ایرک شنائڈرمین نے اس کیس پر سمجھوتہ کرنے کے ٹرمپ کے موقف کو حیران کن تبدیلی اور طلبہ کی بڑی جیت قرار دیا۔ٹرمپ کو اس معاملے میں جعل سازی کے تین قانونی مقدمات کا سامنا تھا جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ کیلی فورنیا اور نیویارک میں واقع ان کی یونیورسٹی نے طلبہ کو گمراہ کیا اور ان سے جو وعدے کیے گئے تھے انھیں پورا نہیں کیا گیا۔اٹارنی جنرل شنائڈرمین نے ایک بیان میں کہا: 'آج کا ڈھائی کروڑ ڈالر پر مبنی مفاہمت کا معاہدہ ڈونلڈ ٹرمپ کے موقف میں بڑی زبردست تبدیلی اور ان کی جعلی یونیورسٹی کے 600 متاثرین کے لیے بڑی جیت ہے۔ان کا کہنا تھا: 'ٹرمپ یونیورسٹی کے متاثرین کو آج کے نتیجے کا برسوں سے انتظار تھا اور میں خوش ہوں کہ ان کے صبر اور استقامت کو اس ڈھائی کروڑ ڈالر کے سمجھوتے سے نوازا جائے گا۔اس مقدمے کے تعلق سے ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی بار مسٹر شنائڈرمین پر بھی شدید نکتہ چینی کی تھی جنھوں نے اس کے لیے چار کروڑ ڈالر کا مطالبہ کیا تھا۔انھوں نے ٹرمپ یونیورسٹی کو اول تا آخر جعلی قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ادارے نے مجبور لوگوں کے ساتھ غلط وعدے کیے تھے۔ یہ یونیورسٹی 2010 میں بند کر دی گئی تھی۔اس سے متعلق تین مقدمات سنہ 2010 میں دائر کیے گئے تھے۔ اس میں سے دو سان تیاگو کی عدالت میں تھے جب کہ ایک نیو یارک میں۔ سان تیاگو کی ایک عدالت میں یہ کیس 28 نومبر سے شروع ہونے والا تھا تاہم اب فریقین نے آپس میں ہی حل کر لیا ہے۔مسٹر ٹرمپ کے وکیل نے عدالت سے کہا تھا کہ وہ انھیں اگلے برس کے اوائل تک کی مہلت دیں کیونکہ صدارتی امور کی منتقلی کے لیے انھیں وقت درکار ہے۔ وکیل نے عدالت کو یہ بھی بتایا تھا کہ انھوں نے معاملے کے حل کے لیے مذاکرات شروع کر دیے ہیں۔اس مقدمے کی سماعت جج گونزالو کیورئیل کو کرنی تھی جو فریقین پر اس بات کے لیے پر زور دیتے رہے تھے کہ اس معاملے کو عدالت کے باہر طے کر لیا جائے تو بہتر ہے۔لیکن ٹرمپ اس کے لیے تیار نہیں تھے اور ان کا اصرار تھا کہ وہ اس مقدمے کو قانونی طور پر لڑ کر کامیاب ہوں گے۔جون میں انھوں نے کہا تھا: 'میں ٹرمپ یونیورسٹی کیس جیتوں گا۔ جہاں تک میرا سوال ہے تو پہلے ہی جیت چکا ہوں۔ اگر میں چاہتا تو کیس حل ہوسکتا تھا لیکن میں ایسا نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔'اس مقدمے پر ہونے والے سمجھوتے سے واقف ایک ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ گر چہ ٹرمپ کا یہ فیصلہ ان کے پہلے کے موقف سے پوری طرح الٹا ہے لیکن پھر بھی اس کے تحت ہونے والے معاہدے میں ٹرمپ کوئی غلطی تسلیم نہیں کریں گے۔مسٹر ٹرمپ نے جج گونزالو کیورئیل پر بھی موروثی رنجش کا الزام عائد کیا تھا۔ جج کے والدین کا تعلق میکسیکو سے ہے اور اپنی صدارتی مہم کے دوران ٹرمپ نے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر دیوار تعمیر کریں گے۔ انھوں نے میکسیکو کے عوام کو مجرم اور قاتل اور ریپ کرنے والے والا کہا تھا۔
مفاہمت

مزید :

صفحہ اول -