عمران خان کرکٹ ٹیم کے نہیں، سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں، رویہ بدلنا ہوگا

عمران خان کرکٹ ٹیم کے نہیں، سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں، رویہ بدلنا ہوگا
عمران خان کرکٹ ٹیم کے نہیں، سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں، رویہ بدلنا ہوگا

  


تجزیہ:چودھری خادم حسین:

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ان دنوں برطانیہ میں ہیں، ان کے اپنے بقول وہ یہاں اپنے دوست کی ہمشیرہ کی شادی میں شرکت اور صاحبزادوں سے ملنے آئے ہیں، لیکن سیاست دان ہیں، سیاست سے باز کیسے رہ سکتے ہیں۔ گزشتہ روز مانچسٹر میں ایک تقریب سے خطاب کیا۔ دیگر باتوں کے علاوہ انہوں نے خود اپنی شادی کے حوالے سے بہت سی باتیں کیں۔ الیکٹرونک میڈیا کے مطابق انہوں نے کہا ’’مجھ سے شادی کے بارے میں کوئی مشورہ نہ لے کہ میرا ٹریک ریکارڈ بڑا خراب ہے۔ اس کے علاوہ وہ کہتے ہیں ’’اب تیسری کی باری ہے۔ آنے والی ہے۔ اس سلسلے میں ہمیں یاد ہے کہ ان کی تیسری شادی ہی کے حوالے سے خبر پر ایک چینل کو پیمرا نے ایک لاکھ روپے جرمانہ کیا اور معذرت پر مجبور کیا۔ عمران خان نے خود بھی برا منایا لیکن اب وہ اپنے نہیں گوروں کے دیس اور اپنے سابق سسرال میں ہیں اس لئے شادی پر بات کرنے سے گھبرائے نہیں البتہ شرمائے ضرور ہیں۔ جی ہاں چینل والے کہتے ہیں کہ وہ شرما گئے۔

ہمارا سوال یہ ہے کہ دنیا کے سیاسی اور عوامی دستور کے مطابق سیاسی راہنما کا اپنا کچھ نہیں ہوتا اور وہ عوام کے سامنے ہر بات کے لئے جواب دہ ہوتا ہے۔ اور پھر اگر محترم عمران خان خود ہی کنٹینر پر کھڑے ہو کر دوسری اور پھر تیسری شادی کا بھی اعلان کریں تو اس پر تبصرے کون سا جرم ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ کہیں بھی اورپھر نشر اور شائع بھی ان کی مرضی کے مطابق ہو۔ وہ خود جس کسی کو جو جی چاہے کہیں اگر کوئی دوسرا کہے تو وہ بے شرم ہے۔ ہماری درخواست ہے کہ وہ اپنا رویہ تبدیل کریں وہ کرکٹ ٹیم والے کپتان نہیں۔ سیاست کے کھلاڑی ہیں اور ’’یہاں پگڑی اچھلتی ہے، اسے مے خانہ کہتے ہیں۔‘‘

بہر حال یہ ذکر خود ان کے اپنے کہے کے مطابق آ گیا ورنہ خبر تو یہ ہے کہ محترم حامد خان نے تنقید سے گھبرا کر پاناما کیس کی وکالت سے معذرت کر لی ہے، ان کے بقول ان کی کارکردگی پر تنقید کی گئی اور پھر اسے میڈیا تک لایا گیا وہ مزید کہتے ہیں ’’میں جج حضرات کے سوالات کے جواب تو دے سکتا ہوں، میڈیا سے نہیں لڑ سکتا، مجھ پر بے جا تنقید کی گئی میں نے بڑے بڑے ہائی پروفائل مقدمات کی پیروی کی ہے۔ یوں بھی اب یہ کیس آخر میں ہے اور بحث باقی ہے۔‘‘

