کیا ترکی نے واقعی نریندر مودی کی ڈاک ٹکٹ جاری کی ؟حقیقت سامنے آ گئی

کیا ترکی نے واقعی نریندر مودی کی ڈاک ٹکٹ جاری کی ؟حقیقت سامنے آ گئی
کیا ترکی نے واقعی نریندر مودی کی ڈاک ٹکٹ جاری کی ؟حقیقت سامنے آ گئی

  

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی نت نئی ’’ورائٹی‘‘ کے باعث ہمیشہ ہی خبروں میں رہتے ہیں۔ سیلاب زدہ علاقوں کے دورہ کی فوٹو شاپ شدہ تصاویر ہوں یا پھر غیر ملکی لیڈروں کے ساتھ ملاقات کا انداز، مضحکہ خیز سیلفیاں ہوں یا پھر گوگل پر ان کی ’تعریف‘، کوئی نہ کوئی معاملہ بھارتیوں کیلئے شرمندگی کا باعث بنا ہی رہتا ہے اور اب ایک اور ایسا واقعہ سامنے آیا ہے جس کے باعث بھارتی پیچ و تاب کھانے میں مصروف ہیں۔بھارت میں سوشل میڈیا ایپلی کیشنز پر ایک میسج بہت زیادہ پھیلایا جا رہا ہے جس میں نریندر مودی کی تصویر والا ڈاک ٹکٹ موجود ہے اور اس کے نتیجے لکھا ہے کہ ’’نریندرا مودی، جمہوریہ بھارت کے وزیراعظم۔‘‘ اس تصویر کے ساتھ جو پیغام بھیجا جا رہا ہے وہ کچھ یوں ہے کہ ’’ فخر کا لمحہ! ترکی نے اس وقت دنیا کے سب سے بہترین اور بڑے لیڈر نریندرا مودی کے اعزاز میں ڈاک ٹکٹ جاری کیا ہے۔ ہر بھارتی کو اس پر فخر محسوس کرنا چاہئے۔‘‘جب یہ پیغام پھیلنا شروع ہوا تو بھارتی پھولے نہیں سمائے اور خوش فہمی میں مبتلا ہو گئے کہ واقعی ان کے وزیراعظم کو دنیا کا بہترین لیڈر تسلیم کر لیا گیا ہے لیکن اب اصل حقیقت سامنے آ گئی ہے جسے جان کر ہر بھارتی نریندرا مودی کے بارے میں بہت کچھ کہنے میں مصروف ہے اور بالخصوص بھارتی میڈیا کو تو آڑے ہاتھوں لے رکھا رہے۔حقیقت کچھ یوں ہے کہ ترکی نے G20 سمٹ کے موقع پر اس میں شریک تمام ممالک کے سربراہان کے اعزاز میں ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ ان میں ہی ایک ٹکٹ نریندرا مودی کی تصویر والا بھی ہے جس کی قیمت 2.80 ترکش لیرا ہے۔ یہ ڈاکٹ ٹکٹ ترک صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے G20 سمٹ میں شریک رہنما?ں کو پیش کئے گئے جس کے بارے میںG20 کے آفیشل سوشل میڈیا پیج پر بھی بتایا گیا۔ذرائع کے مطابق یورپین یونین اور دنیا کے 19 بڑے اور طاقتور ترین ملکوں کے سربراہان سمیت کل 33 سربراہوں کی تصاویر والی ڈاک ٹکٹ جاری کی گئیں اور وزیراعظم نریندرا مودی نے بھی 15 اور 16 نومبر کو اس سمٹ میں شرکت کی تھی۔ اس سمٹ میں امریکی صدر براک اوباما، روسی صدر ولادی میر پیوٹن، چینی صدر شی جن پنگ، برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون، آسٹریلوی وزیراعظم میلکولم ٹرن بال، برازیلی صدر ڈیلما روسیف، کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈیو، جرمن چانسلر اینجلا میرکل، جاپانی وزیراعظم شینزوابے اور یورپین کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک بھی شریک تھے۔ذرائع کے مطابق اگرچہ اس سمٹ میں فرانسیسی صدر فرینکوئس ہولینڈ نے پیرس میں قتل و غارت کے واقعے کے باعث شرکت نہیں کی تھی لیکن اس کے باوجود ان کے اعزاز میں بھی ڈاک ٹکٹ جاری کیا گیا تھا۔

مزید : صفحہ آخر