ملتان کے وکلاء کا چیف جسٹس پنجاب کے استعفیٰ تک تحریک جاری رکھنے کا اعلان

ملتان کے وکلاء کا چیف جسٹس پنجاب کے استعفیٰ تک تحریک جاری رکھنے کا اعلان

ملتان ( خبر نگار خصوصی ) ملتان کے وکلاء نے احتجاجی اجلاس میں آنے والے جسٹس صاحبان کی یقین دھانیوں کے باوجود چیف جسٹس پنجاب کے استعفیٰ تک تحریک جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے گزشتہ روز ڈسٹرکٹ بار میں منعقدہ مشترکہ احتجاجی اجلاس منعقد ہوا جس سے وکلاء رہنماؤں نے خطاب کیا اور علیحدہ صوبہ،خود مختار ہائی کورٹ منتقل کئے گئے مقدمات کی ملتان بنچ پر واپسی اور ملتان بنچ کے اندر معمولات کار کو علاقہ کے حساب سے تقسیم کرکے بنچ کی تشکیل کے خاتمے کا مطالبہ کیا اور اجلاس کے دوران جنوبی (بقیہ نمبر8صفحہ12پر )

پنجاب(ملتان)سے ہائی کورٹ میں مقرر کئے جانے والے جسٹس محمد قاسم خان،جسٹس محمد امیر بھٹی،جسٹس امین الدین خان اور جسٹس سید شہباز علی رضوی اچانک کسی شیڈول کے بغیر پہنچ گئے اور وکلاء4 سے مفاہمتی گفتگو کے بعد سٹیج پر آکر جسٹس محمد قاسم خان نے کہا کہ گورنر پنجاب نے مدلل انداز میں چیف جسٹس کے سامنے آپکا کیس پیش کیا ہے اور فوری بھر پور کارروائیء کا تقاضا کیا ہے بنچز کے اندر بنچ والے مطالبے کو ایک یا دو ہفتے میں مکمل کرکے ختم کر دیا جائے گا چیف جسٹس سے رابطہ اور تعلق کے فقدان نے آج کی فضا پیدا کر دی ہے ،وکلاء ججز کے سروں کا تاج ہیں،ججوں کی کمیٹی بنائی جائے گی جو صرف ملتان کے مسائل کے حل کیلئے کارروائی کرے گی لاہور میں وکلاء ہڑتال کے باوجود پیش ہوتے ہیں جسٹس محمد امیر بھٹی نے کہا کہ وہ اپنی آبائی بار میں آکر تعاون کی یقینی توقع رکھتے ہیں صوبہ اور علیحدہ ہائی کورٹ کی بات پر آپ وکلاء قائم رہیں اور ججز آپکی تکلیف کا ازالہ کرنے آپکے پاس آئے ہیں اپکے ساتھ زیاتی نہیں ہونے دینگے آپ کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کو ہم بھی برداشت نہیں کرینگے،جسٹس سید شہباز علی رضوی نے کہا کہ ہم جج ہونے سے پہلے ساری عمر بار کا سرگرم حصہ رہے لہذابار کا وقار اور عزت کے خلاف کوئی مفاہمت پیش نہیں کریں گے لیکن آج میزبانی کے آچاب کا تقاضا اور مطالبہ کرینگے اس کے بعد سٹس امین الدین خان مائیک پر آنیھ لگے تو وکلاء کی نعرے بازی اور شور کے بڑھ جانے کی وجہ سے تقریر نہ کر پائے قبل ازیں اجلاس سے ہائی کورٹ بار کے صدر نے خطاب میں کہا کہ ہم نے مطالبات انکے سامنے رکھے ہیں جو حل کرنے کا اختیار رکھتے ہیں جو وکیل کی عزت کی چیلنج کرے اسکی اتھارٹی کسی طور نہیں مانیں گے ملتان بار کے صدر عظیم الحق پیرزادہ نے کہا کہ ججز کے اجلاس میں آنے شکر گزار ہیں اورملتان کے استحصال کا دکھ مشترکہ ہے وکلاء علیحدہ صوبہ سے کبھی دستبرادر نہیں ہونگے ججزہمارے وسیب کی آواز ہیں سابق صدر ہائی کورٹ بار سید اطہر علی شاہ بخاری نے کہا کہ ملتان ست مقرر ہونے والے ججز دراصل ملتان کا اثاثہ اور حقوق کے محافظ ہیں وکلاء ہڑتال اور احتجاج کا حق کسی کو چھینے نہیں دینگے۔بار کے ممبر نشید عارف گوندل نے کہا کہ اب وکلاء کی تحریک سے وسیب کا پر نوجوان جاگ اٹھا ہے شمس القمر خٹک نے کہا کہ اب علیحدہ صوبہ ہی وکلاء کی منزل ہے شیرزمان قریشی نے کہا کہ عہدیدار مصلحتوں کا شکار ہورہے ہیں آئندہ فیصلے جنرل باڈی کیا کرے ،ریاص الحسن گیلانی نے کہا کہ استحصال کی بدترین فضا میں جشن نہیں منانے دینگے راؤ محمد امجد نے کہا کہ بار کے لیڈر جو فیصلہ کرینگے وہ قبول کیا جائے گا۔

اعلان

مزید : ملتان صفحہ آخر