اب دوسری صورت یہ ہے کہ حامد خان کی جگہ کسی دوسرے وکیل کو یہ ذمہ داری دی جائے تو اس کے لئے ڈاکٹربابر اعوان حاضر ہیں جنہوں نے اپنی خدمات پیش کر بھی دی ہیں، تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے کئی اراکین پہلے ہی حامد خان کے خلاف الزام لگاتے ہوئے بابر اعوان کی تائید کر چکے ہیں جو ایک دوسرے کیس میں عمران خان کی پہلے ہی پیروی کر رہے ہیں۔ یہ بھی خبر نشر کی گئی کہ عمران خان اس سلسلے میں خود فیصلہ کریں گے اور چودھری اعتزاز احسن سے بھی رجوع کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ہمارا ذاتی اندازہ یہ ہے کہ عمران خان نے چودھری اعتزاز احسن سے کہا بھی تو وہ شاید معذرت کر لیں کہ ان کا یہ اپنا انداز ہے۔ وہ اپنی پارٹی کو بھی دیکھیں گے۔ موقف کی تائید یا اس سے متعلق موافق گفتگو اور بات ہے۔ وہ مشورہ بھی دے سکتے ہیں لیکن موجودہ حالات میں شاید یہ بوجھ نہ اٹھائیں کہ ان کی جماعت عدالت عظمیٰ سے رجوع کرنے کے خلاف ہے ورنہ وہ خود درخواست دہندہ ہوتے۔

یہ سب اپنی جگہ اب تو پیپلزپارٹی بھی فرینڈلی اپوزیشن کے کردار کو چھوڑ کر صحیح جمہوری حزب اختلاف کا کردار اپنانے جا رہی ہے۔ بلاول بھٹو زر داری کے چار مطالبات پر زور دیا جارہا ہے، اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی برسی( 27 دسمبر) پر تحریک کا اعلان کرنے کی بات کی گئی ہے کہ لانگ مارچ بھی ہوسکتا ہے ، اس سب سے سیاسی استحکام متاثر اور انتشار کی کیفیت موجود ہے تحریک انصاف تو وزیر اعظم محمد نواز شریف کو وزیر اعظم ہی نہیں مانتی جبکہ پیپلز پارٹی جمہوریت کی بقا کی حمائتی ہوتے ہوئے تحریک چلانے کی بات کررہی ہے، اس سلسلے میں کچھ فرائض سرکاری پارٹی یعنی مسلم لیگ (ن) اور اس کی قیادت کے بھی ہیں کہ وہ حالات کو سنوارنے کی کوشش کریں۔

ہم نے ان سطور میں بھارتی وزیر اعظم کی بد نیتی اور تعصب کا ذکر کرتے ہوئے عرض کیا تھا کہ وہ ایسے حالات پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان جنگ پر مجبور ہو اور ان کی طرف سے الزام لگایا جاسکے تاکہ پاکستان سمیت دنیا بھر کی توجہ تنازعہ کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی طرف سے ہٹ جائے اس حوالے سے کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے، ان کے وزیر دفاع ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی دیتے ہیں، حالانکہ ان کو پاکستان کی صلاحیت کا بھی علم ہے، اسی حوالے سے بھارتی بحریہ کی طرف سے اب سمندری حدود کی بھی خلاف ورزی کی گئی، اس کی ایٹمی آبدوز پاکستان کی حدودمیں چوری چھپے گھس رہی تھی شاید کسی کارروائی یا پھر کچھ تخریب کار بلوچستان کے ساحل پر اتارنا چاہتے تھے لیکن پاک بحریہ کی بروقت کارروائی نے آبدوز کو واپس بھاگنے پر مجبور کردیا، آبدوز ہماری بحریہ کی زد میں تھی اسے تباہ بھی کیا جاسکتا تھا، لیکن پاک بحریہ نے اسے اپنی حدود سے باہر نکلنے پر ہی اکتفا کیا، اور اسے نقصان نہیں پہنچایا، یہ بھی ایک بہتر حکمتِ عملی ہے کہ دشمن کو خبر دار تو کردیا کہ ہم غافل نہیں اور ہر حربے کا جواب دے سکتے ہیں، لیکن کوئی ایسا جواز نہیں بننے دیا کہ بھارت کا متعصب وزیر اعظم مودی الزام تراشی کرسکے، بہر حال پاک فوج کو سلام کہ جس نے اپنی سرحدوں کے دفاع کے لئے بے شمار قربانیاں دیں، اللہ نے فتح انہی کے نصیب میں لکھی ہے، ہمیں انپے اندر استحکام اور یکجہتی پیدا کرنا ہوگی۔

مزید : تجزیہ