لندن فلیٹس اور آف شور کمپنیوں کی تحقیقات کیلئے کمیشن بنایا جائے: سراج الحق

لندن فلیٹس اور آف شور کمپنیوں کی تحقیقات کیلئے کمیشن بنایا جائے: سراج الحق

اسلام آباد (آن لائن ) جماعت اسلامی پاکستان کے امیرسینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ پانامہ لیکس کی تحقیقات کیلئے کمیشن بنایا جائے تا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے، حکمران باہر جا کر سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہیں اور اپنا سرمایہ باہر بھیجتے ہیں، جب وزیر اعظم سے ہم پوچھتے ہیں کہ پاناما دبئی اور لندن لیکس کے پیسے کہاں سے آئے تو مجھے کہا جاتا ہے کہ آپ ثابت کریں، عدالتوں کا عجیب مسئلہ ہے اگر عدالتوں میں ہاتھی پیش کریں کہ یہ ہاتھی ہے تو عدالت کہتی ہے کہ ہے تو یہ ہاتھی لیکن آپ ثابت کریں ،حکومت چاہتی ہے کہ سب ایسے ہی چلتا رہے،اب ایسا نہیں چلے گا کہ گائے کو چارا ہم دیں اور دودھ مکھن اور لسی آپ پئیں ،حکومت ناکام ہو چکی ،حکومت نے عوام سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے، غلط حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے قرضے بڑھ گئے ہیں، سیاسی قائدین ترک صدر سے ملاقات کرنا چاہتے تھے ،نواز شریف نے ان کو اپنا خاندانی مہمان بنا کر ان کی حیثیت کو خراب کیا ،سیا لکوٹ میں غنڈوں نے ایک خواجہ سراء کی بے عزتی کی، جماعت اسلامی ہر مظلوم کا ساتھ دے گی،امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق ،جماعت اسلامی اسلام آباد کے نو منتخب امیر زبیر فاروق خان سے حلف لینے کے حوالے سے منعقدہ عوامی استقبالیے سے خطاب کر رہے تھے اس مو قع پرنائب امیر جماعت اسلامی پاکستان میاں محمد اسلم اوراسلام آباد کے نو منتخب امیر زبیر فاروق خان اور آل پاکستان تاجر اتحاد کے صدر محمد کاشف چو ہدری نے بھی خطاب کیا اجتماع میں خواتین نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ پاکستان میں وسائل کی کمی نہیں صرف غیر منصفانہ تقسیم کا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے اسلام آباد اور لاہور جیسے شہر بھی امیروں اور غریبوں میں تقسیم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب وزیر اعظم سے ہم پوچھتے ہیں کہ پاناما دبئی اور لندن لیکس کے پیسے کہاں سے آئے تو مجھے کہا جاتا ہے کہ آپ ثابت کریں،انہوں نے کہا کہ کہتے ہیں کہ پاناما میں فراڈ تو ہوا ہے اور ملک سے روپیہ بھی منتقل ہوا لیکن آپ ثابت کریں آپ پاناما جا کر کاغذات لائیں اور ہمارے سامنے پیش کریں میں کہتا ہوں کہ اسکے لیے کمیشن بنایا جائے نیب اور ایف آئی اے کس مرض کی دوا ہیں کمیشن تحقیقات کرے۔ انہوں نے کہا کہ لندن فلیٹس اور پاناما آف شور کمپنیوں کا پیسہ کہاں سے آیا وزیر اعظم نے تین بار خطاب میں کہا کہ میں اور میرا خاندان احتساب کے لیے حاضر ہیں اگر حاضر ہیں تو کمیشن بنایا جائے تا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہماری سیاست پر لندن کی سازشوں کا اثر ہے، ہمارے حکمران باہر جا کر سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہیں اور اپنا سرمایہ باہر بھیجتے ہیں جبکہ حکمرانوں کے بچے ہمارے بچوں کے ساتھ پڑھنا بھی گوارا نہیں کرتے مگرہمیں موقع ملا تو ایسے ہسپتال بنائیں گے کہ اگر وزیر اعظم کو دل کی تکلیف ہو تو اسے علاج کے لیے لندن نہ جانا پڑے۔

مزید : صفحہ آخر